Global Editions

مسلم دنیا کا تاریک پہلو

مسلم دنیا کے تعلیمی ادارں پر کئے جانے والے سروے سےہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں باقی دنیا سے کافی پیچھے ہیں۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس وقت ایک ارب 60کروڑ مسلم آبادی کاسائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت کم حصہ ہے۔ مسلم دنیا 57ممالک پر مشتمل ہے جس نے اب تک صرف تین نوبل پرائز جیتنے والی شخصیات پیدا کی  ہیں۔ تاہم مسلم دنیا کی کچھ یونیورسٹیوں میں دنیا کی 500 یونیورسٹیوں سے قدرے بہتر کام ہو رہاہے۔ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ مسلم دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں باقی دنیا سے بہت پیچھے ہے۔ اس کا پتہ ہمیں کچھ اشارات سے ملتا ہے مثلاً یونیورسٹیوں کی درجہ بندی، تحقیق کے لئے مختص رقم، فی دس لاکھ لوگوں میں تحقیق کاروں کی تعداد، یونیورسٹیوں میں داخلے سے پہلے طلباء کی کارکردگی ہے۔

حال ہی میں بہت سے مسلم ممالک نے سائنس اور بالخصوص یونیورسٹیوں کے معیار کو بلند کرنے کیلئے بہت سے مفید کام کئے ہیں ۔ اس مقصد کیلئے بکھرے ہوئے وسائل کو یکجا کرکے سائنسی ترقی کیلئے استعمال کرنےکی کوششیں ہو رہی ہیں اور یونیورسٹیوں کو جامد صورتحال سے نکالنے کیلئے کام کیا جارہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم ممالک کی یہ کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔

یونیورسٹیاں کسی بھی تعلیمی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں علم کو فروغ دینے کیلئےتعلیمی اداروں کو مستحکم کرنے میں صدیاں لگیں۔ مسلم دنیا خصوصاً عرب ممالک میں یونیورسٹیوں کا قیام کو ایک نیا رحجان ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ عرب دنیا کی تمام یونیورسٹیاں بیسویں صدی کے آخری 25سالوں میں قائم کی گئیں۔ہم نے حال ہی میں مسلم دنیا میں یونیورسٹیوں کی حالت زار کا جائزہ لیا ہے جس میں پتہ چلا ہے کہ بہت سے ممالک نےترقی کی ہےیا یوں کہہ لیں کہ کم از کم آگے بڑھنے کیلئے تحقیق اور کتب کی اشاعت کے چونکا دینے والے کلچر کو اپنایا ہے لیکن اہم مسائل کو حل کرنا ابھی باقی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یونیورسٹیوں کی سطح سے پہلے کی سائنس کی تعلیم کا برا حال ہے۔ البتہ صورتحال اس وقت سے بہتر ہورہی ہے کہ جب سے نوجوان لڑکے لڑکیوں نے یونیورسٹیوں میں تعلیم دینا شروع کی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق مسلم دنیا میں یونیورسٹیو ں کا درجہ عالمی سطح پر اتنا بلند نہیں ہے۔ کیو ایس ورلڈ رینکنگ (QS World Ranking)کے 2014-15میں مسلم دنیا کی کوئی بھی یونیورسٹی پہلی 100یونیورسٹیوں میں نہیں آتی۔ تاہم عالمی درجے کی پہلی 400یونیورسٹیوں میں 17مسلم یونیورسٹیاں آتی ہیں (ان میں سے بھی 11یونیورسٹیاں عالمی درجے میں پہلی 300سے 400یونیورسٹیوں میں آتی ہیں )۔ یہ بار بار کہا جاتا ہے کہ ہمیں عالمی سطح پر مسلم دنیا کی یونیورسٹیوں کا درجہ بڑھانا ہے اور عالمی معیار کی یونیورسٹیاں قائم کرنی ہیں۔ اگرچہ مسلم دنیا کی یونیورسٹیوں کا درجہ تو کسی قدر بڑھا ہے لیکن عالمی معیار کی یونیورسٹیاں تا حال قائم نہیں ہو سکیں۔

