Global Editions

موبائل ڈیٹا کی حفاظت

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس آپکے موبائل فون میں محفوظ ڈیٹا تک رسائی کےلئے بہت سے راستے موجود ہیں چہ جائیکہ آپ نے موبائل فون ڈیٹا کی حفاظت کےلئے خاطر خواہ انتظامات ہی کیوں نہ کئے ہوں۔ پیرس حملوں کے بات یہ بیانیہ خاص طور پر سننے میں آیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کو بے نقاب کرینگے لیکن یہ کہ موبائل ڈیٹا تک رسائی نہ ہونے یا موبائل ڈیٹا کی حفاظت کے باعث دہشت گردوں تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ اس بیانئیے کے بعد اب ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ حق تفویض کر دیں کہ وہ ہماری ڈیجیٹل کمیونیکیشن تک رسائی حاصل کریں یا دہشت گردوں کو جیتنے کا موقع فراہم کریں۔ ان دونوں آپشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب آسان نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے بھیجے گئے پیغامات کو قانون نافذ کرنے والے ادارے دیکھ سکتے ہیں موبائل فون کے ذریعے کی گئی کالز کو بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے، اگرچہ کئی موبائل ایپلیکیشنز اور فونز میں ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لئے خاصے انتظامات کئے گئے ہوتے ہیں اس کے باوجود موبائل ایپس میں موجود ڈیٹا تک رسائی ممکن نہیں ہوتی یا یوں کہیے کہ موبائل فون میں کالز اور ٹیکسٹ میسجز کے باوجود اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا موجود ہوتا ہے جس تک قانون نافذ کرنے والے ادارے پہنچ نہیں سکتے۔ اس امر میں بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں موبائل فون کے صارفین اب آسان پیغام رسانی کے بجائے حفاظتی ٓحصار میں موجود ٹیکسٹ میسجز کو ترجیح دیتے ہیں اسی طرح کئی موبائل ایپس یا انٹرنیٹ کے ذریعے فون کالز کی سہولت بھی حفاظتی حصار میں ہوتی ہے لہزا اس طرح کی کمیونیکیشن کو چیک کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے آسان نہیں اور یہ وہ ڈیٹا ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نزدیک دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لئے ضروری ہے۔ تاہم تمام تر ڈیٹا تک رسائی کو بھی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے اور میرے سمیت کئی ایپ ڈویلپرز صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں تاہم اس کے باوجود یہ قرار دینا کہ ڈیٹا محفوظ ہے درست نہیں۔ ذیل میں اس حوالے سے چند نکات بیان کئے جا رہے ہیں۔

۔ اگر کسی فرد کے پاس موبائل فون موجود ہے تو اس کی ہر حرکت اور اس موبائل فون سے کی جانیوالی ہر کال، موبائل فون سے انٹرنیٹ کا استعمال وغیرہ جیسے اقدامات موبائل فون سروس پروائیڈر ٹریک کر سکتا ہے، اور ایسے موبائل ڈیٹا تک رسائی کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی وارنٹ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

۔ دنیا بھر میں مقبول ترین ایپ واٹس ایپ یا مقبول عام فون ایپل آئی فون بھی “per user” کی بنیاد پر صارف کو آگاہ کئے بغیر موبائل ڈیٹا کی سیکورٹی کم یا ختم کر سکتا ہے۔

۔ اسی طرح حفاظتی حصار میں کی جانیوالی گفتگو چاہے وہ گروپ کے درمیان ہو یا انفرادی سطح پر کو بھی مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ایپ سروس پروائیڈر پر دبائو ڈال سکتے ہیں کہ وہ صارف کو آگاہ کئے بغیر اس کی موبائل فون ڈیوائس کے ساتھ اس کی چیکنگ ڈیوائس بھی منسلک کر دے تاکہ وہ اس گفتگو سے آگاہ ہو سکیں۔

۔ کلائوڈ ڈیٹا کو ہیکرز سے محفوظ رکھنے کے لئے کئی طرح کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔ ایسی ہی خدمات فراہم کرنے والی کئی ایپ کمپنیاں دعوی کرتی ہیں کہ کلائوڈ میں آپکا ڈیٹا محفوظ ہے لیکن وہ صارف کو اس کی key فراہم نہیں کرتے تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے کلائوڈ تک رسائی حاصل کر کے تمام میسجز کا بیک اپ، فون میں موجود Contacts تصاویر، لوکیشن ڈیٹا وغیرہ کاپی کر سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ چاہے ہمیں علم ہو یا نہ ہو ہم اپنے پرائیویٹ ڈیٹا کو کئی اداروں کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔

تحریر:ناتھن فرییٹاس (Nathan Freitas)

Read in English

Authors

*

Top