Global Editions

فٹ بال کے کھلاڑیوں کو دماغی چوٹ لگنے کےخطرات۔۔۔۔۔۔

ہمارے سامنے ایک آپریشن ٹیبل پر فٹ بال کے ایک متوفی کھلاڑی کا دماغ پڑا تھا جس کا سائز ایک اوسط انسانی دماغ سے بڑا تھا، فی الوقت میں اس تجربے کے بارے صرف اتنا ہی جانتا تھا اور دوسری جانب سرجن این میکی (Ann Mckee) اس انسانی دماغ کو ڈبل روٹی کی طرح سلائس میں کاٹنے کے لئے تیار تھی۔ چند منٹ کے بعد صورتحال واضح ہونا شروع ہو گئی۔ اس کھلاڑی کا دماغ بہت بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ بوسٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کی ڈائریکٹر آٖف نیوروپتھالوجی پروفیسر این میکی اور ان کی مختصر ٹیم نے اس کے بعد دماغ کے ٹشوز کا مطالعہ شروع کر دیا۔ پروفیسر میکی اور انکی ٹیم نے دماغی ٹشوز کے ابتدائی معائنے کے بعد قرار دیا کہ فٹ بالر کا متوفی کھلاڑی پرانی دماغی چوٹ کا شکار معلوم ہوتا ہے۔ میکی اور انکی ٹیم ان دماغی ٹشوز کا حساس آلات سے معائنہ کرکے معلوم کرینگے کہ ان ٹشوز کے متاثر ہونے کی وجوہات کیا ہیں تاہم ابتدائی مطالعہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس کھلاڑی کے دماغی ٹشوز سر پر لگنے والی چوٹوں سے متاثر ہوئی ہیں اور ان چوٹوں کے باعث دماغ کے کئی ٹشوز متاثر نظر آتے ہیں۔ پروفیسر میکی کا کہنا تھا کہ میں حیران ہوں کہ اس کھلاڑی نے اپنے دماغ کے ساتھ کیا کیا ہے۔ انہوں نے آپریشن ٹیبل پر موجود دماغ کے سلائس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سلائس میں کئی طرح کی بیماریوں کے اشارے ملے ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں دماغی چوٹوں کے معائنہ کے لئے تحقیقات میں تیزی آئی ہے کیونکہ اس طرح کی تحقیقات کے لئے فٹ بال کے کئے سابق کھلاڑیوں کے انتقال کے بعد ان کے لواحقین متوفیان کے دماغ عطیہ کر رہے ہیں تاکہ تحقیق کار دائمی دماغی چوٹوں کی وجوہات اور ان کے علاج کے لئے طریقہ کار کا تعین کر سکیں۔ پروفیسر میکی اور انکی ٹیم گزشتہ کئی برسوں سے فٹ بال کے سابق کھلاڑیوں کے رویوں میں آنے والی تبدیلیوں اور دماغی چوٹوں کا مطالعہ کر رہے ہیں اور اس مختصر گروپ نے اپنے مطالعہ کی روشنی میں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ ان کھلاڑیوں کے رویوں میں کئی طرح کی تبدیلیاں مشاہدے میں آئی ہیں جن میں سر میں درد، موڈ کا خراب ہونا، خودکشی کرنے کے رحجانات اور اس جیسے منفی خیالات اور پرتشدد رویہ نمایاں ہے۔ تاہم حالیہ مطالعہ اس حوالے سے اہم ہے کہ اس میں فٹ بال کھیلتے ہوئے سر سے بال کو ہٹ کرنے کے نقصانات نہایت نمایاں ہیں، متوفی کے پورے جسم اور دماغی ٹشوز کے مطالعے سے اس حوالے سے ناقابل تردید شواہد ملے ہیں۔ اپنی اس تحقیق میں میکی اور اس کی ٹیم نے دائمی دماغی چوٹوں کے حامل 92 میں سے 88 سابق فٹ بالرز تھےاور 55 میں سے 45 دماغی معائنوں میں اس امر کی تصدیق ہوئی کہ ان کی چوٹیں کالج میں کھیل کے دوران سر سے گیند کو ہٹ کرنے کے باعث لگیں۔ تاہم یہ اعدادوشمار اس امر کا غماز نہیں کہ فٹ بال کے کھلاڑیوں میں یہ بیماری کتنی مشترک ہے اور یہ کہ متوفی فٹ بالرز کے دماغ ہمیں صرف یہ بتا سکتے ہیں کیسے اور کیوں دماغی چوٹیں دائمی اثرات کی حامل ہو سکتی ہیں۔

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top