Global Editions

موسمیاتی تبدیلیوں سے سمندری حیات کو شدید خطرات

سمندری درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے اور موسمی تغیرات کا سبب بننے والے ہوا کے دبائو جسے عرف عام میں الینو فیکٹر El Niño کہا جاتا ہے ،اس کے باعث سمندری حیات اور افزائش کا سبب بننے والے عوامل تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں اور اس عالمی خطرے سے بچائو کی کوششیں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ سمندری درجہ حرارت میں اضافے کے باعث کورل ریفس Coral Reefs ( کورل دراصل مونگے اور مرجان کے ساتھ ساتھ ڈھانچہ بنانے والے ہوا پسند حیوان کو کہا جاتا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے جیلی جیسے بحری حیوانات چونے جیسا مادہ خارج کرتے ہیں جو ڈھانچہ تشکیل کرتا ہے۔ ان کا لاروا ابتدا میں سمندر میں کسی چٹان سے چیک جاتا ہے۔ اس میں سے ایک نیالا روا نکل آتا ہے۔ جب پہلا لاروا مر جاتا ہے تو نیا لاروا اس کے ڈھانچہ سے چپک جاتا ہے اور نشوونما پاتا رہتا ہے۔ چنانچہ کورل کی تہہ بنتی چلی جاتی ہے۔ انہیں کورل ریفس کہتے ہیں۔ استوائی خطے کے گرم پانیوں میں خوب پنپتا ہے۔) تیزی کے ساتھ متاثر ہو رہے ہیں اس کے ساتھ آسٹریلیا کے ساحلی علاقوں میں موجود بڑی چٹانوں کا رکاوٹی سلسلہ( Great Barrier Reef ) بری طرح کورل بلیچنگ سے متاثر ہو رہا ہے۔ کورل بلیچنگ کا عمل اس وقت وقوع پزیر ہوتا ہے جب سمندر کے گرم پانیوں کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے اور اس کے سبب کورل چٹانیں اپنے اس مخصوص عنصر کو خارج کر دیتی ہیں جو انہیں اکسیجن اور دیگر غذائی اجزاء فراہم کرتا ہے۔ موسمی تغیرات کے ان عوامل کے باعث بحری بائیولوجیسٹ مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ ان کورل ریفس کو بچانے اور ان کی افزائش کے لئے کردار ادا کریں اور دنیا کو اس خطرے سے آگاہ کریں جو موسمی تبدیلیوں کے باعث سب کو درپیش ہے۔ اس حوالے سے ایک تحقیقی مقالہ موقر جریدے اینوائرمینٹل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ہوا ہے جس میں اس مسئلے کے حل کے لئے ایک سادہ حل تجویز کیا گیا ہے تاکہ سمندر میں موجود کورل ریفس کو بچایا جا سکے۔ مقالہ تحریر کرنے والے کے مطابق یہ ایک سادہ تکنیک ہے جس کے تحت سمندری پانیوں میں اکسیجن کے بلبلے چھوڑے جائیں اور اس تکنیک کی مدد سے ساحلی پانیوں سے کاربن ڈائی اکسائیڈ کی مقدار اور سمندر میں پائی جانیوالی تیزابیت کم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح دیگر سائنسدان جن میں کورل ریسٹوریشن فائونڈیشن کے کین نیڈی مئیر (Ken Nedimyer) کورل کو نرسریز میں پروان چڑھانے کی انتھک کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی بعد ازاں پیوندکاری کی جا سکے۔ اسی طرح آسٹریلین انسٹیٹیوٹ آف میرین سائنسز اور یونیورسٹی آف ہوائی بھی اوشن چیلنج فائونڈیشن کے تعاون سے ایک مشترکہ منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ کئی دیگر ادارے بھی سمندری درجہ حرارت میں کمی اور سمندری حیات کے تحفظ کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک کی جانیوالی کوششیں geoengineering ہیں اور ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کوششوں کے نتائج کیسے ہونگے۔ سمندری نظام اور ایکو سسٹم کے لئے کورل ایک اہم جزو ہیں اور انسانی زندگی کی بقاء بھی اسی پر ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق انسانی غذا میں شامل 17 فیصد پروٹینز صرف سمندری حیات جن میں مچھلیاں شامل ہیں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ لہذا ان ریفس کو بچانا انسانی زندگی کے لئے بھی ضروری ہے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors

*

Top