Global Editions

مستقبل میں روبوٹ معلومات کا باہمی تبادلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے؟

علم حاصل کرنا اور اسے پھیلانا انسانی تہذیب و ثقافت کا مرکزی عنصر ہے۔ روبوٹ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے ایک چھوٹا سا سنگ میل اس وقت عبور کیا گیا جب دو مختلف لیبارٹریز میں موجود روبوٹس کی معلومات کا باہمی تبادلہ کیا گیا۔برائون یونیورسٹی (Brown University)اور کارنل یونیورسٹی (Cornell University)کی لیبارٹریز میں دو مختلف روبوٹس پر یہ تجربات کئے گئے کہ دو مختلف ڈھانچوں والے روبوٹس بالکل الگ ماحول میں کس طرح ایک دوسرے سے معلومات اخذ کرتے ہیں ۔ اس سے پہلے کارنل یونیورسٹی میں تحقیق کاروں نے ایک آن لائن گیم ٹیل میں ڈیو(Tell Me Dave)متعارف کروائی تھی جس کے تحت رضاکار روزمرہ زبان میں روبوٹ کو ہدایات دے کر اس کی تربیت کرسکتے ہیں۔ اور مشینوں کا یہ رویہ معلومات کے مرکز روبو برین (Robo Brain)میں بنتا ہے جو دوسرے روبوٹس حاصل کرسکتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے اسی پلیٹ فارم پر پی آر ٹو(PR2)کی قسم کے روبوٹ کو کچھ سادہ کام کرنے کیلئے دیئے گئے جس میں بہت سے مگ اٹھانے اور انہی الٹے رکھے ہوئے پیالے کی سطح پر رکھنے کا کام بھی شامل تھا۔ کئی سو میل دور ایک اور لیبارٹری میں بیکسٹر نامی روبوٹ نے پی آر ٹو روبوٹ کے سیکھے ہوئے کام کی معلومات حاصل کرکے بالکل مختلف ماحول میں وہی کام سرانجام دیا۔

روبوٹ مفید معلومات کا ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ کرسکتے ہیںجس سے پیچیدہ پروگرامنگ کو کم کیا جاسکتا ہے اس کے ساتھ ہی روبوٹ نئے کام کو نئے ماحول میں بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتاہے۔ بیکسٹر روبوٹ کو سکھانے والے گروپ کی رکن اور برائون یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر سٹیفنی ٹیلیکس(Stafanie Tellex)کہتی ہیں کہ روبوٹ کے سیکھنے کے اس عمل سے ایک نیا رخ سامنے آیا ہے۔ جب آپ کسی روبوٹ کو ایک نئی جگہ پر لے کر جاتے ہیں وہ اس جگہ مختلف کمروں میں آپ کے ساتھ گھومتا ہے پھر آپ چاہتے ہیں کہ وہ روبوٹ خودمختارانہ رویہ اختیارکرے۔

ٹیل میں ڈیو(Tell Me Dave)گیم اور روبو برین (Robo Brain) بنانے والے آشوتوش سکسینا(Ashutosh Saxena)یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں روبوٹ معلومات کا باہمی تبادلہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ہم روبوٹ کو سیکھنے اور معلومات کا تبادلہ کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔ مختلف روبوٹ روبو برین سے معلومات حاصل اور فراہم کرسکتے ہیں۔ اس میں چیلنج یہ ہے کہ کورنل اور بروائون یونیورسٹی میں موجود روبوٹس کا ڈھانچہ مختلف ہے جس کا مطلب ہے کہ کسی مگ کو اٹھانے کیلئے روبوٹ کو اپنے جوائنٹس کو حرکت دینے کیلئے مختلف ہدایات پر عمل کرنا پڑتا ہے اور روبوٹس کا مختلف ڈھانچہ ہونے کی وجہ سے ان ہدایات پر عمل کرنا مشکل ہے۔ اس مشکل پر قابو پانے کیلئے ٹیلکس گروپ نے ایک سکیم متعارف کروائی ہےجس کے تحت ہدایات کو ایک روبوٹ سے دوسرےمیں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ سٹیفنی ٹیلکس کہتی ہیں کہ روبوٹ خود سے ہدایات اخذ کرے یہ ایک بہت آئیڈیل صورتحال ہے۔ اس میں بہت سے ٹیکنیکل چیلنجز درپیش ہیں۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knite)

Read in English

Authors
Top