Global Editions

فیس بک کی گنجان آبادی تک انٹرنیٹ کی فراہمی کی کاوش

سماجی رابطے کی معروف ویب سائیٹ فیس بک اگرچہ اپنے دنیا بھر میں موجود ایک ارب ساٹھ کروڑکے لگ بھگ صارفین سے متعلق نقشہ ہر مہینے جاری کرتی ہے، تاہم اب فیس بک کی جانب سے ترقی پزیر ممالک کی گنجان آبادی کی نشاندہی کے لئے ایک بے مثال اقدام سامنے آیا ہے جس کے تحت دنیا کے نئے نقشے تیار کرائے جا رہے ہیں تاکہ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم طبقات کو بھی اس دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ فیس بک ان نقشوں کی مدد سے اس امر کا جائزہ لے گی کہ کس طرح ان علاقوں میں موجود آبادی کو شمسی توانائی کی مدد سے چلنے والے ڈرونز کی مدد لے کرانٹرنیٹ سے منسلک کیا جا سکتا ہے اور اس آبادی کو انٹرنیٹ کے استعمال کے فوائد سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ دنیا کی آبادی کا دس فیصد ان علاقوں میں مقیم ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب ہے ہی نہیں۔ فیس بک کمپنی یہ نقشے یونیورسٹی آف کولمبیا کی مدد سے تیار کر رہی ہے اور یہ نقشے مختلف اداروں اور کمپنیوں کے لئے بھی دستیاب ہونگے۔ کولمبیا سینٹر فار انٹرنیشنل ارتھ سائنس انفارمیشن نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رابرٹ چن (Robert Chen) کا ماننا ہے کہ اس پراجیکٹ کے ان علاقوں تک انٹرنیٹ کی رسائی دینے کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے فوائد حاصل ہونگے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نقشے اعلی ریزولوشن پر تیار کئے گئے ہیں اور ان نقشوں کی مدد سے ان علاقوں میں صحت، صفائی، ٹرانسپورٹ، توانائی کی فراہمی سمیت بنیادی سہولیات کے ڈھانچے کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ فیس بک کی جانب سے تیار کئے گئے ان نقشوں میں تصویری شناخت سے متعلق سافٹ وئیر کو استعمال کیا گیا ہے جو سیٹلائیٹ کی مدد سے حاصل ہونے والی تصاویر کے جائزے سے آبادی، سڑکوں اور کھیل کے میدانوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے تحت دنیا کے مختلف ممالک کو مردم شماری کے لئے ڈیٹا جمع کرنے میں بھی آسانی ہو سکے گی۔ چند روز قبل فیس بک نے دنیا کے 21.6 ملین مربع کلومیٹر پر مشتمل بیس ممالک کے نقشے جاری کئے ہیں۔ ان ممالک میں انڈیا، میکسیکو، سری لنکا، نائیجریا اور کئی افریقی ممالک شامل ہیں۔ ان نقشوں کی تیاری کے سیٹلائیٹ سے حاصل کئے گئے اربوں کی تعداد میں تصاویر کی مدد کی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں کمپیوٹر استعمال ہوئے۔ اب فیس بک چاہتی ہے کہ وہ ممالک جن کے نقشے جاری کئے گئے ہیں وہ اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کریں تاکہ دیگر ترقی پزیر ممالک کے لئے ایسے ہی نقشوں کی تیاری کا کام شروع کیا جاسکے۔ فیس بک کے انجیئنرنگ ڈائریکٹر یل میگوائر (Yael Maguire) کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کی مدد سے کمپنی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors

*

Top