Research-Papers-Athar

ہمارے ساتھ اسلامی دنیا میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ عموماً بچے 14سے 18سال کی عمر میں فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں سائنس کو بطور کیرئیر منتخب کرنا چاہئے یا نہیں لیکن یہاں پر بچوں کو معلوم ہی نہیں کہ انہیں اپنے منتخب مضمون میں رہتے ہوئے کس طرح آگے بڑھنا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بچے کی شخصیت میں بہتری پیدا نہیں ہوتی اس کے ساتھ ساتھ ان کی مختلف دلچسپیاں بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ انہیں سائنسی کیرئیر کے انتخاب میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔

آج کے دور میں سائنسدانوں اور انجینئروں کو تخلیقی اور اختراعی ذہن کا مالک ہونا چاہئے اور اسے بہت سے شعبوں اور مختلف اقوام کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ اس کیلئے ہمیں وسیع المنظر اور آزاد خیال تعلیم کی ضرورت ہے جو سائنسی نظریات ،تجربات کے ساتھ علم وادب، سماجی علوم، ابلاغ عامہ، لسانیات ، مختلف علمی شعبوں اور اقوام کے ساتھ روابط پر مشتمل ہو۔ ایسا کرنے سے ہمیں وسیع البنیاد علوم حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی بنیاد پر کشادہ ذہنوں میں دئیے گئے مسائل کے بنیادی اصول اور نظرئیے میں باہمی تعلق پیدا کرنے سے متعلق سوال اٹھایا جاتا ہے تاکہ ان کا پس منظر واضح ہو اور ان کو حل کرنے کیلئے موثر انداز میں علم کا استعمال کیا جاسکے۔

سائنس کی تدریس میں ایک کمزوری یہ ہے کہ مسلم دنیا کی یونیورسٹیوں کے نصاب میں فلسفہ اور سائنس کی تاریخ ہی موجود نہیں ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ سائنسدان جن کے پاس بہترین ذرائع موجود ہوتے ہیں وہ اپنے علم کی بنیاد پر کسی مسئلے کا نہایت گہرائی سے اور تنقیدی جائزہ لینے میں ناکام رہتے ہیں۔ شارجہ کی امریکن یونیورسٹی میں یہ تجربہ کیا گیا کہ طلبا کو اپنے سائنس مضامین کے ساتھ بشریات، تاریخ، ثقافت اور لسانیات میں سے کوئی ایک مضمون لازماً منتخب کرنا پڑتا ہے۔ یہ یونیورسٹی عرب دنیا میں پہلی دس یو نیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ قاہرہ اور بیروت کی دیگر امریکی یونیورسٹیوں میں بھی اسی طریقہ کار کو اپنایا گیاہے۔

کراچی میں حبیب یونیورسٹی ایک خوش کن اضافہ ہے جسے امریکی انداز کی لبرل آرٹس یونیورسٹی کا ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ جہاں کے طلباء کو سائنس اور انجینئرنگ کے ساتھ لبرل آرٹس میں سے کوئی مضمون بھی منتخب کرنا ہوتاہے۔ وہاں پر ایسے سائنسدان اور انجینئرز بنائے جار ہے ہیں جو معاشرے کے پیچیدہ اور باہم متصل مسائل کا حل پیش کرسکیں۔ طلباء کو لازماً ایسے مضامین مثلاً"جدت (Modernity)اور حکمت کو سمجھنا"کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔

نصابی اور تعلیمی ترقی
فلسفہ اور تاریخ سے منسلک نہ ہونے کی وجہ سے سائنس پر مذہبی اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ اگرچہ مغرب میں سائنس کواہمیت دی جاتی ہے اس کے باوجودارتقاء سے متعلق ڈارون(Darwin)کا نظریہ سطحی اور ماضی کے ٹوٹے ہوئے رابطے کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ایک اور چیلنج زبان کی مشکل ہے جس سے ہمیں نپٹنا ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں سائنسی زبان انگلش ہے ۔ ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو پوری طرح سے انگلش کو سمجھتے ہوئے جان پاتے ہیں کہ انہیں کیا پڑھایا جارہا ہے ۔

