Global Editions

میجک لیپ کی مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کے میدان میں خفیہ سرگرمیاں

کیا اضافی(Augmented)رئیالٹی پر کام کرنیوالی کمپنی میجک لیپ (Magic Leap) روبوٹس کیلئے مصنوعی ذہانت کی تیاری پر خفیہ انداز سے کام جاری رکھے ہوئے ہے؟اس حوالے سے اگرچہ کمپنی کی جانب سے تو کچھ نہیں کہا گیا لیکن کمپنی کی جانب سے کیلیفورنیا کی ڈسٹرکٹ عدالت میں دو سابق ملازمین کے خلاف قانونی دعویٰ اس راز سے کچھ کچھ پردہ اٹھا رہا ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ اپنے سابق نائب صدر گرے براڈسکی (Gary Bradski)اور انکے ایک اورساتھی کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ گرے برادسکی مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کے شعبے سے وابستہ تھے اور انہیں اس شعبے میں کام کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ دعویٰ میں کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ کمپنی میں ایسے عہدے پر فائز تھے جہاں انہیں کمپنی کی جانب سے ایسے منصوبوں سے واقفیت حاصل تھی جن پر کام جاری ہے اور انہیں ابھی تک اوپن نہیں کیا گیا۔ یہ منصوبے مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کے حوالے سے بھی ہوسکتے ہیں۔ میجک لیب نے حال ہی میں Augmentedرئیالٹی کیلئے ایک ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ داری حاصل کی تھی اور کہا تھا وہ اس مقصد کیلئے ایسا ہیڈسیٹ تیار کریگی جو ڈیجٹیل اورimagery یعنی قوت متخیلہ ( یہ صوتی، حرکی، بصری، لمس اور قوت شامہ سے متعلق استعارات کے لئے استعمال ہوتی ہیں) اس ٹیکنالوجی کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ورچوئل رئیالٹی سے اگلی جہت ثابت ہوگی۔ کمپنی کی جانب سے نہ تو ہیڈ سیٹ متعارف کرایا گیا ور نہ اس کیلئے تیار کی جانیوالی ٹیکنالوجی کے بنیادی خدوخال کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کمپنی کی جانب سے ایک مبہم بیان سامنے آیا تھا کہ وہ Augmentedرئیالٹی کیلئے ایک Optical Chipتیار کررہی ہے جو سلیکون سے تیارکی جائے گی اور اس کی مدد سے Augmnentedرئیالٹی سے لطف اندوز ہوا جاسکے گا۔ میجک لیپ کی ترجمان جولیا یگز نے کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت اور روبوٹس کی تیاری کے حوالے سے کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا۔ تاہم انہوں نے سابق سینئر نائب صدر اور ایک دوسرے سابق ملازم کیخلاف دعویٰ دائر کرنے کی تصدیق کی۔

تحریر: ریچل میٹز (Racher Metz)

Read in English

Authors

*

Top