Global Editions

مصنوعی ہاتھ

1982ء کی ایک رات جب جان ممفرڈبرفیلے درّہ کو لوراڈوکی ایک برفانی چوکی پر کام کر رہاتھا کہ وہ گاڑی جس میں وہ اور اس کے دو ساتھی سوار تھے ، سڑک سے پھسل کر ایک زیریں چوٹی پر جا گری ۔ ممفرڈ کے دونوں ساتھی تو بچ گئے لیکن اس کی گردن پر ایسی چوٹ آئی کہ اس کے جسم کا نچلا حصہ مفلوج ہو گیا اور اس کے لیے کہنیوں کے بل پر بازوؤں کو موڑنا تو ممکن رہ گیا لیکن اس کے ہاتھ بالعموم اشیاء پر گرفت کے قابل نہ رہے۔15سال بعد ایک ایسی معجزاتی ٹیکنالوجی منظر عام پر آئی جس سے اس کا بایاں ہاتھ پھر سے حرکت میں آگیا ۔ اس ٹیکنالوجی کا نام فری ہینڈ سسٹم تھا ۔ ایک سرجن نے ممفرڈ کے داہنے کندھے پر ایک سنسرلگایا ، سینے کے اوپری طرف سٹیمولیٹر کے نام کاپیس میکرکے حجم کا ایک آلہ نصب کیا اور بائیں بازو کے پٹھوں میں تاریں کس دیں ۔ایک تار ممفرڈ کے داہنے کندھے کے سنسر سے بیرونی کنٹرول یونٹ تک جاتی تھی ، جبکہ دوسری اس کنٹرول یونٹ سے سینے پر موجود سٹیمولیٹر کی پیغام رساں کویل تک پہنچتی تھی ۔ اس بے ہنگم تال میل نے نا قابلِ یقین کام کر دکھایا! اپنے داہنے کندھے کو مخصوص اطراف میں ہلا کر ممفرڈ سٹیمولیٹر تک سگنل بھیج سکتا تھا جو اس کے بائیں بازو میں ہاتھ کے پٹھوں تک پہنچ جاتے تھے ۔آلہ مثالی تکمیل تو حاصل نہ کر سکا مگرممفرڈ کی خواہش تھی کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ڈارٹ بھی پھینک سکے ،لیکن وہ اپنے بائیں ہاتھ سے چابی ، کانٹا ، اور گلاس وغیرہ پکڑ سکتا تھا۔ وہ خودسے ریفریجریٹر کھول کر اس میں سے سینڈ وچ نکال سکتا تھااور کسی کی مددکے بغیر خود کھا سکتا تھا ۔

ممفرڈ اس قدر خوش ہو اکہ وہ اس آلے کو بنانے والی کمپنی کے لیے کام کر نے جا پہنچا ۔ وہ کلیو لینڈمیں واقع نیورو کنٹرول نامی کمپنی کے لیے ملک بھر میں اس معاون ٹیکنالوجی کے تعارفی مظاہرے کرنے لگا ۔

