Global Editions

مصنوعی ذہانت کی ترقی کےلئے ایک ارب ڈالر خرچ کرنےکا منصوبہ

مصنوعی کی ترقی و ترویج کے لئے کچھ بڑے نام سامنے آ گئے ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں ایک ارب ڈالر مالیت سے غیر منفعت بخش پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور اسے OPEN AI کا نام دیا گیا ہے اس پروگرام کے آغٓاز کا مقصد مصنوعی ذہانت کی اس طرح سے ترقی ہے کہ وہ انسانوں کے لئے بیکاری کا باعث نہ بن سکے اور نہ ہی انہیں پیچھے چھوڑ سکے۔ آسان الفاظ میں یوں کہیے کہ اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ایسے انداز میں ترقی دی جائے جس سے انسانی عقل و شعور کو بھی موثر انداز میں بروئے کار لایا جا سکے اور مصنوعی ذہانت ان کے لئے چیلنج نہ بن سکے۔ اس کاوش کو چند بڑے اداروں اور نامور شخصیات کی مدد حاصل ہے جن میں وائی کمبینیٹر کے سام آلٹمین (Sam Altman) ، ایلن مسک (Elon Musk) لنکڈان (Linkedin) کے ریڈ ہوفمین (Reid Hoffman) اور پیٹر تھیل (Peter Thiel) شامل ہیں اس کام میں چند نامور انجیئنر بھی شامل ہیں جن میں عیلیا سوٹسکیور (Ilya Sutskever) قابل ذکر ہیں یہ گوگل کے ڈیپ لرننگ کے ماہر ہیں۔ ان تمام حضرات نے یہ پروگرام شروع کرنے کا اعلان حیران کن طور پر مانٹریال میں ہونے والی این آئی پی ایس (NIPS) کے اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں یہ امر مشاہدے میں آیا کہ اب مصنوعی ذہانت کے تحقیق کار مصنوعی ذہانت کے استعمال کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں اور اس حوالے وہاں ایک سمپوزیم کا بھی اہتمام کیا گیا اور شائد یہی وجہ تھی اتنی بڑی مالیت سے پروگرام شروع کیا گیا۔ اگرچہ ماہرین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے طویل المدتی اثرات کا جائزہ لینا اجلاس کے اغراض و مقاصد سے متصادم تھا کیونکہ وہ وہاں مشینی آموزش کے طریقہ کار کی تکنیک میں بہتری اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو زیر غور لانے کے لئے جمع ہوئے تھے، تاہم وہ بنی نوع انسان کے مستقبل سے فکر مند بھی ہوتے رہے۔ اس امر میں کوئ شک نہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں حالیہ برسوں کے دوران خاصی ترقی ہوئی ہے اور اس سلسلے میں سرگرمی سے سیکھنے کی صلاحیت اور اس کے لئے تحقیق کاروں کی کاوشوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس طریقہ کار نے تصاویر اور آوازوں کی شناخت کے مشکل اور پیچیدہ کام کو سہل بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طریقہ کار کو مزید ترقی دی جائے اور اس علم کو اس طرح بروئے کار لایا جائے جس سے انسانی عقل و شعور کی بھی ترقی ممکن ہو سکے۔ ابھی بھی مشینی آموزش روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور کیا یہ اس امر کا جائزہ لینے کا غلط وقت ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے مضمرات کو زیر بحث لایا جائے۔ تاہم ہم سب OPEN AI کی کاوشوں کے نتائج جاننے کے لئے بیتاب ہیں۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top