Global Editions

مصنوعی ذہانت کا حصول۔۔۔۔کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ

سٹینفورڈ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے امیدوار اندریج کرپاتھی (Andrej Karpathy)نے ایک ایساسافٹ ویئر تیارکیا ہے کہ جو انسانوں کینقل کرسکتاہے ۔ اندریج کرپاتھی گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ طلباء کی ایک کلاس میں سمجھارہے تھے کہ کمپیوٹر کے بنائے ہوئے عصبی نیٹ ورک کو، تصویر دیکھ کر کسی بھی چیز کی پہچان کرنے کی کس طرح تربیت دی جاتی ہے۔ اچانک کمرے کے وسط سے ایپل کے سافٹ وئیر سری کی مصنوعی آواز گونج اٹھی ” میں یقین سے نہیں کہہ سکتا آپ نے کیا کہا تھا ” ۔سری کا سافٹ وئیر شاید اتفاقی طور پر چالوہو گیا تھاجسے سن کر کلاس روم کھلکھلا اٹھا۔ اس کلاس روم میں طلبا یہ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے کہ ایک سافٹ ویئر کس طرح بہتر انداز میں انسانوں اور ہمارے ڈیٹا کو سمجھ سکتا ہے۔بڑی بڑی کمپنیاں ایپل، آئی بی ایم، گوگل یا فیس بُک میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی بہت ڈیمانڈ ہے۔

کرپاتھی کی کلاس کے طلباء مناسب ملازمت ملنے کی امید پر گریجویشن کررہے ہیں۔ آج کل یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ بڑی کمپنیاں ذہین افراد کی تلاش میں پوری کی پوری نئی کمپنی خرید لیتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت میں مقابلہ بہت سخت ہوتا جارہا ہے اسی لئے چھوٹی کمپنیاں کوسمولوجی (Cosmology)اور طبیعیات کے شعبوں میں بھی کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کو بھرتی کررہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی نئی کمپنی میلیوبا (Maluuba)کے سی ای او سام پاسوپلک) (Sam Pasupalak نے بھرتی کے ماہرین رکھے ہوئے ہیں جو ہر روز اچھے ملازمین کی تلاش کیلئے شائع ہونے والے تعلیمی و تحقیقی مقالات کی چھان بین کرتے رہتے ہیں۔ وہ ملازمین بھرتی کرنے کیلئےان سے مل کر بات چیت کرتے اور خیالات جانتے ہیں۔ ملازمین بھرتی کرنے والی کمپنی ہیڈرک ایند سٹرگلز(Heidrick & Struggles)کے پارٹنر والے جوشوا کلارک(Joshua Clark)کہتے ہیںکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا بیک گرائونڈ رکھنےوالے امیدواروں کو بڑی تنخواہوں پر ترجیحاً رکھا جارہا ہے۔ بڑی کمپنیاں آئی ٹی کے شعبے میں اچھے ملازم حاصل کرنےکیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کررہی ہیں۔ خوش قسمتی سے 500 کمپنیاں جائزہ لے رہیہیں کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کے کاروبار کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔

کوئی بھی ترپاتھی سے بہتر کمپنیوں کے درمیان مصنوعی ذہانت کیلئےجاری جنگ کو بیان نہیں کرسکتا۔ پی ایچ ڈی کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک چمکتا ہوا ستارہ تھا۔ وہ مئی میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد نئی غیر منافع بخش کمپنی اوپن اے آئی (Open AI)کے بانیوں میں سے ایک ہوں گے۔ انہوں نے اوپن اے آئی اور گوگل میں دو ماہ کام بھی کیا ہے۔

اوپن اے آئی نے پیٹر تھیل (Peter Thiel)، ایلون مسک (Alon Musk) اور کمپنیوںبشمول ایمیزون ویب سروسز کی طرف سے ایک ارب ڈالر عطیات کا بھی اعلان کیا۔ کرپاتھی بچپن ہی سے کمپیوٹر میں دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ سلوواکیہ کے شہر کوسک میں پانچ یا چھ سال کا تھا تو اس نے ایک پی سی کیلئےاپنے والدین کیمنت کی۔ وہ قصبےمیں پہلا شخص تھا جس نے کمپیوٹر لیا۔ انہیں کمپیوٹر پر گیمز کھیلنا اور ایم ایس پینٹ کے ساتھ تصاویر بنانا یاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “پروگرامنگ بھی ایک تخلیقی کام ہے”۔

نوجوانی میں کینڈا آنے کے بعد ٹورانٹو یونیورسٹی میں داخلہ لیتے وقت کرپاتھی کو توقع تھی کہ وہ کوانٹم کمپیوٹر پر کام کریں گے۔ لیکن مشین لرننگ ماہر جیفری ہنٹن کی ایک کلاس نے ان کا دماغ تبدیل کردیا۔ جیفری ہنٹن کمپیوٹر کے عصبی نظام کے بانیوں میں سے ایک تھے۔کرپاتھی کہتے ہیں کہ کمپیوٹر کا عصبی نظام انسانی دماغ کی طرح کام کرنے کیلئے بنایا گیا ہے۔ یہ نظام باہمی تعلق بناتاہے، پیٹرن کی شناخت کرتا ہے تصویر شناخت سکھاتا ہے، ادویات تلاش کرتا ہے۔ اور انسانوں کی طرح سری کی باتیں سنتا اور جواب دیتا ہے۔ اگر کمپیوٹرز انسانوں جیسی سوجھ بوجھ کے ساتھ ڈیٹا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ کام کریں تو مصنوعی ذہانت کے ذریعے روبوٹکس ، خودکار کاروں، سیکورٹی سسٹم، آوازوں اور چہروں کی شناخت ، آرٹ پر بہت کام ہورہا ہے۔

کرپاتھی نے محض تفریح کیلئے ایک عصبی نیٹ ورک کا کمپیوٹر پروگرام بنایا جس میں کمپیوٹر کسی بھی رائٹر مثلاً شیکسپئیر یا اوباما یا جس کی بھی تحریر کی اسےتربیت دی جائے اسے نقل کرنا سیکھ سکتا تھا۔ سو لائنوں پر مشتمل عصبی نیٹ ورک پروگرام کاکوڈ طویل نظموں، ریاضی، یا علامتوں میں سے کوئی پیٹرن تلاش کر سکتا تھا۔

ترپاتھی کہتے ہیں کہ ان کے پروگرام کے ذریعے جو کچھ اس وقت کیا جا رہا ہے وہ خاصا فضول ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آ جائے گی۔کرپاتھی نے فیصلہ کیا کہ اپنے کمپیوٹر عصبی نظام کے کوڈ کو عام پبلک کیلئے آن لائن کردےگا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوڈ آن لائن کرنے سے مشینی مصنوعی ذہانت میں بہتری آئے گی۔ بروکمین (Brockman)کہتے ہیں “بہترین لوگوں کو بہترین لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔

تحریر: کیتھرین بورزاک (Katherine Bourzac)

Read in English

Authors
Top