Global Editions

مصنوعی ذہانت کے حامل کرداروں کی تخلیق

ایک اچھی فلم یا کردار کی تخلیق میں بہت وقت لگتا ہے اور اگر مصنوعی ذہانت کے حامل کردار جیسے سری Siri، کورٹانا Cortana اور الیکسا Alexa تیار کرنا مقصود ہوں تو ان کے لئے بھی ایسی ہی محنت درکار ہوگی۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک تحریر میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد جن میں شاعر، مصور، کہانی نویس، ادیب اور مزاح نگار شامل ہیں ہی درحقیقت اس خیال کا سبب بنے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے حامل ایسے کردار تخلیق کئے جائیں جو ان فنکاروں اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کے نائیبین کے طور پر کام کر سکیں۔ وہ کسی مزاحیہ فنکار کی طرح طنزیہ جملہ اچھال سکیں، کسی کہانی کا پلاٹ ترتیب دے سکیں یا شخصیت کے چھوٹے چھوٹے پہلوئوں پر نظر رکھ سکیں۔ یہ خیال ایک خیال باطل نہیں بلکہ قرین از قیاس ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے نائب کے طور پر تیار کئے گئے سافٹ وئیر کو استعمال کریں اور سافٹ وئیر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا کردار فعال، قابل دسترس اور مستقل خصوصیات کا حامل ہو اور وہ Siri کی طرح ڈبوں کو بجا سکے تو ایسا ہونا اب مشکل نہیں۔ تاہم یہ ذہن میں رہے کہ مصنوعی ذہانت کا حامل آپ کا نائب چند خصوصیات کا حامل تو سکتا ہے مگر مکمل طور پر فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کے مصنوعی ذہانت کے حامل انٹرفیس بنانا نہایت متنازع اور مشکل ہے اور ایسا سافٹ وئیر آپ کے سوال پر کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر کچھ بھی ردعمل ظاہر کر سکتا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسے جتنے بھی سافٹ وئیر تیار کئے گئے ہیں وہ خاتون کی آواز کے حامل ہی ہیں اور تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ خاتون کی آواز کے حامل سافٹ وئیر ہی ابھی تک کامیاب رہے ہیں لہذا یہ کہنا آسان نہیں کہ جنس مخالف کی آواز میں ایسے سافٹ وئیر کامیاب ہونگے یا نہیں۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors

*

Top