Global Editions

مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی

فنانس کمپنی یو ایس اے اے کےڈیٹا سائنس کے سربراہ رابرٹ ویل بورن Robert Welborn کے مطابق، ۓ2015 ءمیں مشین لرننگ کے کاروباری احساس بہتری آئی ۔ اس کی بنیادی وجہ مشین لرننگ کے اوزاروں کی ـآسان فراہمی، سستی پروسیسنگ ٹیکنالوجی، اور ڈیٹا محفوظ کرنے کے اخراجات میں تیزی سے کمیہے۔جب اس پیش رفت کو یو ایس اے اے کی ڈیٹا سے ملایا گیا تو جس ٹیکنالوجی کو سمجھنے میں کئی دہائیاں صرف ہوئیں وہ اچانک عملی لگنے لگی۔اس کے علاوہ گوگل اوربیدُو Baidu سمیت صنعتوں کا ایک بڑا گروپ اس بارے تحقیق کررہا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کومختلفشعبوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔بزنس رپورٹ کے یہ بڑے سوال ہیںکہ مصنوعی ذہانت کس طرح تجارتی بنیادوں پر استوار ہو گی اور کیسے ان کی صنعتوں میں ٹیکنالوجی تبدیلی لائے گی۔

آج کل بڑے پیمانے پر صنعت کو مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر اور خدمات فروخت جاری ہے۔آئی ڈی سی میں تحقیقی ڈائریکٹر ڈیوسکبمیل( Dave Schubmehl) کے مطابق مصنوعی ذہا نت پر مشتمل ادراکی سافٹ ویئر نے گزشتہ سال کے دوران ایک ارب ڈالر کا بزنس کیا جس میں گوگل اور فیس بک شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ 2020 ء تک یہ کاروبار 10 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا ۔ بلوم برگ کے مطابق آئی بی ایم اورپلانٹیر (Palantir) جیسے چند بڑے کھلاڑیوں کے مقابلے میں قریباً 2600نئی کمپنیاں مارکیٹ میں کام کررہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں تیزی سے ترقی کے باوجود ابھی طویل راستہ طے کرنا باقی ہے۔ مصنوعی ذہانت میں ابھی ہم پیٹرن کی شناخت، قدرتی زبان کی پروسیسنگ، تصویر شناسی، اور مفروضوں پر کام کرنے تک ہی پہنچے ہیں۔یو ایس اے اے (USAA)، شناختی معلومات کی چوری کو پکڑنے کیلئے مصنوعی ذہانت کو بڑے اچھے انداز میں استعمال کررہی ہے۔ ویل بورن کہتے ہیں کہ یہ سسٹم گاہک کے عام رویے سے ملنےوالی بے ضابطگیوںکوپہلے ہی قدم پر شناخت کرکے ان کی نشاندہی کرتا ہے۔ جبکہ روایتی نظام جب تک جرم دوسری مرتبہ نہ ہو اسے نہیں پکڑ سکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا تربیتی نظام چیزوں کو سمجھنے میں بہت بہترہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ یو ایس اے اے میں کسٹمر سروس کو بہتر بنانےکے ایک اور منصوبے کا تجربے پرکام ہو رہا ہے اس میں سیفران (Saffron)کی بنائی گئی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا گیا ہےجس کے تحت یہ انسانی دماغ کی طرف سے رابطے کے اشاروں کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کی مصنوعی ذہانت کے سسٹم میں قریباً 7000مختلف عوامل کے اشتراک سے ٹیکنالوجی، کسٹمر کے رویوں کے وسیع پیٹرنزموازنہ کر سکتی ہے اور 88فیصدتک درست پیش گوئی کرسکتا ہے کہ کون سا کسٹمر ویب، فون اور ای میل پر دوبارہ رابطہ کرے گا۔مصنوعی ذہانت کے سسٹم کے بغیر یو ایس اے اے 50فیصد درست پیش گوئی کرسکتا ہے۔ یہ کام اب وسیع پیمانے پر کیا جارہا ہے۔

جنرل الیکٹرک کمپنی ، اعلیٰ مہارت کے حامل جیٹ انجن بہتر بنانےکیلئے مصنوعی ذہانت استعمال کر رہی ہے۔ جب جنرل الیکٹرک نے این بی سی یونیورسل کو خریدا تو اس وقت مصنوعی ذہانت کمپیوٹر وژن کیمرے اور سی اے ڈی CAD ڈرائنگز اور کیمروں سے حاصل کردہ ڈیٹا اور انفراریڈ ڈیٹیکٹر پر مشتمل تھی ۔ جنرل الیکٹرک نے ان میں بہتری لا کر جہاز کے انجن کے بلیڈ میں ٹوٹ پھوٹ اور دیگر مسائل کا پتہ لگانے میں کامیابی حاصل کی اور اس نظام نے انسانی روائتی جائزے میں رہ جانے والی غلطیوں کا خاتمہ کردیا۔ جنرل الیکٹرک کے نائب صدر کولِن پیرس (Collin Parris)کہتے ہیں کہ پروگرام نے جوابی ردعمل سے بھی بہت کچھ سیکھا۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئی مصنوعات اور خدمات متعارف کروائی جاسکتی ہیں۔ مثلاً مصنوعی ذہانت کی ویب سائٹس مائی فٹنس پال (MyFitnessPal) میں دی گئی ایکسرسائزز سے، کیلوریز سے باخبر رہنے کی ایپلی کیشن اور دیگر مصنوعات مثلاً کھیلوں کا سامان فراہم کرنے والی کمپنی انڈر آرمر (Under Armer)کے صارفین کی تعداد 160 ملین ہو چکی ہے۔ لیکن محض لوگوں کی ورزش کے نتائج تک محدود ہونے کی بجائے کمپنی نے آئی بی ایم (IBM)سے معاملہ طے کیا ہےکہ جس سے ان کا ادراکی کمپیوٹنگ بزنس سسٹم صحت اور غذائیت سے متعلق معلومات نیند، روزانہ کی سرگرمی، فٹنس کے بارے میں آگاہی فراہم کرے گا۔

یو ایس اے اے اور انڈر آرمر کی کمپنیوں کیلئے مصنوعی آلات کے حوالے سے مستقبل بہتر نظر آتا ہے۔ اس خوف باوجود کہ مصنوعی ذہانت سے افرادی قوت ،انسانی فیصلے اور ردعمل میں کمی آئے گی پھر بھی کمپنیاں مشین لرننگ نظام کو بہتربنانے کیلئے پُرعزم ہیں۔

تحریر: نانیٹے بائرنز (Nanette Byrnes)

Read in English

Authors

*

Top