Global Editions

عمررسیدہ کارکنوں کو کارآمد بنانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی

امریکہ میں5 سال سے زیادہ عمرکے کارکنوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ۔ امریکی لیبر سٹیٹسٹکس بیورو کے مطابق سال992 ء میں 3 فیصد سے بھی کم کارکن 65 سال کی عمر کے تھے جبکہ اب یہ تعداد دوگنا ہوچکی ہے اور 2020 ء تک یہ شرح 8.3فیصد تک پہنچنے کا امکان ہی۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ کارکنوں میں سے 13.5 ملین میں سے 10.9 ملین بوڑھی4 سال کی عمر کو پہنچ جائیں گے جبکہ 2.6 ملین لوگ 75 یا اس سے زائد عمر کے ہو جائیں گی۔ امریکی قومی مرکز برائے صحت کے اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں صحت کی بہتر سہولیات کے باعث ادھر 65 سال کے مرد وںکی اوسطاً عمر 17.9 سال بڑھنے کی توقع ہے جبکہ خواتین کا 20.5 سال مذید زندہ رہنے کا امکان ہے ۔ امریکہ میں عمررسیدہ کارکنوں کو ملازم رکھنے کی بھی روایت ٹوٹ رہی ہے کیونکہ عمررسیدہ کارکن آنکھوں پر دبائو، گھٹنوں کی تکلیف کے باعث ان کا دیر تک کام کرنا مشکل ہی۔ اس کے لئے ٹیکنالوجسٹ اور ماحولیاتی سہولتیں فراہم کرنے والے لوگ عمر رسیدہ کارکنوں کے بارے میں بہتر سوچ رہے ہیں۔دراصل ٹیکنالوجسٹ ان عمررسیدہ افراد کی مدد میں بھی بڑا بزنس دیکھ رہے ہیں،تاکہ ان کے تجربات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے ان بوڑھے افراد کو کارآمد بنایا جا سکے اورایسی ڈیوائس بنا ئی جائیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ عمر تک کام کر سکیں۔

5 میامی یونیورسٹی میں عمررسیدگی پر تحقیق کے مرکز کی سائنسی ڈائریکٹر سارا کزاجاSara Czaja) کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سے کاموں کیلئے نوجوانوں ضرورت ہوتی ہی۔ جیسے ڈیزائنرز کی ملازمت کیلئے بوڑھے لوگوں کو رکھنے کے بارے میں نہیں سوچا جاتا۔ جرمنی میں آنکھوں کے لینزز پر کام کرنے والی بڑی کمپنی کارل زیس ویژن (Carl Zeiss Vision) کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمارٹ فون کی چھوٹی سکرین کے بارے میں سوچیں۔ آفس کارکن عموماً اس پر ٹیکسٹ بھیجتی، وصول کرتے یا خبریں یا ای میلز دیکھتے ہیں۔ وہ دن میں شاید 100 بار ایسا کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آنکھوں پر چھوٹی ڈیجیٹل سکرین کا بوجھ کم کرنے کیلئے زیادہ بہتر لینززکے ذریعے پڑھے جانے والے مواد کو قریب اور بڑا کر دیا ہی۔ انہوں نے یہ بھی خیال رکھا ہے کہ لوگ سمارٹ فون کو کس پوزیشن میں پکڑتے ہیں۔ اس میں ہی ایک اور چیلنج یہ درپیش ہے کہ 20 سال کے نوجوان کی نسبت 60 سال کی عمر کے لوگوں کی آنکھیں روشنی کا ایک تہائی حصہ قبول کرتی ہیں کیونکہ نوجوانوں کی نسبت ان کی آنکھیں زیادہ دھندلی ہوتی ہیں۔ امریکی ریاست مشی گن میں ہرمن ملر (Herman Miller)کمپنی کے ڈائریکٹر ریان اینڈرسنRyan Anderson) کا کہنا ہے کہ دفاتر میں زیادہ روشنی کی ضرورت ہی۔ جس کے لئیہمارے سروں کے اوپر روشنی کیلئے نئیاقسام کے آلات متعارف کروائے گئے ہیںجس سے روشنی براہ راست ٹیبل پر پڑنے کی بجائے پھیل جاتی ہی۔

عمر رسیدہ ملازمین کو بیٹھتے ہوئے ٹیک لگانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور ٹیک لگانے کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوتاہے جب لوگوں کو لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ پر کام کرنا پڑے ۔ اس صورت میں انہیں آگے جھکنا پڑتا ہی۔ ہرمن ملر کمپنی نے اس کا حل ہلکی ڈھلان والی میز کی صورت میں نکالا ہے جس سے کارکن کیلئے کام کے دوران کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھنا ممکن ہوجاتاہی۔ امریکی ریاست فلوریڈ کی سٹیٹ یونیورسٹی میں ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ فار سکسیس فل لونگیویٹیInstitute for Successful Longivity) نے عمررسیدہ افراد کے مائوس کے ساتھ کمپیوٹر پر کام کرنے میں دلچسپی لی ہی۔ اب اے آئی سکوئرڈAi Squared) کمپنی نے ایسے ملازمینجو 60 سال کی عمر کے بعد آنکھوں کی شدید کمزوری کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں کیلئے ایک سوفٹ وئیر بنایا ہی۔ جس میں کام کرتے ہوئے وہ اپنی ای میل یا ٹیکسٹ بآسانی پڑھ سکیں گی۔ اے آئی سکوئرڈ کے مارکیٹنگ پراجیکٹ منیجر میگن لونگMegan Long)کا کہنا ہے کہ اس سوفٹ وئیر کو استعمال کرنے والے کے سامنے کمپیوٹر سکرین پر تحریرگلابی اور پس منظر پیلا ہو جاتا ہے جس سے اسے پڑھنے میں آسانی رہتی ہی۔

ایسے عمررسیدہ ملازمین جو ملازمت کے دوران کھڑے ہوکر کام کرتے ہیںان کے لئے فرشی پیڈ بھی بنائے گئے ہیں تاکہ ان کے گھٹنوں پر زیادہ دبائو نہ پڑی۔ اگرچہ اس قسم کے میٹس تو 1980 ء سے عام ہیں لیکن سائنسدان اس میں مزید بہتری لا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک کام یہ بھی کیا گیا ہے کہ ان میٹس کے نیچے ر بڑرکھا جاتاہے تاکہ چلتے وقت پیروں میں ہلکا سا اچھال پیدا ہو۔ بہت سی ٹیکنالوجیز ایسی ہیں جو نہ صرف معذوروں کیلئے کام کر رہی ہیں بلکہ اب وہ عمررسیدہ افراد کو سہولتیں بہم پہنچانے پر بھی کام کرتی ہیں۔ امریکہ میں ایسی سواری پر بھی کام ہورہا ہے کہ جو بڑھاپے کے سبب زیادہ حرکت نہیں کرسکتے ان لوگوں کو ایسی سواری پر چڑھنے اور اترنے میں آسانی ہو۔

تحریر:جارج اینڈرز

Authors
Top