Global Editions

شمسی توانائی کی ترقی کے لئے پرکشش مر اعات

شمسی توانائی کے شعبے میں امریکہ تاریخ کے بہترین دور سے گزر رہا ہے حالیہ تین مہینے اس ضمن میں تاریخی قرار دئیے جا سکتے ہیں۔ سولر انرجی انڈسٹریز ایسوسی ایشن اور جی ٹی ایم (GTM) ریسرچ کی جانب سے شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ کے مطابق سال 2015ء میں 7.4 گیگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے شروع کئے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.1 گیگاواٹ زیادہ ہیں جبکہ سال 2016ء میں مزید منصوبے شروع کئے جانے کا امکان ہے۔ جی ٹی ایم کی رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ شمسی توانائی کے شعبے میں پیداوار دوگنی ہو جائے گی اور آئندہ سال کے دوران تقریباً 15.4 گیگاواٹ کے منصوبے شروع کئے جائینگے۔ جرمنی کی ریسرچ کمپنی اپریکم (Apricum) نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں برس کے آخر تک دنیا بھر میں شمسی توانائی کی پیداوار 54 گیگاواٹ ہو جائے گی اور سال 2020ء تک یہ پیداوار بڑھ کر 92 گیگاواٹ ہو جائے گی۔ اس میدان میں چین سب سے آگے ہو گا جو سال 2020ء تک 180 گیگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں شمسی توانائی کی پیداوار میں اضافے کی ایک وجہ ماحول دوست اور سستی توانائی ذرائع کا حصول بھی ہے لیکن حالیہ مہینوں میں اس کی ایک وجہ شمسی توانائی کے لئے مطلوبہ سامان کی قیمتوں میں کمی بھی ہے۔ امریکہ میں بھی اس میدان میں بہت ترقی ہو رہی ہے اور شمسی توانائی کے میدان میں آنے والی تیزی کی وجہ امریکی حکومت کی جانب سے فیڈرل انویسٹمنٹ ٹیکس کریڈٹ میں پانچ سال کی توسیع ہے اس ٹیکس کو آئندہ برس ختم ہونا تھا مگر کانگریس نے ایک بل کے ذریعے شمسی اور ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول کے منصوبوں پر ٹیکس کی چھوٹ میں مزید پانچ برس کی چھوٹ دیدی۔ کانگریس کے اس فیصلے سے توقع ہے کہ سال 2022ء تک شمسی توانائی کے شعبے میں مزید 20 گیگاواٹ کا اضافہ ہو جائیگا اور سال 2019 کے بعد مرحلہ وار اس ٹیکس چھوٹ کو ختم کر دیا جائیگا۔ اس چھوٹ سے ایک جانب تو اس شعبے میں سرمایہ کاری کا رحجان بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب کمپنیوں کے حصص کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے عام صارفین کے لئے اب شمسی توانائی کے حصول میں بھی آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں کیونکہ گھریلو صارفین کے لئے شمسی توانائی کے حصول کے لئے مطوبہ سامان کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اب سمارٹ انورٹرز بھی مارکیٹ میں آ رہے ہیں جن کی مدد سے شمسی شعاعوں کو زیادہ اوربہتر انداز میں توانائی میں تبدیل کر کے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اب امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ برسوں میں ماحولیاتی آلودگی سے پاک توانائی کا حصول زیادہ آسان ہو سکے گا اور عالمی درجہ حرارت میں کمی کے لئے کوششوں کو پزیرائی ملے گی۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

Read in English

Authors
Top