Global Editions

مقناطیسی کشش سے نشہ کرنےوالوں کا علاج

اٹلی کے 46 سالہ شہری سٹیفانو (Stefano) کوکین کے نشہ کا عادی ہےاور کچھ وقت پیشتر ایک خیال تھا کہ وہ اس علت کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھےگا۔ بحالی مرکز میں سات ماہ گزارنے کے بعد بھی وہ اس عادت سے چھٹکارا نہیں پا سکا یہ اس کی کوکین کے استعمال کو چھوڑنے کی تیسری ناکام کوشش تھی۔ لیکن جب انہوں نے ایک میگزین میں نشے کی عادت سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک غیر روایتی طریقے کے بارے میں پڑھا تو اسے احساس ہوا کہ اب اس کے پاس کھونے کو کچھ زیادہ نہیں۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ کہ مقامی تحقیق کاروں نے نشے کی علت سے چھٹکارا پانے کے لئے مقناطیسی محرک کا استعمال کیا گیا یہ طریقہ اگرچہ پرانا ہے اور ڈیپریشن کے مریضوں کے علاج کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے لیکن نشہ کے عادی افراد کے علاج کے لئے اس کا استعمال اور اس کے حوصلہ افزاء نتائج حیران کن ہیں۔ ٹی ایم ایس (Transcranial Magnetic Stimulation) کے استعمال کے لئے معمول کو کرسی پر بیٹھا کر آٹھ لڑیوں پر مشتمل ایک عصا سر پر دماغ کے بیرونی حصے کی جلد پر لگایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے مقناطیسی لہریں خارج کی جاتی ہیں۔ سٹیفانو کے مطابق بظاہر یہ ایک مذاق لگتا تھا لیکن میں نے سوچا مجھے اپنے اہل خانہ کو خوش کرنے کے لئے اس کا تجربہ کرنا چاہیے، اور میں نے ایسا ہی کیا۔ سٹیفانو کے مطابق اب تک وہ اس طریقہ علاج کے کئی سیشنز کرا چکا ہے اور اب اس میں کوکین کی طلب میں ڈرامائی حد تک کمی آ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی خوشی کے بارے میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ میں خود بھی حیران رہ گیا ہوں۔ انہی تحقیق کاروں نے کوکین کے استعمال کے عادی 29 افراد کا علاج بھی اسی تکنیک کی مدد سے کیا اور اب وہ اس طریقہ کے استعمال سے برآمد ہونے والے نتائج کو یورپین جریدے Neuropsychopharmacology میں پیش کرنے والے ہیں۔ یونیورسٹی آف پاڈاووا میڈیکل سکول کے ڈاکٹر لوگئی گالی مبارٹی(Luigi Gallimberti) اور البرٹو ٹیرانیو (Alberto Terraneo) کا کہنا ہے کہ تھیوری کی حد تک یہ فریم ورک موجود ہے تاہم مقناطیسی لہروں سے دماغ میں تحرک کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے اس کی وضاحت موجود نہیں تاہم اس ضمن میں کوکین کے عادی چوہوں پر تجربات جاری ہیں تاکہ اس طریقہ کے استعمال سے نتائج اخذ کئے جا سکیں۔ تاہم اطالوی سٹیفانو نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے نمائندے سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس طریقہ علاج نے اس کی زندگی بدل دی ہے آپ اندازہ لگائیں اب رقم میری جیب میں ہے اور مجھ میں کوکین کے استعمال کی کوئی خواہش نہیں۔ یہ محسوس کرنا نہایت خوش آئند ہے کہ لوگ بھی کہتے ہیں کہ میں بدل گیا ہوں۔

تحریر: ایڈم پیورے (Adam Piore)

Read in English

Authors

*

Top