Global Editions

شمسی بھاپ کی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی

شمسی توانائی کی مدد سے پانی اور اس سے حا صل ہونے والی بھاپ سے ٹربائن چلاکر توانائی حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی تیار کر لی گئی ہے ۔ مراکش کے شہر اورزازٹے (Ouarzazate) کے قریب صحرا میں نور ون (Noor 1)کے نام سے 160میگا واٹ کا سولر تھرمل پلانٹ نصب کرنے کیلئے پانچ لاکھ بیضوی شیشے لگائے گئے ہیں جو بلندی پر لگائے گئے سٹیل کے پائپس میں موجود پانی کو گرم کرکے بھاپ بناتے ہیںجو ٹربائن کو چلاکر بجلی پیدا کرتی ہے۔ یہ تعمیر کئے جانے والے چار پلانٹس میں سے ایک ہے جو 2020میں مکمل ہونے کے بعد 580میگاواٹ توانائی پیدا کریں گے ، حال ہی میں بہت سے ناقدوں نے ٹیکنالوجی کی اس قسم پر مہنگا ذریعہ ہونے کے سبب بڑی تنقید کی ہے۔امر یکی سائنسدانوںنے گیس اور شمسی توانائی سے دوگنا مہنگا ہونے اور پلانٹ کیلئے بہت زیادہ جگہ گھیرنے کی وجہ سے اپنے ملک میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا خیال مسترد کردیا ہے۔ امر یکی سائنسدانوںکا خیال ہے کہ یہ پلانٹ بیرون ممالک میں تو لگائے جاسکتے ہیں مگر امریکہ کیلئے فائدہ مند نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کیبجائے سستی گیس اور شمسی توانائی کے چھوٹے پینلز بہتر ہیں ۔ امریکی انرجی انفارمیشن محکمے کے مطابق اس پلانٹ سےپیدا ہونے والی توانائی 24سینٹ فی کلوواٹ فی گھنٹہپڑے گی جو شمسی توانائی کی قیمت سے دوگنا ہے۔ امریکہ میں اب مستقبل میں سولر تھرمل پاور کا کوئی پلانٹ زیر غور نہیں ہے۔ ایوانپاہ Evanpahشمسی پاور پلانٹ بنانے والی کمپنی برائٹ سورس(Bright Source)نے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں اربوں ڈالر کے سولر تھرمل پاور پلانٹ کا منصوبہ مہنگا ہونے کے سبب ہی منسوخ کردیا اور بہت سے ایسے ہی منصوبوںکو شمسی توانائی کے پلانٹس میں بدل دیا ہے۔ ایک اور امریکی کمپنی سولر ریزروز (Solar Reserves) کے سی ای او کیون سمتھ(Kevin Smith)کہتے ہیںکہ قدرتی گیس 3ڈالر فی 10 لاکھ بی ٹی یو میں پڑتی ہے جس کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ کمپنی جنوبی افریقہ، چلی اور مشرق وسطیٰ میں سولر تھرمل پاور پلانٹ لگا رہی ہے۔ امریکی شہر کرسینٹ ڈیون (Crescent Dunes)میں سولر تھرمل پلانٹ سے توانائی محفوظ کرنے کا نظام 10گھنٹے تک 110میگا واٹ توانائی فراہم کرسکتاہے۔ سولر تھرمل پلانٹ کی ایک خامی یہ ہے کہ یہ براہ راست سورج کی روشنی میں کام کرتاہے جیسے امریکہ میں جنوب مشرق یا مشرق وسطیٰ کا علاقہ ہے۔ اس تقابلی جائزے نے امریکہ میں تو سولر تھرمل پلانٹ کی ٹیکنالوجی کو جامد کردیا ہے تاہم بیرون ملک خصوصاً مشرق وسطیٰ اورافریقہ میں اس کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔ امریکہ میں 2040 تک توانائی کے اس ذریعے پر مزید کام نہیں ہوگا جبکہ دنیا میں 2050تک اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل ہونے والی توانائی کا حصہ 11فیصد ہو جائے گا جو اب ایک فیصد ہے۔ سعودی عرب اور امارات بھی سولر تھرمل پلانٹ لگانے کے خواہش مند ہیں۔

تحریر: رچرڈ مارٹن Martin Richard

Read in English

Authors

*

Top