Global Editions

2 نیوز راؤنڈ اپ

 

1 – دنیا بھر کے سو سے زائد سائنسدانوں نے کہا ہے کہ zika وائرس کے با عث برازیل کے شہر ریو میں ہونے والے بین الا ا قوامی اولمپکس کا مقام تبدیل کر دیا جائے۔ سائنسدانوں نے عالمی ادارئہ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ zika وائرس کے بارے میں نئی دریافت کے بعد ان کھیلوں کو جاری رکھنا منا سب نہ ہو گا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ zika وائرس سے حمل کے دوران بچوں میں نقائص پیدا ہو سکتے ہیں۔ مزید پڑ ھیں

2 –۔ نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی NUST کے طلباء نے پہلی الیکٹرک کار تیار کر لی ہے۔ جو کہ امریکا میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی مقابلے میں حصہ لے گی۔ برقی توانائی سے چلنے والی کارتیا ر کر نے والے پا کستانی طلبا کا کہنا ہے کہ یہ کار 100کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہے۔ اس کار کو مکمل طورپرپاکستان میںتیارکیاگیاہے۔

3 – چینی صنعتوں میں روبوٹس سے کام لینے کے رجحان میںدن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایپل اور سامسنگ جیسی بڑی کمپنیوں کو آلات سپلائی کرنے والی معروف انفارمشن ٹیکنالوجی کمپنی فاکس کو ن نے اپنی فیکٹری کے 60ہزار ملازمین کو فارغ کر کے ان کی جگہ روبوٹس سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔ اوکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 تک 35فیصد نوکریاں روبوٹس کے آنے سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ روبوٹس انسان کی نسبت زیادہ تیز رفتاری سے کام کرتے ہیں۔ کم خرچ میں زیادہ کام کرتے ہیں۔ مزید پڑ ھیں

4 – حرمین شریفین کے نگران ادارے نے مسجد الحرام میں روز مرہ کی بنیاد پر سیکیورٹی چیکنگ کے لیے سائبر سسٹم نصب کرنے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ سسٹم مسجد الحرام کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر نصب کیا جائے گا۔ تاکہ زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنانے کے ساتھ رش کو کم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ عملے کو بھی اپنے فرائض سر انجام دینے میں آسانی رہے ۔ مزید پڑ ھیں

5 –۔ صو با ئی دارلحکومت لاہور میں انفارمشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کا سفر جاری ہے یہاں 29نئی کمپنیوں میں 3سے 5لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس ترقی کی سب سے بڑی وجہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ، پلان ایکس ، پلان نائین اور لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز کے سنٹر آف انٹرپرینیورشپ جیسے انکیوبیٹرز ہیں۔ ان انکیوبیٹرز میں ٹیکنالوجی سے متعلق آئیڈیاز رکھنے والے نوجوانوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ انہیں تکنینکی اور مالی مدد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

Authors

*

Top