Global Editions

سوشل میڈیا کاروبار کیلئے کوئی بڑے مواقع فراہم نہیں کرتا ,طارق فرید

طارق فرید مشہور زمانہ پاکستانی نژاد امریکی کاروباری شخصیت ہیں ۔ وہ ایڈیبل ارینجمنٹ انٹرنیشنل کے بانی اور سی ای او ہیں۔ وہ اعلیٰ معیار اور فنی طور پر ڈیزائن تازہ پھلوں کے بانی اور عالمی سطح کی کاروباری شخصیت ہیں۔ انہوں نے 1999ء میں ایک آئیڈیا سے کاروبار شروع کیا اور اب وہ صرف امریکہ میں 600سٹورز کے مالک ہیں جبکہ پوری دنیا میں ان کے 1200سے زائد سٹورز ہیں جن سے 600ملین ڈالر سالانہ کا کاروبار کر رہے ہیں۔ طارق فرید سال رواں ایک سافٹ ویئر ہاؤس نیٹ سولیس (Netsolace)بھی قائم کیا ہے جو فرنچائز صنعت کیلئے بہترین ٹیکنالوجی حل فراہم کرتا ہے ۔ طارق فرید نے حال ہی میں پاکستان کی سب سے بڑے ٹیکنالوجی انکیوبیٹر پلان نائن (Plan 9)کا دورہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں ہمیں پاکستان اور دنیا بھر میں نوجوان کاروباری حضرات کیلئے قابل قدر تجاویز دیں۔

طارق سے جب پوچھا گیا کہ سٹارٹ اپ (Startup)کیلئے کیا چیز سب سے اہم ہے فنڈنگ ، رہنمائی یا پھر انکیوبیشن (Incubation)؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ”مجھے لگتا ہے کہ ان تینوں کی اہمیت درجہ بہ درجہ ہے۔ انکیوبیشن سے لوگوں کے خیالات میں پختگی آتی ہے۔ انہیں نمبر ون بننے کیلئے اپنے آئیڈیا پر اعتماد ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آئیڈیا، پراڈکٹ یا برانڈ کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ وہ اپنی مصنوعات متعارف کروا رہے ہیں جو بذات خود آگے بڑھنے کا ایک راستہ ہے۔ لہٰذا آپ نہ صرف ان کو مصنوعات کے فروغ میں مدد دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنی مصنوعات میں فنڈنگ کیلئے تیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فنڈنگ بھی بہت اہم ہے۔ بہترین مصنوعات کو بڑی آسانی سے فنڈنگ مل جاتی ہےاورہر کاروباری شخص کے لئے فنڈنگ دستیاب ہوتی ہے لیکن اسے حاصل کرنے کا طریقہ مناسب ہونا چاہئے۔ آپ حاصل ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھائیں، مثبت انداز میں کام کریں اورمنفی انداز میں مت سوچیں۔

پلان نائن کے بارے میں دریافت کرنے پر ا نہوں نے کہا کہ یہ متاثر کن ہے تاہم یہاں مزید لوگوںکو آناچاہئے۔پلان نائن میں چار لوگوں کا ایک ڈیسک سینکڑوں لوگوں کو ملازمتیں فراہم کررہا ہے۔ اور یہ لوگ مزدور نہیں بلکہ آئی ٹی کے شعبے اور کاروبار سےتعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ طارق کہتے ہیں کہ کاروبار شروع کرنا اہم ہے جبکہ اس برانڈ کی برانڈنگ کا تصور اشد ضروری ہے۔ کاروبار میں بہت سی چیزیں آتی ہیں، اس کیبنیادتعمیرکی جاتیہے، سسٹم بنایا جاتا ہے، لوگوں کو تربیت دی جاتی ہےاور برانڈ متعارف کروایا جاتا ہے۔ جبکہ میں نے پلان 9میں دیکھا کہ وہ پراڈکٹس نہیں بلکہ برانڈ ز بنا رہے تھے۔ برانڈ وہ ہے جس کے بارے میں ہم بتانا پسند کرتے ہیں کہ یہ برانڈڈ پراڈکٹ ہے۔ برانڈ ہی ہم خریدتے ہیں ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔

طارق کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے پھول کی دکانوں کی ایک بڑی چین تعمیر کرنے کا خواہشمندتھے لیکن اس کیلئے مستقل مزاجی چاہئے تھی لہٰذا اس کے لئے، میںنے پھولوں کو سجا سنوار کر دوستوں کو پیش کیا دوستوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھا خیال ہے۔ میرے والد نے اپنے دوست ڈاکٹر کو میری دکان پر چیک کرنے بھیجا۔ انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا اس سے پہلے بھی یہ کام کسی نے کیا ہے؟ میں نے کہا نہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام نہیں کررہیں تو تم کیسے سمجھتے ہو کہ تم کامیاب ہو جائو گے،میں خاموش رہا لیکن میں نے پھلوں کو سجا کر والدہ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ تم کامیاب ہو جائو گے۔ طارق کہتےہیں کہ میرے لئے میری ماں کے الفاظ ہی کافی تھے۔ وہ جب امریکہ آئیں تو پانچویں تک پڑھی ہوئی تھیں لیکن یہاں انہوں نے چالیس سال کی عمر میں اپنی تعلیم دوبارہ شروع کی۔ وہ کہتی ہیں کہ جس چیز کی آپ میں کمی رہ جاتی ہے اگر موقع ملے تو اسے پورا کرو۔ میری ماں ہمیشہ یہ کہتی ہیں کہ پیسے کے پیچھے مت بھاگو کیونکہ پیسہ بہت تیز بھاگتا ہے۔ ہمیشہ صحیحکام کرو پیسہ خودبخود آپ کے پیچھے بھاگے گا۔ اور صحیح کام کرنے کا مطلب اپنے صارف کا خیال رکھنا ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ میک ڈونلڈز کی طرح ڈنکن ڈونٹس ایک معروف نام ہے۔ یہ کمپنیاں کھلے دل سے کام کرتی ہیں اگر آپ ان کے پاس جاکر کہتے ہیں کہ میں ایک برانڈ متعارف کروا رہا ہوں اور مجھے رہنمائی کی ضرورت ہے۔یہ کمپنیاں آپ کی مدد کرتی ہیں۔ انہوں نے امریکیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ان سے مدد مانگیں تو وہ خوش دلی سے مدد کرتے ہیں۔

طارق فریدکا خیال ہے کہ ہمارے لئے پاکستان میں رہنمائی اہم کام ہےکیونکہہمارے ہاں بزنس کیلئے نئی چیزیں متعارف کروانے کا کلچر موجود ہی نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان اپنے والدین سے بات کرتا ہے تو وہ اسے ملازمت تلاش کرنے کا کہتے ہیں جبکہ بزنس کرنے والے کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا آپ کو اپنے والدین سے بات کرنے کی ضرورت ہے کہ میں نے فلاں شخص سے بات کی ہے اور اس کے خیال میں یہ ایک بہت اچھا آئیڈیا ہے۔ ہمارے ہاں یہ کلچر ہے کہ جب آپ اپنے والدین یا کسی انکل کو اپنے بزنس کے نئے آئیڈیا کے بارے میں بتاتے ہیں تو وہ فوراً اسے مسترد کردیتے ہیں خواہ انہیں اس بزنس کی سمجھ نہ بھی ہو ۔ جب ڈاکٹر صاحب نے میری حوصلہ شکنی کی تو میں باغی ہو گیا اور سوچا کہ میں انہیں کامیاب ہو کر دکھائوں گا اور میں نے کردکھایا۔

طارق فریدخود کو ایک پاکستانی کاروباری شخصیت کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “ہم ایسے معاشرے میں پلے بڑھے ہیں جہاں لوگوں کو نفسیاتی چیلنجوں اور راہ میں حائل رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ میرے کاروباری رہنمائوں نے مجھے سکھایا ہے کہ موقع سے فائدہ اٹھائیں اور رسک کو کم کریں۔ جیسے جیسے آپ کو مواقع ملیں گے آپ رسک کے بارے میں جاننا شروع ہو جائیں گے۔ آپ اپنے آئیڈیا کی خامیوں اور تاریک پہلوئوں پر غور کریں گے۔ طارق فریدکہتے ہیں کہ دنیا مواقع سے بھری پڑی ہے۔ اگر کوئی تحقیق کرنا چاہے تو دنیا اس کی انگلیوں کے اشاروں پر آجاتی ہے۔ جب آپ جاننا چاہیں گے کہ کس طرح ایک برانڈ معروف ہو تو شروع میں انہیں کئی مشکلات آئیں لیکن انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کاروباری افراد کیلئے بہت سے مواقع ہیں۔پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی آبادی والا ملک ہے اور اس کے نوجوان بڑے باصلاحیت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارے ایک طرف چین ہے دوسری طرف بھارت ہے۔ اگر آپ حقیقت میں حوصلہ افزائی چاہتے ہیں تو دبئی کی طرف دیکھیں۔ جہاں پر کاروبار کرنے کیلئے کوئی رکاوٹ نہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو کاروبار کرنا چاہئے جس سے یقیناً بہت سے لوگوں کو روزگار ملے گا، بہت سے برانڈ بنیں گے ۔طارق فرید کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کاروبار کیلئے کوئی بڑے مواقع فراہم نہیں کرتا بلکہ لوگ اس پر اپنا وقت برباد کرتے ہیں۔ میں یہ کہنے سے گریز کرتا ہوں کیونکہ فیس بک میرا بائیکاٹ کردے گی۔ لیکن میرے خیال میں پاکستان کے لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے وقت کا کس طرح بہتر سے بہتر استعمال کرسکتے ہیں۔

شکایات کے مقابلے میں تعریف کے بارے میں زیادہ فکر مند ہونا ایک کامیاب حکمت عملی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ لوگوں کو شکایات کی بجائے تعریفوں کے بارے میںبتاتا ہوں۔ لوگوں کو اپنے کاروبار پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔انہیں اسے پورا وقت دینا چاہئے۔ آپ کا ایک ایک منٹ سرمایہ کاری میں گنا جاتا ہے۔ آپ کو دیکھنا چاہئے کہ برانڈ زیادہ سے زیادہ لوگوں میں متعارف ہو رہا ہے، آپ کے کسٹمرز بڑھ رہے ہیں، دیکھیں کہ آپ کی پراڈکٹ کو پسند کیا جارہا ہے اور آپ اس سے پیسہ کما رہے ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو اپنا قیمتی وقت برباد کررہے ہیں۔ طارق فریدکیلئے وقت سب سے قیمتی چیز ہے اس کے مقابلے میں روپیہ کمانا آسان بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں اپنے آپ کو واقعی انعام دینا چاہتا ہوں تو اپنے وقت کی قدر کرتا ہوں۔ میں برانڈ بنانے کیلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کرتا ہوں۔

طارق فرید کا خیال ہے کہ ہر کمپنی اور کاروبار جب اپنا کاروبار شروع کرے تو اپنے آغاز کے وقت ہی مارکیٹنگ، کسٹمر سروس اور برانڈ کی منصوبہ بندی کرے۔ جب آپ یہ کام کرتے ہیں تو معاشرے کو بہتر بنارہے ہوتے ہیں اور جواباً معاشرہ آپ کے کاروبار کو بہتر بناتا ہے۔ لہٰذا معاشرہ آپ سے ہاتھ سے ہاتھ ملا کرچلتا ہے۔ کاروبار کے ساتھ ساتھ فیاضی بھی اہم ہے اور جو لوگ مسلمان نہیں بھی ہیں وہ بھی فیاضی دکھائیں تو اللہ ان کے رزق میں برکت ڈالتا ہے۔ آپ نے بل گیٹ اور ملینڈا گیٹ کی فیاضی کی مثالیں سنی ہوں گی وہ فیاضی دکھاتے ہیں اور اللہ انہیں اور نوازتا ہے۔ یہ تو قانون قدرت ہے۔ آپ جتنی زیادہ سخاوت کھائو گے اللہ اتنا ہی آپ کو نوازے گا۔ہم نے پاکستان میں ایک ہسپتال بنایا ہے جہاں ہم 4زار مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں، ہم انہیں دوائیاں فراہم کرتے ہیں، انہیں الٹراسائونڈ کی سہولت دیتے ہیں وہاں کچھ لیب کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ ہمارا فی مریض اوسط خرچہ ایک ڈالر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ان کی کمپنی پاکستان سے بہت روپیہ کما سکتی ہے۔ لیکن ایک وقت میں کمپنی اپنا تجربہ فراہم نہیں کرسکتی جو اس نے امریکہ اور دیگر مارکیٹوں سے حاصل کیا ہے۔ ہم ہر سال اس کا جائزہ لیتے ہیں اور ایک دن پاکستان کی مارکیٹ میں اسے متعارف کروائیں گے۔ یہاں ہماری جڑیں ہیں ہم کچھ کریں گے لیکن اس کے لئے مناسب وقت کا انتظار ہے

تحریر: مناہل ظفر (Manahil Zafar)

Read in English

Authors
Top