Global Editions

علمی معلومات تک رسائی آسان بنانے کی ضرورت

کسی بھی شعبے میں تحقیق پہلے سے دستیاب معلومات تک رسائی کی مرہون منت ہوتی ہے بالخصوص وہ تحقیقی کام جو مفکرین پہلے کر چکے ہیں اس سے استفادہ حاصل کیا جاسکے۔ اعلی درجے کا تحقیقی مواد مختلف جرائد میں شائع ہوتا ہے اور یہ بین الاقوامی اشاعتی اداروں کی ڈیٹا بیس سے قیمتاً بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کسی فرد یا ادارے کے لئے ضروری ہے کہ اسے اپنا تحقیقی کام جاری رکھنے کے لئے تازہ ترین رحجانات، تخلیقات اور تحقیق تک فوری رسائی دستیاب ہو تاکہ وہ اپنا کام بغیر کسی خلل کے جاری رکھ سکے اور اس کی یکسوئی متاثر نہ ہو۔

اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا پاکستان میں تعلیم کے لئے مختص بجٹ ناکافی ہے اور خاص طور پر جب ہم اعلی تعلیم کے شعبے کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس ضمن میں رکھی جانیوالی رقم اور بھی کم ہےجبکہ پاکستان میں لائیبریری ترجیحات میں شامل ہی نہیں صرف چند تعلیمی ادارے ایسے ہیں جن میں نسٹ (NUST) لمز (LUMS) آئی بی اے (IBA) فاسٹ (FAST) اور این یو (NU) شامل ہیں جو آن لائن معلومات کے حصول کے لئے معقول رقم خرچ کرتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں خدمات سرانجام دینے والےدیگر تعلیمی ادارے اس شعبے میں رقم خرچ کرنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کرتے۔

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان میں تحقیق کے رحجان کو فروغ دیا جاسکے۔ اس ضمن میں ہائیر ایجوکشن کمیشن نے بہت سے ایسے اقدامات کئے ہیں جس سے مفکرین کی اپنے تحقیقی مقالے شائع کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ اس ضمن میں ایچ ای سی نے ترغیبات بھی دیں جن کے تحت اسسٹنٹ پروفیسرز کو ایسویسی ایٹ پروفیسر اور ایسویسی ایٹ پروفیسرز کو پروفیسرز کے عہدے پر ترقی دی گئی۔گزشتہ ایک دہائی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ تحقیقی مواد اور ریسرچ پیپرز کی اشاعت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تاہم یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس تحقیقی مواد کا معیار کیسا ہے۔ مجھے یقین کہ اب اگلا مرحلہ شروع ہورہا ہے جس میں اس معیار کو بہتر کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

تعلیمی شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے بعد میں علمی معلومات تک فوری اور مفت رسائی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہوں۔ ایچ ای سی کے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام نے پاکستان میں تحقیقی ماحول کو فروغ دینے میں اہم کردار کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ محققین کے لیے مہنگے آن لائن جرائد اور تحقیقی ڈیٹا بیس تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

مجھے امید ہے کہ اب ایچ ای سے تحقیقی ضروریات کے تعین کے لیے ایک ایسےجائزہ پروگرام کا آغاز کریگی جس کے تحت ہر ادارے کی ضروریات کے مطابق ڈیٹا بیس تک رسائی کا پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پنجاب اور سندھ کے صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشنز ایسے پروگرام شروع کر سکتے ہیں جو جو نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام میں مزید وسعت پیدا کرسکتے ہیں اور صوبائی اداروں کو اس سے بہرہ مند کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تحت اس سلسلے میں پنجاب ڈیجیٹل لائبریری پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے جو اس میدان میں موجود کمی کو دور کر سکے گا۔

ڈیجیٹل لائبریری کے سلسلے میں ایک اور اہم مسئلہ یہ کہ ہمیں اپنا تحقیقی مواد خود تیار کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان محققین اپنی تحقیق بین الاقوامی جرائد میں شائع کرارہے ہیں جبکہ ان میں مقامی مسائل پر بحث کی گئی ہے اور اس مواد تک ہماری رسائی محدود ہے کیونکہ مکمل رسائی کے لیے ان جرائد کو معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔

اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ ایک آن لائن ذخیرہ تیار کیا جائے جہاں پاکستانی محققین اور مصنفین کے لیےمقامی و بین الاقوامی تحقیقی مواد مکمل طور پر دستیاب ہو۔ ایچ ای سی اس سلسلے میں ایک میکنزم وضع کر سکتا ہے جس میں پاکستانی محققین کی تحقیقات کو اور اشاعتی مواد کو نہ صرف جمع کر کے محفوظ رکھا جاسکتا ہے بلکہ ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے اسے پھیلایا بھی جاسکتا ہے۔اس کے لئے کسی قانون سازی یا ایک معاہدے کے ذریعے بڑے اشاعتی اداروں کی معاونت سے ایسے پلیٹ فارم کا قیام ممکن ہے۔ اس وقت پاکستان میں سرکاری یا نجی شعبے میں ہونے والی تحقیق تک رسائی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس تحقیقی مواد کو ڈیجیٹلائز کرنے، محفوظ رکھنے اور محققین تک رسائی کا کام جتنی جلد ممکن ہو شروع کیا جانا چاہئیے۔ پاکستان میں نادر اور نایاب تاریخی دستاویزات، ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر اور دیگر مواد کا ایک خزانہ موجود ہے جسے ڈیجیٹلائز کرکے اس سے فائدہ اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں آئی ٹی یو (ITU) اور پی آئی ٹی بی (PITB) کے ایک حالیہ پراجیکٹ میں ان آرکائیوز کو محفوظ کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے جو اس سلسلے میں درست قدم ہے۔ اس عمل کے ذریعے دنیا بھر کے محققین کو فائدہ ہوگا۔

اپنی بحث سمیٹتے ہوئے میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ قابل اعتماد معلومات تک رسائی میعاری تحقیق کےلئے بینادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر علمی معاشرے کا احیاء ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں ایچ ای سی کا کردار اگرچہ قابل قدر ہے تاہم ابھی بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ موجودہ خامیاں دور کی جاسکیں اور معلومات تک رسائی کا عمل بہتر ہوسکے۔

تحریر: ڈاکٹر شاہد سرویا
(ڈاکٹر شاہد سرویاانفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور میں چیف لائبریرین اور نیشنل اکیڈمک اینگریٹی کے ڈائرکٹرہیں)

Read in English

Authors
Top