Global Editions

سوشل میڈیا ، داعش کا اہم ہتھیار

موجودہ دور میں جس طر ح دوسرے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے اسی طرح دور جدید کی جنگوں میں بھی جدت آئی ہے آج کل دنیا کو دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردوں نے بھی جنگ لڑنے کے لئے روائتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر دیا ہے جس کے لئے وہ سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا داعش کا اہم ہتھیار بن گیا ہے اور اس کا محاذ انٹرنیٹ خصوصاً سوشل میڈیا ہے۔ انتہا پسند بڑے منظم انداز میں، منصوبہ بندی کے ساتھ اسے محاذ جنگ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ وہ اسے نظریاتی، علمی اور نفسیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے بڑے خوش کن تصورات، خیالات اور دلائل سے نوجوان نسل کو متاثر کررہے ہیں۔ ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کرکے اپنی طرف مائل کرتے ہیں جبکہ نوجوان نہیں جانتے کہ یہ لوگ بھیڑ کی کھال میں بھیڑئیے ہیں اور دوا کی شکل میں زہر بانٹ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو اس خطرے کا خاصی حد تک اندازہ ہو چکا ہے اور وہ اس محاذ پر انتہا پسندوں کے خلاف صف آرا ہو رہے ہیں لیکن بدقسمی سے تیسری دنیا کے ممالک میں نوجوانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ وہ اپنی کم علمی، کم مائیگی، بیچارگی، احساس محرومی کے سبب انتہا پسندوں کا محبوب ہدف ہیں اور بآسانی ان کا شکار بن جاتے ہیں۔ ہم سب کو ایک جماعت ہو کر انتہا پسندی کی اس جنگکیخلاف لڑنا ہو گا۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کہیں یہ جنگ ہمارے گھروں، دفتروں، سکولوں اور کالجز تک تو نہیں پہنچ رہی۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں نہایت تدبر ، پورے وسائل اور قوت سے اسے روکنا ہوگا۔

ND15_reviews_isis_2

ان انتہا پسند اور دہشتگرد تنظیموں میں اس وقت سب سے نمایاں نام داعش کا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر یہ داعش کیا ہے؟ جس نے لوگوں کے دل و دماغ اور کئی ممالک کے علاقوں پر قبضہ کرنے کیلئے چومُکھی لڑائی شروع کررکھی ہے۔ جوبے پناہ مالی وسائل کے ساتھ انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے ، جس کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری دنیا کو میدان جنگ اور سوشل میڈیا پر اپنے بہترین وسائل اور ہنر آزمانے ہوں گے۔ بڑے عرصے سے انتہا پسند گروپ نہ صرف اپنے ملک کیلئے لڑ رہے ہیں بلکہ اس مقصد کیلئیمختلف روائتی ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔ لیکن دہشتگرد تنظیم داعش ان سے مختلف نظر آتی ہے وہ روائتی ہتھیاروں کی بجائے انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے وہ آن لائین پراپیگنڈہ اور بھرتیاں بھی کررہی ہے۔ یہ تنظیم علاقوں پر قبضے کیلئے 21 ویں صدی کی ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری، اذیت، عصمت دری، انسانوں کو غلام بنانا اور عہد رفتہ کی یادگاروں کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ کس طرح نوجوانوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں اس کی ایک مثال ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو رسالہ میں دی گئی ہے۔ ایک شخص امریکی ریاست ورجینیا (Virginia)میں بیٹھ کر ٹوئٹر کے ذریعے ریاست آریگان (Oregon) میں اپنے آن لائن دوست کو قائل کرنے کیلئے دلیل دیتا ہے کہ ہاں اسلامی ریاست 2004 ء میں محض ایک تصور تھا جس طرح 1776 ء سے قبل امریکہ خود ایک تصور تھا۔ لیکن اب یہ تصو را یک حقیقت کا روپ دھاررہاہے۔ ورجنیا میں موجود شخص داعش کی طرف سے آن لائن جاری کی گئی خونی ویڈیوز دیکھتاہے اور اب وہ ٹوئٹر پر شام سے واپسی پر ورجنیا میں ایک ملیشیا بنانے کی بات کررہا تھا۔ وہ اپنے پیغام میں کہتا ہے کہ واشنگٹن نے ایک سلطنت کو تین فیصد لوگوں سے شکست دی،جبکہ میں ایک فیصد سے شکست دوں گا۔ داعش کے خلاف آن لائن مہم میں سرگرم شخص ڈیٹرائچ نے چند دن تک اس کی باتیں ، شکوے شکایات ہمدردی اور غور سے سنیں اور اسے مشورہ دیا کہ وہ کسی ماہر نفسیات سے ملے۔ آخر ایک رات اس نے ورجینیا والے شخص سے کہا کہ میں بھی کتنا بے وقوف ہوں جو تمہاری باتوں میں آرہا ہوں۔ میراخیال ہے کہ تم یہ انتہا پسند سرگرمیاں امریکہ میں شروع کرنا چاہتے ہو اور تم سوچتے ہو کہ تم جیت جاؤ گے۔ اپنے اس پاگل پن کو روکو ورنہ یہ تمہیں تباہ کردے گا۔ ورجینیا والے شخص نے اسے یہ یقین دلایاکہ میں اس بارے میں ضرور غور کروں گا۔