2001ء میں ممفرڈ ایک مارکیٹنگ میٹنگ کے لیے کلیو لینڈ میں تھا کہ اُسے ایک ایسی خبر ملی جس پر وہ آج بھی جھنجلاجاتا ہے : نیورو کنٹرول فری ہینڈ کا کاروبار چھوڑنے والی تھی ۔اب کمپنی ایک آلے کی مددسے سٹروک کا شکار ہونے والوں کے لیے کام کرنے کی خواہش مند تھی ۔ اس میدان میں مانگ زیادہ تھی ۔ جلد ہی کمپنی نے کم از کم 26ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سمیٹتے ہوئے فری ہینڈ کا کاروبار ختم کر دیا ۔ شروع شروع میں ممفرڈ بڑے ولولے سے فری ہینڈ کا استعمال کرتا رہا لیکن یہ بات اسے کبھی کبھی پریشان کرتی تھی کہ جب اس کے جسم کے باہری طرف موجود تاریں گِھس گئیں یا کپڑوں میں اٹک کر ٹوٹ گئیں تو ! اسے ہر بار کوئی نہ کوئی مل جاتا جو اسے موجودہ متبادلات مہیا کر کے سسٹم کو ایک مرتبہ پھرچالو کر دیتا۔2010ء تک آخری تار بھی ختم ہو گئی ۔نیورو کنٹرول سے تکنیکی معاونت کے امکانات کی عدم موجودگی کے باعث ممفرڈ کے جسم میں نصب برقی آلہ غیر متحرک ہو گیا ۔ اس کی وہ خود انحصاری جاتی رہی جو ایک ہاتھ کے مستقلاً استعمال سے اس نے دوبارہ حاصل کی تھی ۔از سرِ نو اسے کھو دینا ناقابل حد تک جھنجلاہٹ کا باعث تھا ۔ ممفرڈکا کہنا ہے : ’کوئی روز نہیں گزرتا کہ میں اس کی کمی محسوس نہ کروں ۔‘

اپنی کہانی سناتے وقت ممفرڈکی آواز حیرت کے احساس سے بڑھ جاتی ہے : ’میرے جسم میں وہ آلہ ہے جسے اُس صدی کی بہترین ایجادات میں سے ایک تصور کیا جاتا تھا ‘،وہ کہتا ہے ، ’ آخری بات جس کا کوئی تصور کر سکتا ہے یہ ہے کہ وہ آلہ بنانے والی کمپنی اپنا کاروبار ٹھپ کرنے والی ہے اور نہ صرف کاروبار ختم ہو گا بلکہ آپ اس آلے کے پرزہ جات بھی کہیں سے نہیں حاصل کرسکتے ، یہ پاگل پن ہے ۔‘

ایک اندازے کے مطابق تقریباً اڑھائی سو افراد نے نیورو کنٹرول سے فری ہینڈ حاصل کیا تھا ۔ ممفرڈ تو ان میں سے محض ایک ہے جن کا دل ٹوٹ گیا ۔ان کا تجربہ اب ایسے قابلِ تنصیب طبیعیاتی آلات کے حوالہ سے لمحہ ءِ فکریہ ہے جن کی مانگ انتہائی محدود حد تک ہے ۔ اگرچہ ارتباطی دماغی مشینوں اور برقی متحرکات کے میدان میں ترقی نے فالج کا شکار ہونے والوں کے لیے بہترین تحقیقی نتائج مرتب کیے ہیں ۔ مثلاً بہت سے افراد اپنے ذہن کے ذریعے روبوٹک بازو کو کنٹرول کررہے ہیں اور بہت سے کسی حد تک قدم اٹھا نے کے قابل ہو گئے ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ یہ سب کچھ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکیں ؛ تجارتیت کا رجحان سب کچھ ختم کر سکتا ہے ۔ مفلوج اعضاء کی تخلیقِ نو ممکن ہے لیکن مارکیٹ کی بنیادی اقتصادیات سب کا بوریا بسترہ گول کر سکتی ہے ۔

para_1

ابتد ائی نقوش:
ممفرڈ کے جسم میں موجود ٹیکنالوجی کا ترقیاتی سفر 1970ء کی دہائی میں شروع ہو ا۔اس سلسلہ کا مرکزی موجد
کیس ویسٹرن ریزرو یونیورسٹی کلیو لینڈ میں کام کرنے والا بائیو میڈیکل انجینئر پی ہنٹر پیکخم دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا برقی تحریک سے جسم کے سکڑے ہو ئے اعضاء کو پھر سے اصل حالت میں لاکر مفلوج پٹھوں کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔پیکخم اور اس کی چھوٹی چھوٹی کویلیں داخل کیں ۔یوں وہ ان تاروں کے ذریعے ہلکی پھلکی برقی حرکیات کی بدولت پٹھوں میں حرکت پیدا کرنے پر قادر ہو گئے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سانچے اختیار کرتے کرتے ، تاروں کو درست جگہ پر نصب کر کے نیز مطلوبہ مقدار میں برقی رو داخل کر کے ، محققین پٹھوں کو مرضی کے مطابق حرکت میں لانے کے قابل ہو گئے ۔ یوں معمولی حرکات کے علاوہ ہاتھ کی گرفت پھر سے حاصل کرنا ممکن ہو گئی ۔ آخر کار محققین نے اس ٹیکنالوجی کو مریضوں میں نصب کرنے کا طریقہ بھی وضع کر لیا تاکہ وہ تجربہ گاہ کے باہر بذاتِ خود بھی کندھے پر نصب ، جوئے سٹک جیسے ایک کنٹرول یونٹ کی بدولت اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکیں ۔

بعد ازاں فری ہینڈ کی صورت اختیار کرنے والی ٹیکنالوجی کا پہلا نمونہ 1986ء میں پہلے مریض کے جسم میں نصب کیا گیا۔اس کے سات سال بعد پیکخم نے پانچ دوسرے سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر کیس ویسٹرن سے تکنیکی لائسنس حاصل کیا اور نیورو کنٹرول نامی کمپنی قائم کر لی ۔
1997ء میں امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن کی طرف سے اس کی منظور ی، طبیعیات کی دنیا میں ایک بڑاسنگِ میل تھا ۔ یہ مریضوں کے جسم میں نصب کیے جانے والا پہلا بائیونِک آلہ نہ تھا ، پیس میکر اور کو کلےئر جیسے آلات انسانی جسم میں پہلے بھی نصب کیے جا رہے تھے لیکن یہ پہلا آلہ تھا جو فالج زدہ افراد کو اپنے ہاتھوں کی حرکت میں کسی حد تک مدد دیتا تھا ۔

para_2

درحقیقت یہ پہلا آلہ تھا جس میں جوڑوں کی حرکت کے لیے برقی تحرک کو استعمال کیا گیا تھا اور تا دمِ تحریر اس کی یہ انفرادیت قائم ہے۔آزاد تحقیقات بتاتی ہیں کی ساٹھ ہزار ڈالر (آلہ کی قیمت اور مطلوبہ سرجری کے اخراجات )کے بدلے میں بھی طویل مدتی حوالہ سے فری ہینڈ رقم کی بچت کا عمدہ ذریعہ تھا۔ اس صورت میں فالج زدہ افراد کی نگرانی پر اٹھنے والے اخراجات محدود ہو جاتے تھے۔ اس کے باوجود فری ہینڈ اپنے دائرہ کار میں الجھ کر رہ گیا ۔
اگرچہ صرف امریکا میں اڑھائی لاکھ افراد ریڑھ کی ہڈی کے مسائل کا شکا رہیں لیکن فر ی ہینڈ صرف ایسے مریضوں کے لیے قابلِ عمل تھا جن کے فالج کی جڑھ پانچویں اور چھٹے مہرے کے درمیان ہو۔اس کا سبب یہ ہے کہ اس مقام پر ہونے والا مرض فالج کے ان مریضوں کو کندھے اور کہنیوں کو اس حد تک حرکت دینے پر قادر کر دیتا ہے کہ فری ہینڈ متحرک ہو سکے اور کام دینے لگے ۔ اگرچہ نیورو کنٹرول کا خیال تھا کہ امریکا میں پچاس ہزار افراد تک کمپنی ہدف بنا سکے گی لیکن وہ سب بھی یا تواس آلے کی تنصیب کے لیے تیارنہ تھے یا پھراپنی بری صحت کے باعث اس بڑی سرجری کو برداشت نہیں کر سکتے تھے جو اس آلے اورتاروں کی تنصیب کے لیے درکار تھی ۔

اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ انشورنس کمپنیاں اور رفا ہِ صحت کے ادارے نیز امریکی حکومت کا معذوروں اور بوڑھوں کی بحالی کا پروگرام بھی ہمیشہ اس کے تمام اخراجات برداشت کرنے کو تیار نہ تھا ۔بحالی کے کلینک اور ہسپتال بھی مریضوں کے لیے اس نویلے تنصیبی نظام کے حوالہ سے روایت پسند تھے ۔ اسی طرح نیورو کنٹرول کی تو قعات کے بر عکس بہت سے مراکزِ صحت اخراجاتی ابہام کے باعث بھی اس ٹیکنالوجی کے حامی نہ تھے ۔
بِکری میں مسلسل کمی کو دیکھتے ہوئے نیو رو کنٹرول نے اس آلے کی فروخت بند کر دی ۔ سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ ٹیکنالوجی فالج زدہ افرادکی آبادی کے کہیں بڑے حصے کو اپنی طرف کھینچے گی ،’ نیوروکنٹرول کے ڈائریکٹر، بزنس ڈیویلپمنٹ، جیف تھروپ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ،’ہم سالانہ بنیادوں پر درجنوں تنصیبات بیچ پاتے تھے ، یہ شرح اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں میں تو ہونی چاہیے ! تاکہ اس کا کوئی منطقی جواز پیدا ہو سکے۔‘
لیکن یہ فیصلہ اب بھی پیکخم کے لیے غصے کا باعث ہے جس نے اس فیصلے کے نتیجے میں نیورو کنٹرول سے استعفٰی دے دیا ۔ اس کا کہنا ہے کہ کچھ وقت گزرنے پر نیوروکنٹرول کو مستقل کاروباری تسلسل حاصل ہو سکتا تھا۔ برطانیہ میں آزمائشی بنیادوں پر 19مریض اس کے استعمال کے لیے اندراج کروا چکے تھے ۔ایک اور مریض کے اضافہ سے تعداد 20تک پہنچ جاتی ، وہ عدد جس کے حصول پر برٹش نیشنل ہیلتھ کےئر سسٹم فری ہینڈ کے خراجات برداشت کرنے لگتا ۔ متوقع طور پر بوڑھے افراد کی فلا ح کے لیے امریکی حکومت کا محکمہ بھی اس رستے پر آنے والا تھا ۔پیکخم کہتا ہے کہ مسئلہ یہ تھا کہ بورڈ کے دیگر ارکان خالصتاً سرمایہ دار واقع ہوئے تھے ،’ جو اس فیصلے پر پہنچے کہ وہ اپنی سرمایہ کاری پر متوقع منافع حاصل نہیں کر
پارہے ۔‘یہی وجہ ہے کہ وہ عدم برداشت کا شکار ہو گئے ۔’یہ سب کچھ قانونی تھا ‘۔ پیکخم کہتا ہے ’ یہ الگ سوال ہے کہ یہ اخلاقی تھا یا نہیں ۔ میرا خیال ہے کہ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کی اخلاقیات کیا ہیں ‘۔

وےئر ہاؤس میں تاریں :
فری ہینڈ کو عملی صورت میں دیکھنے کے لیے پرانی تاریخی تصاویر نہیں دیکھنی پڑتیں۔ڈینورکے مضافات میں ، جہاں ممفرڈ رہتا ہے ، اس سے کچھ میل کے فاصلے پر میری ملاقات امریکی محکمہ ءِ خارجہ کے ایک اکاؤنٹینٹ سکاٹ ابرام سے ہوئی ۔ 1980ء میں ہائی سکول کے ساتھ ایک عملی دورے کے دوران کم گہرائی کے ایک دریا میں چھلانگ لگاتے ہوئے اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔اس وقت اس کی عمر سترہ سال تھی ۔ ایک دہائی بعد اس نے فری ہینڈ خریدا جو مختلف کاموں کے لیے وہ آج بھی استعمال کر رہا ہے ۔ ہم نے ایک ریسٹورانٹ لنچ کیا تو اس نے ایک چکن سینڈوچ کا آرڈر کیا ۔ اپنے بائیں کندھے کو اچکاتے ہوئے اس نے فری ہینڈ کو اس طرح متحرک کیا کہ وہ سینڈوچ کو منہ تک لانے اور پلیٹ میں رکھنے کے لیے اپنے داہنے ہاتھ کو مرضی کے مطابق حرکت دینے پر قادر ہو گیا۔

ویل چےئر کی بائیں طرف موجود پیجر سے مشابہ یونٹ کنٹرول مستقلاً وہ سب کچھ کر رہا تھا جو یہ گزشتہ پند ھرہ سالوں سے کر رہا ہے : یعنی اس کی چھاتی میں موجود سٹیمولیٹر کو اطلاع دینا کہ داہنے بازو میں موجود کن تاروں کو بجلی کا تحرک درکار ہے ۔
ابرام باخوبی جانتا ہے کہ ممفرڈپر کیا گزرتی ہو گی جب اسے بیرونی تاروں کی تبدیلی کی ضرورت ہو تی ہو گی ۔ البتہ اس میں ایک اساسی فرق ہے ۔ کئی سال قبل اس کی ملاقات پیکخم کے ساتھ اس ٹیکنالوجی پر تحقیق کرنے والے ایک محقق کیون کیلگور سے ہوئی جو گزشتہ برسوں سے ابرام کو ضرورت کے مطابق تاریں بھیج رہا ہے ۔ اس سوچ پر صورتِ حال انتہائی مخدوش ہو جاتی ہے کیلگور بہت افسردہ ہو جاتا ہے کہ جب نیورو کنٹرول کا م کر رہی تھی تو یہ سرجنوں کو فری ہینڈ مہیا کرتی تھی اور مریض بعد ازاں ان ہی سے رابطہ کرتے تھے ۔ممفرڈ اور ایسے دیگر مریضوں کے لیے وہ محققین جنہوں نے یہ ٹیکنالوجی ایجاد کی تھی منظر سے بالکل باہر تھے ۔ نیو رو کنٹرول نے کاروبار ٹھپ کیا تو اس کے متعلق کم وبیش ہر شے اندھے گڑھے میں جا گری ۔ نہ صرف یہ اپنے صارفین کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے میں ناکام رہی بلکہ اس کے فون نمبر اور ویب سائٹ وغیرہ بھی دستیاب نہ رہے ۔ مریض اور سرجن دونوں انجان تھے کہ وہ مستقبل میں کیا کریں گے ۔ کیلگور اور پیکخم کا کہنا ہے کہ کمپنی نے انہیں فری ہینڈ حاصل کرنے والے مریضوں کی فہرست فراہم کرنے سے انکار بھی کر دیا اور وہ آج بھی فری ہینڈ استعمال کرنے والے مریضوں کی حتمی تعداد نہیں جانتے ۔

مانرو ، لوزیانا کے ڈیمےئن کمِنزکے لیے کمپنی کا خاتمہ ایک خواب زدہ حقیقت ہے ۔ ہائی سکول میں ایک فٹبال میچ میں زخمی ہو جانے کے باعث مفلوج ہونے پر اس نے فری ہینڈ کا ستعمال شروع کیا ۔بد قسمتی سے آلہ اس کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔ چنانچہ دوسال بعد اس نے اس کا استعمال چھوڑ دیا اصل میں چھوڑنا با لکل دشوار نہ تھا ۔بس یوں ہو اکہ اس نے کسی سے یہ کہنا چھوڑ دیا کہ ان بے ہنگم بیرونی تاروں کو اس کی چھاتی میں نصب آلے سے جوڑ دے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس ناکارہ برقی آلے کے متعلق سوچنے لگا جس کا کچھ حصہ اس کی جلد کے نیچے سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ’کیا یہ تحلیل ہو جائے گا یا خراب ہو جائے گا ؟‘ اس نے خود سے پوچھا ۔’ کیا مجھے اس کے متعلق پریشان ہو نا چاہئے؟‘ اس نے شریوپورٹ(Shreveport)جا کر اس سرجن سے ملنے کا فیصلہ کیا جس نے یہ آلہ اس کے جسم میں نصب کیا تھا لیکن ڈاکٹر شریوپورٹ سے کیلیفورنیا منتقل ہو چکا تھا ۔کمِنز کا کہنا ہے کہ وہ کچھ عرصہ اپنے جسم میں موجود اس برقی آلے کے حوالہ سے پریشان ہو تا رہا لیکن پھر ایک روز آخر کار وہ ڈاکٹر کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا اوراس نے ڈاکٹر کو فون کیا ۔’کیا مجھے اس آلے کو نکلوا دینا چاہیے ؟‘ اس نے ڈاکٹر سے پوچھا،’نہیں ، جب تک یہ تمہارے لیے کسی مسئلہ کا باعث نہیں ، ایسی کو ئی ضرورت نہیں ‘ ڈاکٹر نے جواب دیا ۔

کیلگور کے لیے کمِنز کی اس لاچاری کے متعلق سننا انتہائی تکلیف دہ تھا۔ پانچ سال قبل کیلگور کو ان برقی متحرکا ت نصب کروانے والے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے، ایک غیر منافع بخش تنظیم پیرا لائزڈ ویٹرنز آف امریکاکی طرف سے $75000 کی گرانٹ ملی ۔ کیلگور نے اس رقم کا بڑا حصہ نیورو کنٹرول کی ان باقیات کو خریدنے میں خرچ کیا جن کا اب تک مکمل خاتمہ نہیں ہو ا تھا ۔مثلاً تاریں ، سٹیمولیٹر ، کویلیں ، کنٹرولر،بیٹریاں اور فری ہینڈ کے دیگر پرزے جو اوہائیو کی ایک اور کمپنی نے خرید لیے تھے اور انہیں اپنے سٹور میں ڈال رکھا تھا اس جمع شدہ سامان کے ساتھ کیلگور فری ہینڈ کے مریضوں تک پہنچا ۔ جب کیلگور اوراس کے ساتھی اوہائیو میں کم و بیش ایک درجن ایسے مریضوں سے مل چکے تو مزید مریضوں سے ملاقات کی توقع کے پیشِ نظر انہوں نے ایک آن لائن گروپ قائم کر لیا ۔

2009ء تک کیلگور اور اس کے ساتھی محققین 65ایسے مریضوں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے جو فری ہینڈ کا استعمال کر رہے تھے ۔کیلگور اور اس کے ساتھی اس نتیجے پر پہنچے کہ ان مریضوں میں سے نصف سے زائد اب بھی فری ہینڈ استعمال کر رہے ہیں ۔ آج بھی اس کا اندازہ ہے کہ اس کے پاس اتنے پرزہ جات موجود ہیں کہ وہ ان مریضوں کو کچھ اور سال ان پر چلا سکتا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ ’ مریضوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کوئی بہتر حل ہونا چاہیے۔‘ فری ہینڈ کی تخلیق کے تقریباًتیس برس بعد کیس ویسٹرن ٹیم ٹیکنالوجی کو قابلِ ذکر حد تک بہتر بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ کنٹرول یونٹ اس قدر چھوٹا بنا دیا گیا ہے کہ اسے جسم میں نصب کر دیا جاتا ہے جس سے ان بیرونی تاروں کی ضرورت نہیں رہتی جو الجھ یا ٹوٹ سکتی ہیں۔ اب آلہ گرفت کو پھر سے ممکن کرنے سے بڑھ کر بھی بہت کچھ کر سکتا ہے ۔اب اسے مختلف پٹھوں کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔محققین کے مطابق برقی تحریک کے ذریعے مختلف کام کیے جاسکتے ہیں ۔مثلاً جسم کے اوپری حصے کو معاونت فراہم کرنا ،مثانے اور رفع حاجت پر قابو وغیرہ ۔ محققین فالج کے کچھ مریضوں کو کھڑا کرنے اور واکر کی مددسے لڑکھڑاتے ہوئے قدم اٹھوانے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں ۔
بہر حال اساسی معاشی خدشا ت اپنی جگہ موجود ہیں ۔ کسی کمپنی کی عدم موجودگی میں جو اس کی تشہیر کر سکے، اس ٹیکنا لوجی کے استعمال کرنے والوں کا دائرہ کار ان لوگوں تک محدود رہتا ہے جو یاکلیولینڈ میں رہتے ہیں یا اس غرض سے یہاں آنے کے متحمل ہو سکتے ہیں نیز اگر یہ جنس تجارتی نوعیت اختیار نہیں کر پاتی تو انشورنس کمپنیاں اس کی قیمت برداشت نہیں کریں گی ۔ گویا ان آلات کی تنصیب کے لیے محققین کو گرانٹ پر انحصار کرنا پڑے گا ۔ ’ میں گرانٹ پر سالانہ پانچ آلات نصب کر سکتا ہوں ‘کیلگور کا کہنا ہے، ’لیکن مجھے ایک سال میں اس حوالہ سے ایک سو فون آتے ہیں ‘۔شائد سینکڑوں ایسے مریضوں کی موجودگی بھی اتنی کافی نہ ہو کہ کوئی سرمایہ کار اس طرف متوجہ ہو سکے ۔ تاہم کیلگور اور پیکخم کا خیال ہے کہ انہوں نے اس کا حل تلاش کر لیا ہے ۔

دائرہ کار میں وسعت :
انہیں یقین ہے کہ مستقبل میں جسم میں قابلِ تنصیب تکنیکوں کو نیوروکنٹرول جیسے یک لخت خاتمے سے بچانے کے لیے غیر منافع بخش اور منافع بخش تنظیموں کی شراکت درکار ہو گی ۔ انہوں نے کیس ویسٹرن میں ’Non-profit‘قائم کیا ہے ۔اس ادارے کا مقصد رکے ہوئے کام کی بحالی ہے ۔اس کا عزم ہے کہ ایسی مختلف ٹیکنالوجیز کو انضباطی اداروں کی منظوری کے بعد حاصل کیا جائے ۔ جس کے بعد یہ ادارہ یا خود ان آلات کی تشہیر کرے یا کسی منافع بخش کمپنی کو اس کا لائسنس جاری کردے۔ بد قسمتی سے اگر منافع بخش کمپنی ناکام بھی ہو جائے تو پسِ منظر میں موجود گیر منافع بخش تنظیم جس کی سر پرستی کو ئی نجی ادارہ کر رہا ہو، مریضوں کی معاونت جا ری رکھے ۔
وہ ٹیکنالوجی جسے یہ ادارہ سب سے پہلے دیکھے گا ، فری ہینڈ کی ترقی یافتہ صورت والا آلہ ہے ۔ اس ادارے کے پاس آزمائشی بنیادوں پر اس کے آغاز کے لیے گرانٹ بھی موجود ہے ؛ یہ ان آلات کی پیداوار بھی شروع کر سکتا ہے اور ممکنہ مریضوں کی فہرست بھی دستیاب ہے لیکن اب تک بطور منافع بخش شراکت دار کسی کمپنی سے اس کا معاہدہ نہیں ہو پایا۔ کمپنیاں، پیکخم کے بیان کے مطابق ،’ اس امر سے بے خبر کہ آپ ان کا سرمایہ کب تک لوٹائیں گے ، غیر محفوظ سرمایہ کاری کو تیار نہیں ہیں ۔‘

نظریاتی اعتبار سے ایسے بہت سے شراکت دارمل سکتے ہیں ۔ جیسا کہ عصبی تحرک کا کاروبار پھر سے ترقی کر رہاہے ، بالخصوص کلیولینڈ میں جہاں کیس ویسٹرن ، کلیولینڈسنٹراور ایسے دیگر مراکز سے لائسنس یافتہ ایسی ٹیکنالوجی کی بہتات ہے۔بہت سی کمپنیوں میں نیورو کنٹرول کا سابقہ عملہ کام کر رہاہے۔ عصبی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے والی ایک فرم، این ڈی آئی کا سربراہ تھروپ، ایسے لوگوں میں سے ایک ہے۔ تھروپ کا کہنا ہے کہ غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ شراکت داری ایسی کمپنیوں کے لیے پر کشش ہو سکتی ہے جو کسی ایسی نئی ٹیکنالوجی کی تجارت سے خائف ہوں جس کی آزمائش اور انضباطی منظوری میں سالوں لگ جائیں ۔ اگر غیر منافع بخش تنظیم اس پہلو سے نبرد آزما ہو جائے اور منافع بخش کمپنیوں کوسہولت دے تو کیلگور اور پیکخم کے نمونے میں کسی حد تک قابلیت نظر آتی ہے ۔
تاہم اس اندیشے کا خاتمہ ہو بھی جائے تو بہت زیادہ کمپنیاں اس جنس میں سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہیں گی جس کے صارفین لوگوں کے ایک محدو دگروہ تک محدود ہوں ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اور اس جیسے دوسرے ایسے مواقع کی تلاش میں ہیں جنہیں بقول ڈاکٹروں کے ’کثیر الا شاراتی ‘یعنی ایسی صورت جس میں ایک سے زائد مسائل سے نمٹا جا سکے ۔وہ سکینڈ سائٹ کا تذکرہ کرتا ہے ، 140,000ڈالر میں ریٹینا کی ایسی تنصیب جو موروثی طورپر بینائی سے محروم افراد کی بینائی بھی بحال کر سکتی ہے، اس کی ممکنہ مارکیٹ بھی کافی بڑی ہے ،جو کم وبیش دنیا بھر میں ڈیڑھ ملین اور امریکا میں تقریباًایک لاکھ ہے ۔ اس کے باوجود ، سیکنڈ سائٹ ، اندھے پن کے دیگر اسباب کا علاج ممکن بنا کر اپنے صارفین کی تعداد بڑھانے میں کوشاں ہے ۔ تھروپ کہتا ہے کہ 2002ء میں قائم ہونے والی اس کی فرم ، بالعموم اس وقت تک کی عصبی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری نہیں کرتی جب تک کہ وہ ایجاد کے ابتدائی مراحل سے نہ نکل جائے اور دوسرے اور تیسرے تشخیصی اسباب کے علاج پر قادر نہ ہو جائے ۔ یہ ’ نیورو کنٹرول میں اختیار کیے گئے کلیے کا الٹ ‘، تھروپ کہتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے : ’ہم ممکنہ حد تک دھماکہ خیز ٹیکنالوجیز سے دور رہتے ہیں ۔‘

دھماکہ خیزی سے دوری:
یہ سوچ ہمارے اس رجحان سے متصادم ہے کہ ٹیکنالوجی ہمارے جسم سمیت بہت سی ٹوٹ جانے والی اشیاء کو ٹھیک کر سکتی ہے ۔ لیکن ڈیمےئن کمِنز کے نقطہ نظر سے سوچیے، وہ کہتا ہے کہ اسے فری ہینڈ کی تنصیب کے لیے ایک سے زائد سرجریاں کروانا پڑیں تاہم اس نے سب برداشت کیا کیونکہ کوئی بھی ایسی چیز جو اس کی روز مرہ زندگی میں بہتری لاسکتی تھی ، اہم ترین تھی ۔ وہ یہ جانتا تھا کہ ممکن ہے کہ یہ کار گر نہ ہو پائے البتہ جب میں نے اس سے یہ سوال کِیا کہ کیا وہ یہ جانتے ہوئے بھی اس آلے کی تنصیب کرواتا کہ نیوروکنٹرول کسی روز بند بھی ہو سکتی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا ؛ ’ اگر میں یہ جانتا تو یقیناًمیں اس کی کوشش نہ کرتا۔‘

تحریر: برائن برگسٹائن

برائن برگسٹائن ایم آئی ٹی ٹیکنیکل ریویو کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں ۔

Read in English

Authors
Top