Global Editions

شمسی توانائی کی لاگت میں فی واٹ ایک ڈالر کی کمی

فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے متبادل توانائی ذرائع کی ضرورت سے اب پوری دنیا مکمل طور پر آگاہ ہو چکی ہے اور اب متبادل توانائی ذرائع کے ذریعے بجلی کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔ توانائی ضروریات پوری کرنے کے لئے جن متبادل ذرائع پر سب سے زیادہ کام ہو رہا ہے ان میں ہوا اور سورج کی روشنی سے بجلی کے حصول کے منصوبے اہم ہیں۔ اس ضمن میں ایک قباحت اس بجلی کے حصول کے لئے اٹھنے والی لاگت ہے۔ اب چونکہ دنیا کی توجہ اس جانب مبذول ہو رہی ہے تو ایک بین الاقوامی ریسرچ ادارے GTM ریسرچ نے پیش گوئی کی ہے کہ 2020ء تک شمسی توانائی کی فی واٹ قیمت ایک ڈالر تک گر جائے گی۔ بجلی کی لاگت میں آنیوالی یہ ممکنہ کمی بڑے سولر فارمز سے حاصل ہونے والی توانائی پر ہو گی۔ یہ ایک بہت بڑا قدم ہے کیونکہ اگر یہ پیش گوئی درست ثابت ہوتی ہے تو شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت ایندھن سے حاصل ہونے والی بجلی کی قیمت سے مقابلے کی پوزیشن میں آجائے گی۔ یہی وہ ہدف ہے جو امریکی محکمہ توانائی کی جانب سے سال 2011ء میں طے کیا گیا تھا۔ درحقیقت شمسی توانائی کی قیمت میں ایک ڈالر فی واٹ کمی نہیں ہوگی یہ اس لاگت میں کمی ہوگی جو شمسی توانائی کے حصول کے لئے نصب کئے جانے والے پلاٹس کی تنصیب پر اٹھتی ہے۔ شمسی توانائی کے پلانٹس کی تنصیب کے ساتھ ساتھ دوسرا بڑا خرچہ ٹرانسمیشن لائنز کا ہوتا ہے جو اس بجلی کو نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کرتی ہیں۔ اس طرح اگر مجموعی اخراجات میں اس حد تک کمی آجائے تو شمسی توانائی ملکی معیشتوں کے لئے بہت موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے GTM رپورٹ کے مرتب بنجمن گالاگھر (Benjamain Gallagher) کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کی اصل لاگت کئی دیگر امور سے مشروط ہوتی ہے جس میں پلانٹ کا مقام پلانٹ کی استعداد کار اوراس کے لئے بچھائی جانے والی ٹرانسیمشن لائنز کی لاگت اہم ہے اور ہر پلانٹ کی لاگت اس کے محل وقوع اور نوعیت کے اعتبارسے مختلف ہوتی ہے۔ اس وقت شمسی توانائی صرف امریکہ میں ہی ایک تیزی سے ابھرتی اور ترقی کرتی ہوئی صنعت ہے۔ ایم آئی ٹی انرجی Initiative کے ڈائریکٹر آف ریسرچ اور تجزیہ کار فرنک اوسیلی وان کا کہنا ہے کہ اگر شمسی توانائی پر انحصار بڑھایا جائے تو بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا اگر شمسی توانائی پر انحصار بڑھے گا تو تیل سے بجلی کے حصول پر انحصار کم ہوگا یعنی تیل پر اٹھنے والی لاگت کمی ہوگی اور اس کا لامحالہ اثر بجلی کی قیمت پر پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ فضا میں کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors

*

Top