Global Editions

مصنوعی ذہانت کو قواعد کے تابع کرنے کےلئے امریکی حکومت کے اقدامات

کیا امریکی حکومت مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کیلئے قواعد مرتب کرنے پر کام کررہی ہے؟ یا اسے قواعد و ضوابط کے تابع لانا چاہتی ہے؟یہ سوال گذشتہ دنوں وائٹ ہاؤس کے زیر اہتمام ہونیوالی ورکشاپ میں موضوع بحث رہا۔ یہ ورکشاپ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مضمرات اور اسکے حکومت اور گورننس پر اثرات کا جائزہ لینے کیلئے منعقد کی گئی تھی۔ اس ورکشاپ کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف ٹیکنالوجی آفیسرایڈفیلٹن (Ed Felton)کا کہنا تھا کہ ہم مشینی آموزش اور مصنوعی ذہانت سے منسلکہ امور کا جائزہ لے رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی کس کس طرح سے معاشرے ، معاشرت اور گورننس پر اثر انداز ہوسکتی ہے ۔ ہم سنجیدگی سے سوچ بچار کررہے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو کس طرح قواعد و ضوابط کے تابع کیا جائے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکا جائےکیونکہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی ترقی کرتی جائے گی یہ سمارٹ سے سمارٹ تر ہوتی چلی جائیگی اور ایسی صورتحال میں اس کیلئے موثر قوانین کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ یونیورسٹی آف واشنگٹن میں قانون کے پروفیسر ریان کالو(Ryan Calo)کا کہنا ہے کہ اس ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس وقت کس مرحلے میں ہے اور یہ کس حد تک ترقی کرسکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ورکشاپ کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ حکومت آگے بڑھے اور مصنوعی ذہانت کو قواعد کے تابع کرے بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو کس طرح مختلف مقاصد جیسے باہمی رابطے ، پرکیورمنٹ وغیرہ کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس ورکشاپ میں مختلف ٹیکنالوجی انٹرپینئیویورز، تعلیمی اداروں کے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبہ سے وابستہ افراد اور عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ اس کانفرنس میں سب سے قابل ذکر تقریر ایلن سکول فار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے چیف ایگزیکٹو اورین اٹیز انیوائے(Erean Etzinio)نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشینی آموزش اور مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کے حوالے سے ہم ابھی پتھر کے دور میں ہیں۔ مصنوعی ذہانت میں کامیاب ہونے کا دارومدار اس امر پر ہے کہ ہم کس طرح درپیش مشکلات کو بیان کرتے ہیں یعنی ہم جتنی وضاحت سے مسئلے کو بیان کرینگے اتنی ہی آسانی کے ساتھ مسلئے کا حل تلاش کیا جا سکے گا اور یہ حل انسانیت کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ مثال کے طورپر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں ہی لیئجے۔ ٹریفک مسائل اور انسانی رویے جس وضاحت کے ساتھ بیان کئے جائیں گے اتنا ہی انسانی زندگی کو محفوظ بنا یا جاسکے گا۔ اس طرح ہسپتالوں کا جائزہ لیں اگر ہم درست انداز میں مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے توہم ہسپتالوں میں انسانی زندگیوں کو بچاسکیں گے۔ان کاماننا تھا کہ مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کو قواعد کے تابع لانے کے باوجود 99فیصد امور انسانوں کو ہی سرانجام دینا ہیں ۔میرا روبوٹ وہی کریگا جس کی اجازت اسے اسکا پروگرام یا الگورتھم دے گا۔ مصنوعی ذہانت کو قواعد کے تابع لانے کیلئے ورکشاپس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں مزید تین ورکشاپس ہونا باقی ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ وائٹ ہاؤس باقاعدہ طور پر عوام الناس سے اپیل کرے گا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے اپنے خیالات یا فیڈبیک سے انہیں آگاہ کرے گا۔

تحریر: مارک ہیرس (Mark Harris)

Read in English

Authors
Top