Global Editions

شمسی توانائی کے شعبہ میں روزگار کے وسیع مواقع

اگلے پندرہ برسوں کے دوران شمسی توانائی کا شعبہ امریکہ میں کوئلے کی کانوں یا کوئلے کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کی اکثریت کو جذب کر لے گی۔ امریکہ میں کوئلے کی صنعت اس وقت زوال کا شکار ہے اور آئندہ برسوں کے دوران اس صنعت سے وابستہ افراد بڑی تعداد میں بےروزگار ہو سکتے ہیں جبکہ دوسری جانب شمسی توانائی کا شعبہ تیزی سے ترقی کرتا جا رہا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگر یہ شعبہ اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا تو کوئلے کی صنعت کے زوال سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد کو شمسی توانائی کے شعبہ میں روزگار کے مواقع میسر آ سکیں گے۔ مشی گن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کی ٹیم نے جس کی سربراہی جوہوسا پیریاس (Joshua Pearce) کر رہے ہیں،ان کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کوئلے کی صنعت سے وابستہ کارکنوں کی تعداد 150000 کے لگ بھگ ہے جبکہ شمسی توانائی کے شعبہ سے اس وقت دولاکھ افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں، جس سے واضح انداز میں ثابت ہوتا ہے کہ کوئلے کی صنعت کے مقابلے میں شمسی توانائی کا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے دوسری جانب کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کی مسلسل بند ہونے کے عمل کے وجہ سے کوئلے کی صنعت دباؤ کا شکار ہے۔ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر ایک جانب تو سنگین ماحولیاتی اثرات پیدا کرنے کے باعث ہیں تو دوسری جانب اس وابستہ افراد کے لئے صحت کے بنیادی مسائل بھی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال کوئلے کے صنعت سے وابستہ افراد کو شمسی توانائی کے شعبہ میں منتقل ہونے کا محرک فراہم کر رہی ہے۔ مشی گن یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کی ٹیم نے اپنے جائزے میں اس امر کا بھی جائزہ لیا کہ کوئلے کی صنعت سے وابستہ ہر کارکن کو شمسی توانائی کے شعبہ سے وابستہ کرنے اور انہیں بنیادی تربیت دینے کےلئے 180 ملین ڈالرز سے 1.8 بلین ڈالرز تک رقم درکار ہو گی۔ دیکھا جائے تو یہ کوئی بہت بڑی رقم نہیں جس کی موجودگی کوئلے کی صنعت سے وابستہ افراد کو متبادل روزگار فراہم ہو سکے۔ اوباما انتظامیہ نے پہلے ہی پاور پلس پلان کے تحت کوئلے کی صنعت سے وابستہ افراد کے روزگار ذرائع کی فراہمی اور بنیادی تربیت کے لئے 75 ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کر رکھی ہے۔ اس کے تحت سولر ٹریننگ نیٹ ورک کوئلے کی صنعت سے وابستہ 75000 افراد کو بنیادی ٹریننگ دینا مقصود ہے۔ دوسری جانب اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ شمسی توانائی سے متعلق منصوبے کیلیفورنیا میں لگائے جا رہے ہیں اور یہ ریاست ان علاقوں سے بہت دور ہے جہاں کوئلے کی کانیں ہیں یا کوئلے کی صنعت سے وابستہ کارکن موجود ہیں۔ ایسا فوری طور پر ہوتا تو نظر نہیں آ رہا کہ شمسی توانائی سے متعلق صنعتکار فوری طور پر ان علاقوں میں منصوبے لگانے کی منصوبہ بندی کریں جہاں کوئلے کی صنعت سے وابستہ افراد موجود ہیں کیونکہ صنعت کاروں کو کاروباری نکتہ نظر سے سوچنا اور سرمایہ کاری کرنا ہوتا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں لوگ ملک کے مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے کیلیفورنیا نہیں آ سکتے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ ہر کارکن شمسی توانائی کے شعبے سے وابستہ نہیں رہنا چاہے گا۔ اور دیکھنا یہ ہے کہ کوئلے کی صنعت سے وابستہ افراد کو کس طرح متبادل روزگار تک رسائی دلائی جائے گی۔

تحریر: مشعل رئیلائے (Michael Reilly)

Read in English

Authors

*

Top