Global Editions

سینسر ٹیکنالوجی کا مستقبل۔۔۔۔ پہننے والے آلات

آج سے چھ برس قبل جب فٹ بٹ (Fitbit) کمپنی نے اپنی پہلی وئیر ایبل ڈیوائس جس میں فٹنس ٹریکر نصب تھا متعارف کرائی تب سے اب تک پہننے والی ڈیوائسز کی صنعت میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ کمپنی کا پہلا فٹنس ٹریکر 100 ڈالرز میں فروخت کے لئے پیش کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد متعدد کمپنیاں اس میدان میں آئیں جنہوں نے فٹنس ٹریکرز، سمارٹ گھڑیاں اور دیگر پہننے والے آلات متعارف کرائے لیکن یہ تمام کمپنیاں فٹ بٹ کے میعار اور کاروباری ساکھ کی بلندی تک نہیں پہنچ سکیں۔ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے تحقیقی ادارے آئی ڈی سی IDC کے مطابق جولائی تا ستمبر 2015ء تک 21 ملین پہننے والے آلات تیار کئے گئے جو گزشتہ برس اسی مدت کے دوران تیار ہونے والے آلات سے تین گنا زیادہ ہیں۔ فروخت میں اس اضافے کے باوجود فٹ بٹ تاحال مارکیٹ لیڈر ہے جو مارکیٹ کے 22 فیصد حصے پر قابض ہے جبکہ گزشتہ برس فٹ بٹ کا مارکیٹ شئیر 33 فیصد رہا تھا۔ گزشتہ برس ایپل کمپنی نے بھی اپنی سمارٹ گھڑی متعارف کرائی جس نے مارکیٹ شئیر کا 19 فیصد حاصل کیا۔ لاس ویگاس میں ہونے والی سی ای ایس (CES) کانفرنس میں فٹ بٹ نے اس بڑھتے ہوئے مقابلے کے رحجان کا ادراک کرتے ہوئے ایک نئی سمارٹ گھڑی متعارف کرائی جو نہ صرف ٹچ سکرین اور کلر ڈسپلے کی حامل ہے بلکہ اس میں فٹنس ٹریکر بھی ہے اس گھڑی کو فٹنس بلیز (Fitness Blaze) کا نام دیا گیا ہے اور اس کی قیمت 199 ڈالرز مقرر کی گئی ہے۔ اس گھڑی کے ذریعے ایپل کمپنی کو سخت مقابلے کی دعوت دی گئی ہے تاہم سرمایہ کاروں نے اس پراڈکٹ کا خاص گرمجوشی سے استقبال نہیں کیا اور بتایا گیا ہے کہ اس وجہ وال سٹریٹ میں فٹ بٹ کے شئیرز میں گراوٹ ہے۔ فٹ بٹ کے شئیرز میں گراوٹ دو خریداروں کی جانب سے فٹنس ٹریکر کے درست کام نہ کرنے کی شکایت اور ہرجانے کے دعوے کے باعث آئی ہے تاہم فٹ بٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ اس کیس کے میرٹ پر یقین نہیں رکھتی۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو سے بات چیت میں فٹ بٹ کے سی ای او اور شریک بانی جیمز پارک (James Park) کا کہنا تھا کہ وہ سٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے شئیرز میں آنے والی گراوٹ سے پریشان نہیں کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ وال سٹریٹ میں ہمارے شئیرز کے خریدار اور کمپنی کی مصنوعات خریدنے والے ایک ہی ذہہن کے حامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وئیر ایبل ڈیوائسز کی صنعت میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی اپنے میعار کو بہتر بنائیں تاکہ نئے آنے والے چیلنجز کا سامنا کر سکیں۔ سینسرز اور ٹریکنگ صلاحیتوں کی حامل مستقبل کی ڈیوائسز اور فٹنس ٹریکرز کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جیمز پارک کا کہنا تھا کہ یقینناً صارفین اپنی صحت کے حوالے سے ہر چھوٹی بات کو جاننا چاہتے ہیں جیسے انکا بلڈپریشر کیا ہے؟ انکی نیند کیسی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام نہایت حساس معاملات ہیں۔ انسانی صحت سے متعلق ہر امر ایک الگ نوعیت رکھتا ہے جیسے نیند نہ آنا یا کم آنا ہے۔ اس معاملے کے علاج کے لئے آپ کو سلیپ کلینک جانا پڑتا ہے اور ایک رات وہاں گزارنا پڑتی ہے تاکہ ماہرین آپ کی نیند کی

کیفیات کا جائزہ لے سکیں اگرچہ یہ مہنگا عمل ہے لیکن اس کے نتائج درست ہیں تاہم ہمیں اس نوعیت کے معاملات سے نبٹنے کے حساس سینسرز کی ضرورت ہو گی اسی لئے میں کہتا ہوں کہ وئیر ایبل ڈیوائسز کا مستقبل سینسر ٹیکنالوجی ہے۔ فٹ بٹ بلیز ایپل واچ کا جواب ہے اس سوال کے جواب میں فٹ بٹ کے سی ای او کا کہنا تھا کہ Blaze کچھ عرصہ قبل ہی تیار کی گئی ہے ہمارے نزدیک یہ ڈیوائس نہایت موزوں ہے جو صارفین کو صحت اور انکی فٹنس سے متعلق آگاہ کرتی ہے اور اس ڈیوائس کے ذریعے ہم صارفین کو مختلف آپشنز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیوائس کو سمارٹ واچ کہنا درست نہیں یہ فٹنس پر توجہ دینے والی ڈیوائس ہے اور میرے خیال میں لوگ اس کو پسند کرینگے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors

*

Top