Table-Athar

کیا پڑھایا جائے اور کس زبان میں تدریس کی جائے ؟ ان سوالوں کے ساتھ مسلم دنیا میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سائنس اور ریاضی کو کیسے پڑھایا جائے۔ ہماری یونیورسٹیوں کا نصاب بہت بھاری بھر کم ہوتا ہے جس میں  طلباء کو یہ سمجھانے کی بجائے کہ سائنس کس طرح کام کرتی ہے ،سائنسدان کس طرح سوچتا ہے اور درپیش مسائل کو کس طرح حل کیا جاتا ہے؟ محض بہت سے موضوعات ایک ساتھ پڑھانے پر زور دیا جاتاہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات پر اتفاق رائے موجود ہے کہ ہمیں ٹھوس شہادتوں اور علمی اختراعات پر مبنی سائنسی علم کی تدریس کرنی چاہئے۔ہمارے پرانے طرز تدریس میں سائنس سے متعلق ٹھوس شہادتیں نہیں دی جاتیں جس سے طلباء میں تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ تحقیق پر مبنی سائنسی تعلیم ایک نیا ذریعہ ہے جس پر مسلم دنیا کے بہت سے ممالک میں کوشش کی جارہی ہے کہ اسے کلاس روم میں نافذ کیا جائے۔ لیکن مسلم دنیا ابھی تک ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے ۔
مسلم دنیا کے پیچھے رہ جانے کی بہت سے وجوہات ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں میں مقابلے کا رحجان موجود نہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی افراد پڑھا رہے ہیں لیکن کیا انہیں تدریس کی تربیت دی جاتی ہے۔ یونیورسٹیوں کی خودمختاری بھی اختراعی کاموں میں ایک رکاوٹ ہے۔

فرانسیسی مقولہ ہے کہ La Main a La Pateجس کا مفہوم ہے کہ کچھ پانے کیلئے محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہی مقولہ سائنسی تعلیم کیلئے فرانس کی سائنٹیفک سائنس کارپوریشن کا ماٹو ہے۔ فرانس اور دیگر ترقی یافتہ دنیا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM)کو اپنی تعلیم کی بنیاد بنایا ہے۔ مسلم دنیا بھی تحقیقی بنیادوں پر سائنسی تعلیم (Inquiry Base d Scientific Education) کو مقامی رنگ دے کر اپنا رہی ہے۔ تیونس میں پروفیسرڈی جبار (Djebbar)کے پروگرام ‘Découvertes en Pays d’Islam اسلام کے سنہری علمی و سائنسی دور کی مثالوں اور کہانیوں کے ساتھ سائنس کی تدریس میں مدد کرتا ہے۔

بنیادی سطح پر بھی تحقیقی بنیادوں پر سائنسی تعلیم کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں حتیٰ کہ پاکستان میں بہت سی تنظیمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے کام کررہی ہیں۔ جن میں بین الاقوامی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میلہ (International Science and Technology Fair) براق پلانیٹری سوسائٹی (Buraq Planatery Society)، خوارزمی سائنس سوسائٹی (Khwarizmi Science Society) اور پاکستان سائنس کلب (Pakistan Science Club)شامل ہیں۔ یہ طلباء سے سائنس میلوں، آسٹرونومی نائیٹس اور دیگر سیشنز کے ذریعے رابطے میں رہتی ہیں۔

متعلقہ اور ذمہ دار سائنس
یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اب تک مسلم دنیا میں سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے یونیورسٹیوں کو جمع کرائی گئی تحقیقی مقالہ جات، تحقیقی کتابیں، رجسٹرڈ پیٹنٹ ایجادات اور دی جانے والی سکالرشپس باقی دنیا سے کم ہے۔ ہم نے 20اسلامی ممالک کا 1996ء سے 2005ء اور 2006ء سے 2015ء تک کتابیات کی فہرست (Bibliographic Data)کا تقابلی جائزہ لیا تو بڑے دلچسپ حقائق سامنے آئے۔ تقابلی جائزے سے پتہ چلا کہ 1996ء سے 2005ء کے مقابلے میں 2006ء سے لے کر 2015میں زیادہ تحقیقی دستاویزات شائع ہوئیں۔ لیکن مسلمان ممالک میں تحقیقی مقالہ جات غیرمعیاری ہیں۔ ایک اور افسوسناک بات یہ ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے موقر جریدے "نیچر "(Nature)میں چھپنے والے 100تحقیقی مقالوں میں سے ایک بھی اسلامی دنیا سے نہیں ہے۔ تاہم مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق خصوصاً یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق اپنے معاشروں سے مطابقت رکھتی ہے۔ مسلم دنیا میں یونیورسٹیاں دو طرفہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں ایک یہ کہ عالمی معیار کی تحقیق ہو دوسرے ان کے اپنے معاشرے کی ضرورتوں کے مطابق ہو۔

