Global Editions

نفسیاتی بیماریوں کے علاج کےلئے بندروں کی تخلیق

چین کے سائنسدانوں نے جنیٹنگ انجئینرنگ کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ایسے بندر تخلیق کئے ہیں جو آٹزم Autism (ایک نفسیاتی بیماری ہے جس میں مریض بچگانہ خیالی پلائو پکاتا رہتا ہے) کے مرض میں مبتلا ہیں۔ چینی سائنسدانوں کے اس تجربے نے ایک مرتبہ پھر ایسے تجربات کے اخلاقی اور عملی پہلوئوں پر بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ شنگھائی کے انسٹیٹیوٹ آف بائیولوجیکل سائنسز کے نیورو سائنسٹسٹ ژی لونگ کیو (Zilong Qiu) کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے جنیاتی خامی کے حامل ایسے12 بندر تخلیق کئے ہیں جن میں آٹزم کے مرض کے آثار موجود ہیں۔ اس مرض کے حامل مریضوں میں کئی ذہنی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں جن میں محدود دلچسپی کے امور کا ہونا، بولنے میں دشواری یا بار بار ایک ہی جملہ بولنا، چکر کاٹنا وغیرہ شامل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف امریکہ میں 68 بچوں میں سے ایک آٹزم کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے اور یہ شرح بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر ژی لونگ کیو کے مطابق تخلیق شدہ بندروں میں بھی آٹزم کی کئی علامات موجود ہیں وہ ایک دائرے میں چکر کاٹتے رہتے ہیں، ایک دوسرے سے زیادہ رابطہ نہیں رکھتے، ان کا رویہ خوفزدہ رہنے والوںؓ جیسا ہے، اگر تحقیق کار ان کی آنکھوں میں جھانکیں تو وہ ڈر جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کیو کے مطابق بندر شدید بیمار ہیں اور انہں ایکو پرابلم بھی ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق بندر آٹزم کی ویسی ہی علامات ظاہر کر رہے ہیں جیسی کہ انسانوں میں ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر کیو نے اس کا انکشاف ایک کانفرنس میں کیا جس میں ڈاکٹر کیو کا ماننا تھا کہ ان کی ٹیم نے ایک ایسا اچھوتا ماڈل تیار کیا ہے جس سے آٹزم کے مریضوں کے علاج میں مدد ملے گی کیونکہ بندروں پر ہونے والے تجربات مرض کی وجوہات جاننے اور اس امر کا تعین کرنے میں مددگار ثابت ہونگی کہ دماغ کے حصے کس طرح اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں۔ آٹزم پر تحقیق نئی بات نہیں برسوں سے چوہوں پر اس طرح کے تجربات ہو رہے ہیں تاہم چوہوں کے دماغ کی ساخت انسانی دماغ کی ساخت سے مختلف ہوتی ہے اس لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ انسانی دماغ سے ملتے جلتے دماغ کے حامل جانوروں پر تجربات کئے جائیں اور اسی لئے جنیٹنگ انجئینرنگ کی تکنیک سے مدد لیتے ہوئے ایسے بندر تخلیق کئے گئے جو جنیاتی اعتبار سے اس مرض کے حامل تھے۔ ڈاکٹر کیو کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ان تخلیق شدہ بندروں کا علاج جدید طریقہ CRISPR کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں تاہم وہ چاہتے ہیں کہ ان بندروں پر تجربات جاری رہیں۔ دوسری جانب چند سائنسدانوں نے چین میں ہونے والے حالیہ تجربات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ناقدین جن میں بیلر (Baylor) کالج آف میڈیسن کی ہدا زوگہابی (Huda Zoghbi) کا کہنا ہے کہ بندروں میں موجود آٹزم کی علامات انسانوں میں موجود علامات سے مطابقت نہیں رکھتیں، مثال کے طور پر انسان بندروں کی طرح دائرے میں چکر نہیں لگاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا کہ انسانوں اور بندروں میں اس مرض کے حوالے سے چند علامات یکساں ہوں تاہم متعدد علامات میں یکسانیت نہیں۔

autistic.monkeys.2x299

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top