Global Editions

موسیقی کے ذریعے جسم کے درد کی شدت میں کمی ممکن

تحقیق کاروں کا یہ ماننا ہے کہ اگر ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے موسیقی سنی جائے تو یہ تجربہ جسم کے کسی حصے میں ہونے والی تکلیف کی شدت کو کم کرنے کے لئے کافی ہے۔ چاہے یہ تکلیف کسی زخم کی وجہ سے ہو یا دانتوں کے علاج کےلئے ڈینٹسٹ کے پاس جانے کے باعث ہوئی ہو۔ حال ہی میں ہونے والی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ رفع درد کےلئے مختلف ادویات استعمال کرنے کے بجائے ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے موسیقی بجانا کےلئے ایک موثر اور طاقتور متبادل ہے۔ برطانیہ کے علاقے یارک York کی سینٹ جان یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ورچوئل رئیالٹی کو رفع درد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کاروں نے اپنی تحقیق کےلئے بالغ افراد کےایک گروپ کی مدد لی اور انہیں بتایا کہ وہ ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہونے کےلئے اوکولس ہیڈ سیٹ پہنیں اور گیم کھیلتے ہوئے ایک ہاتھ یخ بستہ پانی میں اس وقت تک رکھیں جب تک انہیں آسانی رہے۔ اس گروپ میں آدھے افراد میوزک والے اور باقی آدھے سادہ اوکولس ہیڈ سیٹ پہنے ہوئے تھے۔ اس تجربے کے نتائج سے تحقیق کاروں کو معلوم ہوا کہ جو گروپ میوزک والے ہیڈ سیٹ پہنے ہوئے تھا اس نے یخ بستہ پانی میں بغیر کوئی تکلیف محسوس کئے 79 سیکنڈ تک ہاتھ رکھا۔ جبکہ بغیر میوزک والے اوکولس ہیڈ سیٹ استعمال کرنے والوں نے پانی میں صرف 56 سیکنڈ تک ہاتھ ڈالے رکھا۔ سینٹ جان یونیورسٹی کے سینئر لیکچرار میٹ کوکسون (Matt Coxcon) کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج توقعات سے بڑھ کر ملے ہیں۔ ابتدائی طور پر اس تحقیق سے اس امر کا اندازہ لگانا مقصود تھا کہ کیا ورچوئل رئیالٹی کی مدد سے Pain Management کی جا سکتی ہے اگر ہاں تو کس حد تک۔ حالیہ تجربے کے بعد کوکسون اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ سام سنگ اور اوکولس ہیڈ سیٹ مارکیٹ میں آنے سے اب اس کا استعمال زیادہ وسیع پیمانے پر ہوگا اور نت نئ تحقیقات ممکن ہو سکیں گی۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن کے پروفیسر آف انستھیزیا اینڈ پین مینجمنٹ سام شاہرار (Sam Sharar) کا کہنا ہے کہ تکلیف کے دوران توجہ بٹانے سے تکلیف کی شدت میں وقتی کمی ضرور محسوس ہوتی ہے اور یہ ایک حقیقت ہے تاہم ورچوئل رئیالٹی کس طرح رفع درد میں معاون ثابت ہو سکتی ابھی کہنا مشکل ہے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors

*

Top