GDP-Athar

مسلم دنیا میں ایک طریقہ یہ اپنایا گیا ہے کہ بیرون ممالک کی یونیورسٹیوں سے منسلک ہو جاتی ہیں اور انہیں اپنے مقامی مسائل پر تحقیق کرنے کیلئے کہا جاتاہے۔ سعودی عرب میں کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (King Abdullah University of Science and Technology)، امارات میں مصدر انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(Masdar Institute of Science and Technology)، اور دوحا میں بہت سی امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپس اس مقصد کو حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں کچھ کامیابی بھی ہوئی ہے۔ ایک سوچنےکی بات یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی طویل عرصے تک کام کرے گی کیونکہ ایسی یونیورسٹیوں کی فیسیں بہت زیادہ ہوتی ہیں جو او آئی سی ممالک کے لوگ برداشت نہیں کرسکتے اس طرح ان ممالک کی اکثریت ایسی یونیورسٹیوں میں داخلے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ البتہ عالمی سطح پر مقابلے کا رحجان لے کر اور مقامی حالات سے مطابقت پیدا کرکے آگے بڑھنے والی جن یونیورسٹیوں کی مثال دی جاسکتی ہے ان میں پاکستان میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(NUST)، آغا خان یونیورسٹی (AKU)اور ایران میں شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (Sharif University of Technology)شامل ہے۔

لاہور میں نئ قائم ہونے والی انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی(ITU)مغربی یونیورسٹیوں کی طرز پر قائم یونیورسٹی ماڈل بنانے کی ایک دلچسپ کوشش ہے۔ میساچوسٹس یونیورسٹی کی طرز پر تعلیمی ماحول فراہم کرتے ہوئے آئی ٹی یو اپنے طلباء کو نظریاتی محاذ چھوڑے بغیر حقیقی زندگی کے مسائل سے نپٹنے کیلئے تیار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر یہاں پر انو ویشنز فار پاورٹی ایلی ویشن لیب (IPAL)قائم کی گئی ہےجو ایم آئی ٹی میں قائم کی گئی تنظیم کا عکس ہے جس میں طلباء کو ملکی سماجی مسائل سے نپٹنے کیلئے اختراعی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر حل کرنے کی کوششوں میں مصروف رکھا جاتا ہے۔ تاہم معاشرے کے مسائل مناسب طور پر حل کرنے میں چیلنجز اب بھی درپیش ہیں۔ معاشرے کیلئے سائنس و ٹیکنالوجی کے حوالے سے کام کرنے والی مسلم دنیا میں صرف ایک یونیورسٹی ہے وہ یونیورسٹی آف ملایا(University of Malaya)ہے۔

عالمی معیار کی یونیورسٹیاں قائم کرنا
سوال یہ ہے کہ ہم ایسی یونیورسٹیاں کیسے قائم کریں جو اتنے وسیع اہداف حاصل کرسکیں؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں میرٹ قائم کیا جائے جہاں پر بہترین اساتذہ بھرتی کئے جائیں اور انہیں اچھی تنخواہیں دی جائیں۔ایسا کرنے کیلئے یونیورسٹیوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہو گا جو ذہین اور تجربہ کار اساتذہ کیلئے پر کشش ہو، انہیں ذہنی طور پر مصروف رکھیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔
مسلمانوں کے سنہری دور کی عظمت یہ ہے کہ اس وقت سائنسدان کسی نہ کسی طرح بہت اچھے لوگ تھے کیونکہ وہ ایسے معاشرے میں رہتے تھے جس میں معقولیت، تحقیق ، شک اور سب سے بڑھ کر میرٹ موجود تھا لہٰذا جادو سائنسدانوں میں نہیں بلکہ معاشرے میں تھا۔ لہٰذا سائنسی تعلیم اور یونیورسٹیوں کو بہتر تاثر قائم کرنے کے عنصر یا درجہ بندی پر نہیں جانا چاہئے بلکہ ایسا معاشرے میں معقولیت، شک، تحقیق پسندی اور میرٹ کی اقدار کو فروغ دینا چاہئے۔
جب تک ہماری یونیورسٹیاں ان اقدار کو فروغ نہیں دیتیں تب تک ہم ایسے معاشرے کی محض خواہش ہی کرسکتے ہیں۔ لیکن ایسا معاشرہ تخلیق کرنے کے بہت کم مواقع ہیں۔ یونیورسٹیوں کو اس قسم کے میرٹ میں لانے کیلئے ہمیں چند بنیادی کام نئے سرے سے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے
٭ ان کی نہ صرف درست مقاصد کیلئے نگرانی کرنی چاہئے بلکہ انہیں خود مختار بھی بنایا جانا چاہئے۔
٭ ہمارے ہاں ضخامت اور بے مقصد اہداف کی بجائے معیار اور میرٹ کو ترجیح دینا ہو گی۔
٭ ہماری یونیورسٹیوں کو بہترین اساتذہ بھرتی کرنے چاہئیں۔
٭ انہیں مفید سائنسی کیرئیر کیلئے فنڈز فراہم کرنے چاہئے۔
٭ انہیں ایسے سائنسدان اور انجینئرز پیدا کرنے چاہئیں جو دنیا میں مقابلے کے رحجان کے اندر رہتے ہوئے اپنا کام کرسکیں۔

