Global Editions

لیپل کیمرے سے اپنی زندگی کے لمحات کو محفوظ کریں

دنیا کی چھوٹی بڑی کمپنیاں ایسے آلات بنانے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں جن کی مدد سے لوگ اپنی زندگی کے زیادہ سے زیادہ لمحات کو محفوظ کرسکیں۔ مثلاً گوگل نے ویڈیو ریکارڈ کرنے کیلئے ایک ہیڈ فون بنایا ہے، فیس بک پر لوگ اپنے زندگی کے لمحات اور تاثرات شیئر کرتے رہتے ہیں اس طرح ایک نئی کمپنی کو یقین ہے کہ لوگ اپنی زندگی کا فوٹو گرافک ریکارڈ چاہتے ہیں جو ہر 30سیکنڈ کے وقفے کے بعد ہو۔ میموٹو (Memoto)کمپنی کے سی ای او مارٹن کالسٹروم (Martin Kallstrom)کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کو فوٹوگرافی میں مکمل یادداشت فراہم کرنا چاہتے ہیں۔اس کیمرے کا اہم ترین آلہ 5میگا پکسل تصویر کا سینسر ہے جو اصل میں موبائل فونز کیلئے ہی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ایک اے آر ایم (ARM)پروسیسر لائنیکس پاورسے منسلک ہےجو ایک منٹ میں دو بار آلے کو متحرک کردیتا ہے۔ جو تصویر لینے کے بعد اسے جی پی ایس پر منسلک کردیتا ہے۔

بعد میں ایک صارف ان تصاویر کو کمپیوٹر پر یا میموٹو کے کلائوڈ سٹوریج سروس پر اپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ کالسٹروم کہتے ہیں کہ ان تصاویر کو رنگوں کے اعتبار سے جمع کر لیاجاتا ہے۔ پھر ہم تجزیہ کرتے ہیں کہ تصاویر کے رنگ کتنے مختلف ہیں۔ یہ سارا عمل آپ کی تصاویر کو خوبصورت یادگاری لمحات میں بدل دیتا ہے جن کو 30سے 35نام دے دیئے جاتے ہیں۔ جن کا اظہار سمارٹ فون کی ایپلی کیشن پر یا ویب پر ہوتا ہے۔ ہر تصویر کو ایک رنگا رنگ فریم میں دکھایا جاتا ہے۔

کالسٹروم کہتے ہیں کہ اس طرح آپ گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے کی بجائے چند لمحوں میں کافی بریک کے دوران تصاویر کی درجہ بندی کر کے ایک ایپلی کیشن کے ذریعے اپنے دن بھر کے خوبصورت لمحوں کو تصاویر کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں اورناگوار لمحوں کو چھپا سکتے ہیں۔ یہ تصاویر کے انتخاب کا بڑا اچھا نظام ہے۔ یہ زندگی کی تراش خراش کرنے والا آلہ ہے جو لوگوں کو اس میں مدد کرے گا کہ انہوں نے کیا دیکھا ،کیا سیکھا، حتیٰ کہ وہ اگلے آنے والے لوگوں کیلئے اس کا ریکارڈ بھی رکھ سکتے ہیں۔ کالسٹروم کہتے ہیں کہ میں یہ بات پسند کروں گا کہ کون سے میری زندگی کے حصے میرے بعد آنے والے لوگوں کو دستیاب ہونے چاہئیں۔ میں ہمیشہ اپنی زندگی کو دستاویزی شکل دینے کیلئے پرجوش ہوجاتا ہوں۔

کالسٹروم نے 2011ء میں میموٹو کے تصور پر کام شروع کیا اگلے سال ان کے ساتھ پارٹنر آسکر کلمارو (Oskar Kalmaru)اور پراڈکٹ ڈیزائنر بیجورن ویسن (Bjorn Wesen)بھی شریک ہو گئے۔ گزشتہ موسم خزاں میں کالسٹروم کی ٹیم کو کرائوڈ فنڈنگ کی ویب سائیٹکِکسٹارٹر (Kickstrarter)سے 550,189ڈالر اکٹھے ہوئےجس میں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایک کیمرہ بنائیں گے جس کی قیمت ہر ایک کیلئے 279ڈالر ہوگی۔ زندگی کے لمحات کو قید کرنا کاروباری لحاظ سے بہت اچھا بزنس بنتا جارہا ہے کیونکہ لوگ اپنی زندگی کے ہر لمحے کی نگرانی کررہے ہیں جس طرح لوگ بریسلیٹ نائیک فیول بینڈ(Nike's FuelBand)پہنتے ہیں جو کسی فرد کی حرکات کو ماپتا اور بتاتا ہے کہ کتنی کیلوریز جلی ہیں۔

کالسٹروم کہتے ہیں کہ انسٹا گرام یا فیس بک پر بھی تصاویر کو شیئر کرنا زندگی کا احساس دلاتا ہے۔ بہت سی بری کمپنیاں ایسے منصوبے بنا رہی ہیں جن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پرسنل ڈیٹا حاصل کیا جاسکے جن میں گوگل بھی شامل ہے جو ہیڈ فون کمپیوٹر بنا رہا ہے جو ویڈیو بنا سکے۔

میموٹو کی طرح ریکارڈنگ کرنے والے آلات سماجی سطح پر اقدار کو چیلنج کررہے ہیں اور نجی زندگی پر نئے سوالات اٹھا رہےہیں۔ سوفٹ وئیر میتھمیٹیکا (Mathematica)کے خالق سٹیفن وولفرام (Stephen Woolfram)کہتے ہیں کہ انہوں نے میکوٹو کا جائزہ لیا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ہم اتنے زیادہ ڈیٹا کا کیا کریں گے۔ کیونکہ ایک دن کے ڈیٹا سے قریباً 2000کے قریب تصاویر آتی ہیں جو دو گیگا بائیٹ کا ڈیٹا بنتا ہے۔ جبکہ اس کی فلیش میموری میں آٹھ جی بی کی جگہ بچتی ہے۔ وولفرام کہتے ہیں کہ میں نے ایک کانفرنس میں اس کیمرے کو آزمایا۔ جب میں نے تصویریں دیکھیں تو جن لوگوں کے نام میں بھول چکا تھا ان کے ناموں کے ٹیگ مجھے نظر آگئے۔ جب میموٹو کو آپ اتار دیتے ہیں یا مسطح جگہ پر رکھتے ہیں یا پھر جیب میں رکھ دیتےتو یہ خودبخود کام کرنا بند کردیتا ہے۔ کمپنی کیمرے فروخت کرکے صارفین کو اپنی تصاویر آن لائن محفوظ کرنے کیلئے محض 8ڈالر ماہانہ جگہ فراہم کرتی ہے۔

تحریر: ڈنکن گئیرے (Duncan Geere)

Read in English

Authors
Top