Global Editions

مصنوعی ذہانت:دو ارب ڈالر کی لاگت سے نئی چپ تیار

حالیہ برسوں میں ہونے والی ترقی کے باعث مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھی ترقی کی رفتار حیران کن طور پر بہت زیادہ رہی ہے۔ اس میدان میں ایسے سافٹ وئیر تیار کئے گئے ہیں جن کی مدد سے کمپیوٹر مصنوعی ذہانت کی مدد سے زیادہ تیزی کے ساتھ تصاویر، آوازیں اور دیگر ٹاسک مکمل کر رہے ہیں۔ اب ناویڈا (Nvidia) نامی کمپنی کی جانب سے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں ہارڈوئیر تیار کرنے میں شہرت رکھتی ہے اور اس میدان میں اس کا کوئی مقابل نہیں۔ ناویڈا (Nvidia) نے گزشتہ دنوں ایک نئی کمپیوٹر چپ (Tesla P100) تیار کرنے کا اعلان کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اس چپ کی مدد سے گہری آموزش یعنی Deep Learning کی استعداد کار بڑھانے میں بہت مدد ملے گی۔ اس تکنیک کا حالیہ دنوں میں اس وقت عملی مظاہرہ بھی کیا گیا جب گوگل کے سافٹ وئیر الفاگو نے دنیا میں ” گو ” کھیل کے عالمی چمپیئین کو شکست دی۔ Deep Learning کے عمل میں درحقیقت بہت بڑی تعداد میں ڈیٹا کی منتقلی ہے جس کے لئے مشینی نیورونز کی مدد لی جاتی ہے۔ اب Nvidia کی جانب سے تیار کی گئی نئی چپ P100 کی مدد سے ڈیٹا کی اس منتقلی کا عمل زیادہ تیز رفتاری سے مکمل کیا جا سکے گا اور اس کےساتھ ساتھ کمپیوٹر سائنسدان اپنے تیار کردہ مصنوعی نیورل نیٹ ورکس میں زیادہ بڑی تعداد میں ڈیٹا محفوظ اور منتقل کر سکیں گے یا یوں کہیے کہ سائنس دان زیادہ بڑی تعداد میں ورچوئل نیورونز نیٹ ورک ترتیب دے سکیں گے۔ مصنوعی نیورل نیٹ ورک اگرچہ کئی دہائیوں سے موجود ہیں تاہم گہری آموزش کی تکنیک گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہی بروئے کار لائی گئی ہے۔ Nvidia کمپنی کے چیف ایگزیکٹو چن ہوسن ہوانگ (Jen Hsun Huang) کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی کمپیوٹر چپ تیار کی جائے جو بنیادی طور پر اس مقصد کے لئے استعمال ہو سکے۔ سان جوز میں کمپنی کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ہم نے ایک ایسی چپ تیار کی ہے جو صرف مصنوعی ذہانت کی استعدادکار بڑھانے میں استعمال ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لئے ان کی کمپنی نے تتقیق اور تیاری کے ضمن میں دو ارب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے لئے تیار کئے جانیوالے مصنوعی نیورل نیٹ ورک جن میں اس چپ کا استعمال کیا جائیگا وہ ڈیٹا کی منتقلی اور محفوظ کرنے کا عمل گزشتہ چپ کے مقابلے میں بارہ گنا زائد رفتار سے کر سکے گا۔ ہوانگ کا کہنا ہے کہ یہ چپ اب پروڈکشن کے مراحل میں ہے اور اس کو سال رواں میں کمپیوٹر کمپنیز جن میں IBM, DELL اور HP اپنے سرورز میں نصب کرنا شروع کر دینگی۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors

*

Top