Global Editions

متھین گیس کے اخراج کو روکنے کے لئے نئے قواعد متعارف

ادارہ تحفظ ماحولیات نے تیل اور گیس کے نئے پیداواری یونٹس کے لئے فضا میں متھین گیس کے اخراج کو روکنے کے لئے نئے قواعد متعارف کرا دئیے ہیں جس کی مدد سے فضا میں گرین ہائوس گیسز کی شرح کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ متعارف کرائے گئے نئے قواعد کے تحت تیل اور گیس کے پیداواری یونٹس پر متھین گیس کے اخراج کو روکنے کے لئے ان قواعد پر عمل کرنا ضروری ہے اور ان قواعد کی وجہ سے تیل و گیس کی صنعت کو سال 2025 تک تقریباً 530 ملین ڈالرز خرچ کرنا ہونگے تاہم اس عمل کے ماحولیاتی فوائد کا اندازہ 690 ملین ڈالرز سالانہ کے لگ بھگ لگایا گیا ہے۔ توقعات کے عین مطابق تیل اور گیس انڈسٹری سے وابستہ افراد نے ان اخراجات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت اس وقت بحران کا شکار ہے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک دہائی کی سب سے کم سطح پر ہیں اور ان قواعد پر عمل درآمد سے صنعت کو سالانہ 800 ملین ڈالرز سے زیادہ اخراجات برداشت کرنا ہونگے۔ اگرچہ ادارہ ماحولیات کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قواعد تیل اور گیس کی پیداوار کے لئے نئے کھودے گئے کنوئوں سے متعلق ہیں تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے موجود کنوئوں کے لئے بھی قواعد تیار کر رہی ہے تاکہ فضا میں متھین گیس کی شرح کو کم کیا جا سکے جو گرین ہائوس گیسز کا ایک بڑا سبب ہے۔ اس حوالے سے وفاقی ادارہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر فضا میں متھین گیس کے اخراج کی یہی شرح برقرار رہی تو اگلی دہائی میں اس شرح میں 25 فیصد کا اضافہ ہو جائیگا۔ دوسری جانب Energy in Depth کی جانب سے پیش کئے گئے ایک تجزئیے میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کی جانب سے جاری کئے گئے اعدادوشمار میں خود اعتراف کیا گیا ہے کہ سال 2005 سے سال 2012 کے درمیان صرف امریکہ میں تیل و گیس کے لئے 86000 نئے کنوئیں کھودے گئے جبکہ اس عرصے کے دوران صنعت کی جانب سے فضا میں متھین کے اخراج میں 22 ملین میٹرک ٹن کمی آئی ہے۔ معروف جریدے Earth Sciences and Engineering کی جانب سے شائع کئے گئے ایک مقالے میں کہا گیا ہے کہ فضا میں متھین کے اخراج میں کمی کے حوالے سے اعدادوشمار کا اندازہ ممکنہ طور پر غلط ہے کیونکہ اس اخراج کا جائزہ لینے کے لئے دستیاب ٹیکنالوجی میں کئی نقائص ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ادارہ تحفظ ماحولیات کی جانب سے جاری کئے گئے نئے قواعد پر عملدرآمد سے تیل و گیس کی صنعت پر مالی بوجھ پڑے گا اور اس کے نتیجے میں تیل و گیس کی مصنوعات کے نرخوں میں بھی اضافہ ممکن ہے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors
Top