GDP-per-Capita-Athar

حاصل بحث
مسلم دنیا میں اعلیٰ تعلیمی ادارے 859ء سے موجود ہیں۔ جب فاطمہ الفخری(Fatima Al-Fakhri) نے مراکش میں دنیاکی قدیم ترین یونیورسٹی قائم کی۔ تحقیق اور تعلیم کے دیگر مراکز قرطبہ سے بغداد اور سمرقند تک پھیلے ہوئے تھے۔ سنہری دور گزرنے کے بعد مسلمانوں کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر زوال کا ایک طویل عرصہ گزر رہا ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے بعد، بہت سے ممالک میں اگرچہ تعلیم پر اچھے خاصے اخراجات کئے جارہے ہیں لیکن ہماری یونیورسٹیاں پھر بھی وہ نتائج نہیں دے رہیں جن کی توقع ان سے کی جارہی ہے۔ مسلم دنیا میں مفید سائنسی ماحول پیدا کرنے کیلئے کچھ بنیادی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر مسلم دنیا میں سائنس کے نصاب اور تعلیمی نظام پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہےجس سے بہترین نتائج حاصل ہوں۔ وسیع النظر، انقلابی اور آزاد خیال تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے۔ کثیرالشعبہ جاتی سوچ پیدا کی جائے، اساتذہ کو زیادہ خودمختاری اور موثر تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے، نقل اور علمی سطح پر دھوکےبازی کے بارے میں عدم برداشت کی پالیسی اپنائی جائے۔ جو ہدایات دی جائیں ان پر عملدرآمد کیلئے سخت پالیسی ایکشن لیاجائے۔ سائنس اکیڈمیز کو ساتھ ملایا جائے۔ غیر سرکاری اداروں کو نوجوان نسل خصوصاً خواتین کی سائنس کیرئیر شروع کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ مسلم معاشرے سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے اس طرح کے سخت اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ اس کے بغیر مسلم دنیا کے دوبارہ سائنسی احیاء کا خواب محض خواب ہی رہ جائے گا۔

مختصرات
٭ مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں واقع یونیورسٹیاں سائنس اور ٹیکنالوجی کی معیاری تعلیم فراہم نہیں کر رہی ہیں۔
٭ ان یونیورسٹیوں کو عالمی سطح کے معیار کو اپنانا ہو گا، اپنے تعلیمی کلچر کو بدلنا ہو گا اور طلباء پر اپنے تعلیمی اثرات مرتب کرنا ہوں گے تاکہ وہ بعد میں معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کرسکیں۔
٭ پالیسی بنانے والوں کو اعلیٰ تعلیمی معیار بنانے کیلئے صحیح معنوں میں بہت کچھ کرنا ہو گا۔انہیں وہ خامیاں دور کرنا ہوں گی جو بڑے پیمانے پر تعلیمی شعبے کی تباہی کا باعث بنتی ہیں ۔ انہیں مقدار اور بے معنی اہداف حاصل کرنے کی بجائے معیار اور میرٹ قائم کرنا ہو گا۔

تحریر:ڈاکٹر اطہر اسامہ ، ندھال گوسوم (Dr. Athar Ussama, Nidhal Guessoum)

Read in English

Authors
Top