داعش انتہا پسندنام نہاد اسلامی گروپوں میں سے ایک بہت بڑا گروہ ہے جس نے لالچ دے کر 25 ہزار غیرملکی افراد کو شام اور عراق میں جنگ کیلئے آمادہ کرلیا ہے ۔ امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے 4500 کا تعلق شمالی امریکہ اور یورپ سے ہے۔ واٹر لو یونیورسٹی (Waterloo University) کے محقق امرناتھ امراسنگم(Amarnath Amarasingam) کہتے ہیں کہ داعش کی سوشل میڈیا پر مہم نے لوگوں کے خیالات انتہاپسندی کی طرف موڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گوگل کی پالیسی ڈائریکٹر وکٹوریہ گرینڈ(Victoria Grand) نے اسی موضوع پر یورپ میں ہونے والی کانفرنس میں بتایا کہ 80 سے 90 ممالک کے غیرملکی جنگجو داعش میں شامل ہیں۔ رنگ ونسل اور تعداد کے لحاظ سے ان کے اعدادوشمار حیران کن ہیں۔ سوشل میڈیا پر داعش زہریلا پراپیگنڈہ پھیلا رہی ہے جبکہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے مضبوط دلائل کہیں نظر نہیں آتے تاکہ ٹھوس بنیادوں پر ان کی مخالفت کی جاسکے۔ اس کے باوجود ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہا پسند گروہوں میں بھرتی اتنی پراثر نہیں ہے۔ انٹرنیٹ کمپنیاں ایسے اکاؤنٹس کو بنداور وحشت کے مناظر سے بھرپور ویڈیوز کو ختم کرنے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات فراہم کرتی ہیں۔ حکومتی ایجنسیاں جوابی پیغامات دینے کے ساتھ انہیں مسلمانوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ بہت سی این جی اوز مذہبی اور گروہی رہنماؤں کو داعش کے پراپیگنڈے کا توڑ کرنے اور انہیں سوشل میڈیا پر جوابی پیغامات دینے کیلئے تربیت فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے ایسی ویب سائٹس بنائی ہیں جو قرآنی آیات کا درست پس منظر میں ترجمہ اور وضاحت پیش کرتے ہیں۔ لیکن جو بات نظر انداز کی جارہی ہے وہ بڑے پیمانے پر ان لوگوں سے فرداً فرداً رابطوں کی ہے جو داعش اور دیگر انتہا پسند گروہوں کے پراپیگنڈہ سے متاثر ہوکر انقلابی بن رہے ہیں۔

ND15_reviews_isis_3

حمیرا خان واشنگٹن میں تھنک ٹینک’’ مُفلِحُون‘‘ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں جنہوں نے خود کو انتہا پسندی کیخلاف لڑائی کیلئے وقف کررکھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں اور ڈائیٹرچDietrich) ) جیسے لوگوں کوانٹرنیٹ پر انتہا پسندی کیخلاف مہم چلانے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں وہ بمشکل درجنوں میں ہوں گے جو ناکافی ہیں۔جبکہ صرف داعش کے حمایتیوں کے سو شل میڈیا اکاؤنٹس ہی دیکھ لیں تو وہ ہزاروں میں ہیں اور ان کی تعدادروز بروز بڑھتی جارہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بھرتی کیلئے داعش کی شرح بہت بلند ہے ان کے پیغامات پرکشش ہوتے ہیں جبکہ ان کا موثر جواب بہت کم نظر آتاہے۔جبکہ حکومت کے زیادہ تر جوابات سوالوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ لہٰذ اسے ہم یکطرفہ ابلاغ کہہ سکتے ہیں بحث و مباحثہ نہیں۔ اس جنون کی لہر کو پیچھے دھکیلنے کیلئے بہت سی دوسری باتوں کے ساتھ ہمیں حمیرا خان اور ڈائیٹرچ کی طرح بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ہمیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ان لوگوں کی شناخت کریں جن کا انتہا پسندوں کے پیغامات سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس کے لئے ہمیں با اعتمادطریقے سے ان کے ساتھ ابلاغ کرنا چاہئے۔ لندن کے تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک ڈائیلاگ(Institute for Stretegic Dialogue) نے کچھ تجربات کئے ہیں کہ جس میں فیس بک پر ایسے لوگوں کو تلاش کیا گیا جو انقلابی نظریات سے متاثر ہورہے تھے اور کوشش کی کہ ان میں سے 160 کو ان نظریات سے دور کردیا جائے۔ یہ اگرچہ ایک چھوