Global Editions

مصنوعی گوشت کا مسئلہ

لوگ برگر کھانا چاہتے ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے یہ ان کی جبلت میں شامل ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شکار کیے گئے جانور کو آگ پر بھوننا سیکھ کر، انسان سوچ بچار کرنے والی اعلیٰ درجے کی مخلوق میں تبدیل کیسے ہوا تو رچرڈ رینگہیم کی کتاب’Catching Fire‘کا مطالعہ کیجیے ۔ اس سلسلے میں آپ جاپان میں ایک مشہور کوکنگ سکول کے وضع دار مالک سے بھی بات کر سکتے ہیں جو پُرفن مین ہٹن سوشی ریستوران کی ملکیت میں بھی حصہ دار ہے۔ وہ اپنی ٹرائی ایتھلن ٹریننگ کے لیے کس خوراک کو سب سے بہتر اور مؤثر سمجھتا ہے؟یہ خوراک میکڈونلڈ کے چوتھائی پاؤنڈ والے دو برگرز پر مشتمل ہے۔

سبزی خور اور دودھ سے بنی چیزوں سے پرہیز کرنے والے لوگ بھی برگر پسند کرتے ہیں۔Whole Foodsکے چیف ایگزیکٹو آفیسر والٹر روب کہتے ہیں کہ 1970ء کی دہائی کے اواخر میں جب انہوں نے شمالی کیلی فورنیا میں صحت والی غذائیں فروخت کرنے کے لیے سٹور کھولا تو انہیں TufoاورSeitanسمیت ایسی چیزیں فروخت کرنا پڑیں جو بظاہر گوشت جیسی دکھائی دیتی تھیں مگر حقیقت میں وہ گوشت نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ چیزیں بکتی ہیں۔ سبزیوں والے برگرز پر پوری کی پوری کتابیں لکھی گئی ہیں خواہ یہ کھانے میں بدیسی ، خشک، مڑے تڑے اور سخت ہی کیوں نہ محسوس ہوتے ہوں۔

fake_meat_3

یقیناًگوشت نہ کھانے کی بہت سی معقول وجوہات ہیں ۔ آپ انہیں چھ فٹ پانچ انچ قامت کے ایتھن براؤن کے ساتھ مل کر دہرا سکتے ہیں جس نے واشنگٹن ڈی سی میں اپنا گھر فروخت کیا اور Beyond Meatجیسا کام شروع کرنے کے لیے اپنے اہل خانہ کے بچت اکاؤنٹس پر حملہ آور ہو گیا تھا۔اس نے سوچا چونکہ جانور پالنا زمین اور پانی کا زیاں ہے اس لیے سویا چکن کی ٹکیاں اور سبزیوں کے لحمیات سے بنی کچوریاں فیول سیل بنانے کی نسبت ماحول کو بہتر کرنے کا کہیں بہتر ذریعہ ہے۔ اس سے پہلے وہ فیول سیل بنانے کا کام کیا کرتا تھا جسے اب وہ ترک کر چکا ہے۔

اس دوران ایتھن نے بل گیٹس اور ٹوئٹر کے بانی بز سٹون اور ایون ولیمز سے سرمایہ کاری کروائی۔ درحقیقت ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایسے ارب پتی کم ہی ملیں گے جنہوں نے لحمیات کے شعبے میں سرمایہ کاری نہ کی ہو۔ اس کے ہوتے ہوئے فیکٹری فارمنگ کی ضرورت نہیں رہتی۔ یہ سب لوگ مارکیٹ کے حقائق سے واقف ہیں ، ہر شخص برگرخریدتا ہے، ولیم کہتے ہیں ’’گوشت زبردست چیز ہے جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے‘‘

میں گوشت کھاتا ہوں۔ گوشت کھائے بغیر میری طرح ریستوران مبصر بننا مشکل کام ہے۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ اگر جانور احتیاط سے پالا پوسا جاتا، ہمدردانہ انداز میں ہلاک کیا جاتا (اس بات کا مفہوم مجھ پر اچھی طرح واضح نہیں ہے، اگرچہ جب سے میں نے غذا کے موضوع پر لکھنا شروع کیا ہے تب سے میں کھیتوں اور فیکٹریوں میں مرغیاں، دنبے اور مویشیوں کو ذبح ہوتے دیکھتا چلا آیا ہوں) اور ایسی قیمت پر فروخت کیا جاتا جس میں گوشت کی پیداوار سے وابستہ تمام لوگوں کو معقول معاوضہ ملتا تو میں خود کو زیادہ سزاوار نہ سمجھتا۔ مگر میں نے کبھی خود کو یہ فریب دینے کی کوشش نہیں کی کہ مٹھی بھر چند افراد کے علاوہ گوشت پسند کرنے والے لوگ روشن خیالی کے ان مغالطوں کو قائم رکھتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ گوشت کے نئے متبادل بہرطور قدرے بہتر Torfurkey(سبزی خوروں کے لیے گوشت جیسا برگر بنانے والا ادارہ) جیسے ہیں۔ یہ بات ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ارب پتی ، تربیت یافتہ باورچی اور جدید کھانوں کا انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے والے نیتھن میرولڈ نے کہی ہے جو اس خیال سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے۔ تو پھر ایسی زحمت کیوں کی جائے؟

جب میں کیلی فورنیا کے علاقے ال سیگونڈو میں Beyond Meatکے دفتر گیا تو میرے ذہن میں یہی سوال گردش کر رہا تھا۔ ربڑ جیسا برگر بنانے کے لیے مصیبت مول لینے کا کیا فائدہ؟ اس سے ہٹ کر کوئی نئی چیز کیوں نہ تیار کی جائے؟

بچھڑا

Beyond Meatخود کوٹیکنالوجی کمپنی قرار دے سکتی ہے کیونکہ اس کا آغاز اس وقت ہوا جب براؤن نے بافتہ نباتی پروٹین TVPمیں بافتوں (ان میں گاڑھا پن عموماً چکنی مٹی اور سیال اسفنج سے ملتا جلتا ہوتا ہے) کو بہتر بنانے کے کام میں مصروف یونیورسٹی محققین کی تلاش کے لیے سائنسی کاغذات کی ورق گردانی کی۔ براؤن نے سوچا کہ گوشت کا بہتر متبادل بنانے میں بافتوں کا اہم کردار ہے۔ وہ سبزیوں میں بھی تبدیلی کاخواہاں تھا۔ بیشتر لوگ جینیاتی اعتبار سے
تبدیل شدہ چیزوں (GMO) کوپسند نہیں کرتے۔ بیشتر TVPکو سویا کہا جاتا ہے اور تقریباً ہر قسم کا سویا GMOہی ہوتا ہے۔ انہوں نے قیاس کیا کہ ذائقے کا مسئلہ 1960ء سے 1980ء کی دہائی تک مصروف عمل کیمیا دانوں نے حل کر لیا تھا۔ یہ لیبارٹری میں تیار کی جانے والی خوراک کے حوالے سے تجربات کا سنہری دور تھا ۔ ذائقہ جانچنے کے آلات اسی دور میں ایجاد ہوئے اور انہیں بہتر بنایا گیا۔ اسی دوران ذائقے سے متعلق بین الاقوامی کمپنیوں میں نئے سالمے (مالیکیول) تیار کرنے کی دوڑ شروع ہوئی اور اس وقت تک سنکی لوگوں نے ایسی باتیں کرنا بھی شروع نہیں کی تھیں کہ وہی کھاؤ جو تمہاری دادی اماں کھاتی تھیں۔

ال سیگونڈو کے دفاتر ساحل سمندر کے قریب ایک گلی میں واقع ہیں۔ یہ سمندر کے کنارے ایک الگ تھلگ جگہ ہے جہاں کھلے آسمان تلے دکانیں سجی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ جگہ ٹیکنالوجی سے متعلق ہونے کے بجائے ہر دلعزیز اور ملنسار مفکرین کا پرسکون گوشہ دکھائی دیتی ہے۔ یہاں پائی جانے والی ضروری مشین ایک بھاری بھرکم ڈائی ہے جسے براؤن نے ’’بچھڑے‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ یہ نام خوراک کو ’’گوشت‘‘ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہاں کام کرنے والے لوگ سفید سویا اور مٹر کے لحمیات پرمشتمل سیال(جوکہ جانوروں کی خوراک جیسا دکھائی دیتا ہے) پلاسٹک کی سفید بالٹیوں کے ذریعے مشین کے ایک حصے میں انڈیلتے ہیں۔ اس دوران مشین میں پانی بھی ڈالاجاتا ہے جس کے بعد ماہرین ا س ملغوبے کا بنظر غائر جائزہ لیتے ہیں۔

اخروٹ کی لکڑی سے بنی میز کے پیچھے بیٹھا ایک نوجوان آئی ڈراپر کی مدد سے ہلدی کی رنگت کا سیال گوشت کی ٹکیا پر ڈال کر یہ دیکھتا ہے کہ آیا پکانے کے دوران یہ مادہ برگر کی سطح پر برقرار رہتا ہے اور کیا یہ مایو گلوبن جیسا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں گوشت کی ٹکیوں کے نیچے کاغذ کی پلیٹوں کا رنگ بھی تبدیل ہونے لگتا ہے۔ ٹیسٹ کچن ایک کھلی کوٹھڑی پر مشتمل ہے جس میں ہر طرف تاروں سے بنی الماریاں دکھائی دیتی ہیں ۔ یہ الماریاں مختلف اقسام کے مصالحہ جات ، مرچوں اور نشاستہ کے سفوف سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ منظر کسی سپر مارکیٹ سے کچھ ہی کم پیچیدہ معلوم ہوتا ہے۔ یہاں ایک چولہا بھی موجود ہے جو شاید کرائے کے کسی اپارٹمنٹ سے لیا گیا ہوگا۔

دوستانہ مزاج کے حامل اور قدرے الجھے ہوئے بالوں والے باورچی ڈیواینڈرسن لاس اینجلس میں سبزی خوروں کے لیے مشہور ریستوران چلاتے ہیں۔ انہیں یہاں تیار ہونے والی گوشت جیسے ذائقے کی کھمبیوں والی ڈشوں اورکھمبیوں کے شوربے میں بنے گندم والے گوشت پر بے حد فخر ہے(اسے گوشت کے پارچے کی طرح کاٹاجا سکتا ہے) ممکن ہے براؤن نے قیاس کیا ہو کہ ذائقہ اس معاملے کا آسان اور بافتیں مشکل حصہ ہے مگر اینڈرسن نے تجربے اور غلطیوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ دونوں ہی یکساں طور سے مشکل اہداف ہیں۔ ریڈنگ یونیورسٹی میں غذائی کیمیا کے اعزازی پروفیسر ڈان موٹریم کا کہنا ہے کہ ذائقے کی کیمیا سے متعلق کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے گوشت جیسا ذائقہ پیدا کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اپنی نوعیت کے باعث پکائی کے دوران چکنائی ، بافتوں اور ہڈیوں کے ذائقوں میں بھی فرقآجاتا ہے۔ موٹریم گوشت کے ذائقے خصوصاً’’میلارڈ ری ایکشن ‘‘ پر کئی دہائیوں تک کام کرتے رہے ہیں۔ یہ نشاستہ میں شکر جلانے کا عمل ہے اور پکائی کے دوران اس عمل سے سینکڑوں ہزاروں مرکبات خارج ہوتے ہیں۔

اینڈرسن مسلسل تجربات اور اس دوران مختلف مقدار میں اجزائے ترکیبی استعمال کر کے مخصوص ذائقہ تیار کر لیتا ہے۔وہ اس ترکیب سے پکائے گئے چکن رول، گوشت کے پارچے اور برگر بنا کر مجھے ان اشیا ء کا حقیقی گوشت سے تیار کی گئی چیزوں سے موازنہ کرنے کو کہتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو وہ ا ور ذائقے تیار کرنے والے دوسرے تمام لوگ بشمول سبزی خور بھی باقاعدگی سے کرتے ہیں۔

مجھے نرم چکن رول بے حد پسند آئے ہیں کہ یہ ہنگری سے تعلق رکھنے والی میری دادی کے بنائے چکن سے ملتے جلتے ہیں۔ یہ کھانا ہفتے والے دن گزشتہ رات تیار کیے گئے شوربے میں شامل چکن کی بوٹیوں سے بنایاجاتا تھا۔ میری دادی ہر چیز میں لہسن، پیاز، بہت سا نمک اور عموماً خشک و تازہ اجوائن استعمال کرتی تھیں۔ اینڈرسن بھی ایسا ہی کرتا ہے۔میری دادی کو اس عمل کے لیے گوشت کو جہاں گھنٹوں ابالنا پڑتا تھا وہیں Beyond Meatوالے یہ کام سویا پروٹین کو مخصوص دباؤ کے تحت ذائقے دار کھارے پانی میں ڈال کر کرتے ہیں تاکہ مائع اور ذائقہ باہم اچھی طرح جذب ہو جائیں۔ ٹائی سن یا ایسے ہی کسی مشہور برانڈ کے سبزی والے چکن میں بھی گوشت کا ذائقہ ہوتا ہے مگر اسے ہم ہلکا ذائقہ کہہ سکتے ہیں۔ ان کی سخت ریشہ دار بافتیں Beyond Meatکی چکن والی پٹیوں کی نسبت واضح طور پر گوشت سے بنی معلوم ہوتی ہیں۔ R&D کے انچارج، ٹم گیسٹلنگرنے مجھے ’’بچھڑے ‘‘سے تیار کی گئی چکن پٹیوں کا نیا نمونہ دکھایا۔ یہ حالیہ نمونے سے کہیں زیادہ رنگا رنگ اور دھاری دار ہے۔ بہتر آبیدگی (ہائیڈریشن) کی بدولت نئی پٹیاں ٹائی سن کے بیگ سے نکلنے والی پٹیوں جیسی دکھائی دیں گی۔میں نے Beyond Meat کے چکن والے بیگ کے ایک بڑے حصے کا جائزہ لیا۔ اس وقت میں واقعتا اس کے بارے میں کچھ نہیں سوچ رہا تھا۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس وقت میں ٹائی سن کے بجائے Beyond Meatکی بنائی چیز ہی کھانا پسندکرتا۔

fake_meat_1

Beyond Meatکاتیار کردہ Beastنامی جزو زیادہ دقت طلب ہے۔ ا س کی تیاری میں استعمال ہونے والے صحت بخش پاؤڈر کے ذائقے کو چھپانے کے لیے اس میں بہت سا پیاز، لہسن، کالی مرچ ، مسکیت اور چینی ملائی جاتی ہے۔ تاکہ براؤن ٹی وی شو میں دعویٰ کر سکے کہ اس میں اصلی گوشت کے مقابلے میں کہیں زیادہ آئرن اور پروٹین نیز سالمن مچھلی کی نسبت کہیں بڑی تعداد میںOmega-3sپایا جاتا ہے۔ اس میں صرف ہائیڈریشن کی کمی ہے جس کے باعث آپ کو اسے کھانے میں بعض مائع اشیاء بھی درکار ہوتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ براؤن اسے کیچپ، کٹے ہوئے ٹماٹر اوریخ سلاد کے ساتھ کھا رہا تھا۔

اس حوالے سے غیرمعمولی بات یہ نہیں کہ یہ اشیاء اصلی چکن اور بڑے گوشت سے کس قدر ملتی جلتی ہیں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری ذائقے کی پہچان کس قدر پست ہو گئی ہے۔ اگر بل گیٹس اور Beyond Meatمیں سرمایہ کاری کرنے والے دوسرے مشہورلوگ بیوقوف بن سکتے ہیں (جیسا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں) تو اس کی بڑی وجہ چکن یا گوشت کے پارچوں کا اصل ذائقہ نہیں بلکہ وہ ذائقہ ہے جس کے وہ عادی ہیں۔ میں بیورلے ولشائر ہوٹل میں لاس ویگاس کے سب سے مہنگے سٹیک ہاؤس گیا۔ یہاں ایسے گوشت (سٹیک) نامی کوئی چیز نہیں ہوتی جس میں بافتوں کے درمیان چربی پائی جاتی ہو۔

Beyond Meatاور اس کے حریف ایسی چیز کی تیاری سے کوسوں دور ہیں۔ ایک مرتبہ جب آپ سرمئی مچھلی کو کھرچ ڈالتے ہیں اور گھر میں تیارکردہ چٹنی نیز بروش کو کھانے میں شامل نہیں کرتے تو یہ سخت کرکری ہڈی سپر مارکیٹ میں ملنے والے خشک اور بدذائقہ گوشت کے ٹکڑوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے جسے اینڈرسن نے Beastکے ساتھ پٹخ دیا تھا۔

سادہ گوشت ایک ہولناک شے معلوم ہوتی ہے۔ ذائقے اور نمی پر ضروری محنت کرنے کے بعد اینڈرسن اور گیسٹلنگر اسے بہتر شکل میں لے آئیں گے جو فی الوقت پکائی ہوئی ڈاگ فوڈ جیسا دکھائی دیتا ہے۔ وہ سکولوں کے کیفے ٹیریا کا لازمی جزو سمجھے جانے والے سالزبری سٹیک کو بھی بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ اینڈرسن کے مطابق اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی یہ مقصد پالے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہڈی کے بغیر چکن کا سینہ تیار کرنا بھی ان
کے پروگرام میں شامل ہے۔ دونوں کا خیال ہے کہ اس چیز کی تیاری میں کامیابی بھی دور کی بات نہیں۔

ٹیسٹ ٹیوب گوشت کی صورت میں ایک اور متبادل بھی موجود ہے جسے ہم مصنوعی یا لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگرچہ 2013ء میں لندن میں ایک پریس کانفرنس میں اس گوشت سے تیار کیے گئے برگر کا نمونہ پیش کیا گیا تھا جس کی قیمت تین لاکھ 32ہزار ڈالر رکھی گئی تھی ۔ تاہم اس کے باوجود فوری طور پر عام استعمال کے لیے ایسا گوشت تیار کرنا ممکن نہیں۔گلابی رنگت کا یہ گوشت Maastrichtیونیورسٹی کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔ اس تجربے کی نگرانی رگوں کے ماہر حیاتیات دان اور سرجن مارک پوسٹ نے کی تھی۔

اس گوشت کی تیاری میں بڑے جانور کی گردن کے عضلات سے لیے گئے اربوں خلیے استعمال ہوئے تھے جنہیں مصنوعی قوت بخش اجزاء اور گائے کے جنین کے رقیق مادے پر مشتمل گرم سیال میں نمو دی گئی تھی ۔ خلیوں کو عضلاتی ریشوں کی صورت دینے کے لیے محققین نے سیال میں جنین کے مادے کی مقدار کم کر دی جس سے خلیوں کو تقسیم اور باہم جڑنے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے خلیوں کو ایک وسطی کالم کے گرد لعاب دار مادے میں لٹکادیاجس سے انہیں اکٹھا ہونے اور عضلاتی ریشے بنانے میں مدد ملتی ہے۔ جب اس برگر کے حوالے سے لائیو ٹیسٹ لیا گیا تو کھانے والوں کا کہنا تھا کہ یہ بالکل عام برگر جیسامگر اس سے قدرے کم رسیلا تھا جبکہ حیران کن طور پر اس میں خستگی بھی نمایاں تھی(مصنوعی گوشت سے یہ برگر سرگئی برن نے تیار کیا تھا) ۔

نیویارک کے علاقے بروکلین میں قدرے مزید عملی ذہن رکھنے والے محققین ’’ماڈرن میڈو‘‘نامی کمپنی میں مصنوعی گوشت تیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں گیبورفورگاکس(یہ نظری طبیعیات دان تھے جو بعد ازاں ترقیاتی حیاتیات کے شعبے میں آ گئے) اور ان کا بیٹا اینڈراس بڑے گوشت کے خلیوں کو سی کر ان میں میدہ اور مصالحہ جات شامل کر کے مختلف اقسام کی چیزیں بناتے ہیں جن میں پکے ہوئے ’’گوشت کے چپس‘‘ بھی شامل ہیں۔ ان کی اصل کمپنی Organovoادویات کی جانچ کے لیے زندہ عضلات بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بظاہر خوراک کی تیاری بھی ایسا ہی کام ہے۔

کتابی طور پر دیکھا جائے تو مصنوعی گوشت ناصرف تیار کرنا ممکن ہے بلکہ یہ اس میدان میں ہونے والی کسی بھی نئی ایجاد کی نسبت اصل گوشت سے قریب تر ہو گا۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس میں گوشت کے مختلف ذائقے شامل ہوں گے۔مگر یہ عمل تاحال تحقیق کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس سلسلے میں ماہرین کو کئی مسائل درپیش ہیں۔ سائنس دانوں کوبہرصورت یہ پتا چلانا ہوگا کہ بافتوں کے اندر چربی، رگیں اور ہڈیاں کیونکر پیدا کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیوں کو زندہ رکھنے کے لیے وریدیں اور خون کی نالیوں کا نظام بھی بجائے خود ایک مشکل کام ہوگا کہ اس کے بغیر خلیے گل سڑ جائیں گے۔ یہ کام بے حد مہنگا بھی ہے جیساکہ میرولڈ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں ’’ایک پاؤنڈ گوشت کی تیاری پر محض 10ڈالر کے بجائے لاکھوں ڈالر خرچ ہوں گے‘‘

fake_meat_2

سچ مچ نیا

کھانا پکانے والوں کو ان تمام باتوں سے زیادہ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ صنعتی پیمانے پر گھٹیا گوشت کی تیاری میں مزید کامیابی سے لوگوں کو بیوقوف بنا کر اس جانب نہیں لایا جاسکتا۔ مسلمہ طور پر ان کمپنیوں میں سے کوئی بھی ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ذائقے کے محاذ پر لوگ ان کا ہدف نہیں ہیں۔ مگر جو لوگ اس محاذ پرآنا چاہتے ہیں ان کے لیے نئی تحقیق حقیقی بہتری کا باعث ہو سکتی ہے۔ میں یہ دیکھنے میں دلچسپی رکھتا ہوں کہ باورچی مکمل طور سے نئی بافتیں بنانے کی غرض سے لحمیات کو الگ کر نے کے حوالے سے ان کمپنیوں کے طریقہ کار کو کیسے استعمال کریں گے۔ اس حوالے سے دو کھانوں نے میری رہنمائی کی۔ میں نے انہیں Washokuکے پیشہ ور ماہرین میں مقابلے کے دوران آزمایا۔ یہ کھانا پکانے کا جاپانی فلسفہ ہے جس میں سادہ اور پھر اعلیٰ درجے کے نتائج سے Umamiنامی کھانے کو بہتر سے بہتر انداز دیاجاتا ہے۔ ان میں ایک Tofuتھا جسے جاپانی شہر کیوٹو کے بدھ بھکشوؤں کا خاص کھانا کہاجاتا ہے۔ پیسٹری جیسی اس خوش ذائقہ ڈش پرسینکے ہوئے تل اورسویا کی ہلکی تہہ ہوتی ہے۔ یہ نہایت نفیس شے ہے اور میں نے قبل ازیں اس جیسا Tofuکبھی نہیں کھایاتھا۔ حتیٰ کہ کوریا ٹاؤن کے ہوٹلوں میں بھی ایسی چیز نہیں ملتی جہاں وہ ہر چند گھنٹوں کے بعد تازہ کھانا تیار کرتے ہیں۔

ان میں دوسرا روشن سفید Tofuکا چھوٹا سا پیالہ تھا۔ یہ بالکل ویسی ہی ڈش تھی جسے رینی ریڈزیپی، لارس ولیمز اور ان کے عملے نے ٹوکیو کے علاقے نوما میں ڈنمارک کے ریسٹورنٹ کی شاخ کھولتے وقت بنایا تھا۔ انہو ں نے یہ کلاسیکی جاپانی ڈش تیار کرنے کی جرأت کی تھی جوکسی طور آسان کام نہیں ہے۔ یہ بات ایک رات ولیمز نے مجھے بتائی، اس وقت ہم کچن کے عملے کو کام کرتا دیکھ رہے تھے۔ Tofuکا چھوٹا سا ٹکڑا ذائقے میں دودھ یا سویا جیسا نہیں تھا تاہم اسے دیکھ کر انہی دونوں چیزوں کا خیال ذہن میں ابھرتا ہے۔ یہ ایک تازہ تیار کیے گئے Tofuکی بہترین مثال تھی۔ دنیا کو محفوظ بنانے اور اسے مطبخی ایجادات سے محفوظ رکھنے کا طریقہ انہی باورچیوں کے ہاتھوں میں ہو سکتا ہے۔

(کوربی کومیر’’ دی اٹلانٹک ‘‘کے ایڈیٹر اور بوسٹن و اٹلانٹا میگزین کے لیے ریسٹورنٹس کے نقاد ہیں)

تحریر: کوربی کومیر

Read in English

Authors

*

Top