Global Editions

قابل تجدید توانائی ذرائع۔۔۔ ترسیل کے مناسب اقدامات بھی ضروری

چند برس قبل تک ہوا اور سورج سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر تھی کیونکہ ان ذرائع سے توانائی کے حصول اور اس مقصد کے لئے استعمال ہونے والے سازوسامان کی قیمتوں کا تعین ممکن نہیں تھا کیونکہ اس سامان کے نرخ بڑھتے گھٹتے رہتے تھے۔ اب صورتحال میں تبدیلی آئی ہے اور دنیا نے سمجھ لیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور فضا میں موجود کاربن کی شرح کو کم کرنے کے متبادل توانائی ذرائع کا ہونا ضروری ہے۔ تاہم اگر آپ ایک بجلی بنانے والے یونٹ کے سربراہ ہیں یا بجلی کی فروخت آپکی آمدنی کا ذریعہ ہے تو متبادل توانائی ذرائع کا استعمال آپکے کاروبار کے لئے یقینناً بہتر نہیں ہے۔ کیلیفورنیا اور ٹیکساس جیسے علاقے جہاں ہوا اور سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے بہت سے مواقع موجود ہیں اور ان سے فائدہ بھی اٹھایا جا رہا ہے مگر ان علاقوں میں بجلی کی قیمتیں بعض اوقات منفی ہو جاتی ہیں۔ یوں سمجھیے کہ بجلی تیار کرنے والے وہ کارخانے جو فوسل فیول سے چلتے ہیں انہیں اس وقت اپنی پیداوار روکنے کے لئے پلانٹ جبراً بند کرنا پڑتے ہیں کیونکہ ان اوقات میں سورج کی روشنی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار عروج پر ہوتی ہے اور یہ اقدام فوسل فیول سے بجلی پیدا کرنے والوں کے لئے بہت نقصان کا سبب بنتا ہے کیونکہ ان پلانٹس کو دوبارہ چالو کرنے کے لئے وقت اور سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے ہی واقعات گزشتہ برس ایک درجن سے زائد مرتبہ جنوبی کیلیفورنیا میں رپورٹ ہوئے اور ایسے واقعات مستقبل میں بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ٹیکساس میں بھی گزشتہ برس نومبر میں مسلسل پچاس گھنٹوں تک پاور پلانٹس کی پیداوار صفر رہی دوسری مرتبہ ایسا واقعہ اس سال مارچ میں پیش آیا۔ اسی طرح جرمنی میں نیگیٹو انرجی پرائسز ایک معمول کا امر ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال کا حل کیا ہے؟ اس مسئلے کا ایک حل تو یہ ہے کہ قابل تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل کو ان علاقوں تک کی جائے جہاں بجلی کی طلب زیادہ ہے اور ان مقامات پر ہوا یا سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے ابھی تک انتظامات نہیں کئے جا سکے۔ جرمنی نے بھی حال ہی میں دو ارب ڈالرز کی لاگت سے بجلی ہمسایہ ممالک میں برآمد کرنے کےلئے ایسے ہی انتظامات کئے ہیں۔ دور افتادہ علاقوں تک بجلی کی ترسیل یقینی بنانے کے لئے ٹرانسمیشن لائنز بچھانا ایک مہنگا امر ہے جیسا کہ ٹیکساس نے ڈیلاس اور ہوسٹن تک بجلی کی ترسیل کے لئے سات ارب ڈالر کی لاگت سے نئی ٹرانسمیشن لائنز بچھائی ہیں۔ ایک بہترین عمل تو یہ ہے ہو سکتا ہے کہ قابل تجدید توانائی ان علاقوں تک پہنچایا جایا جائے جہاں ان کی کھپت طلب زیادہ ہونے پر کی جا سکے اور اس توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لئے کوئی ایسی ٹیکنالوجی وضع کی جائے جو ٹرانسمیشن لائنز بچھانے کے مقابلے میں کم خرچ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ فوسل فیول سے بجلی بنانےوالے پلانٹس سے حاصل ہونے والی پیداوار کو کم کیا جائے اور پھربتدریج انہیں بند کر دیا جائے تاکہ ماحول دوست توانائی ذرائع کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors

*

Top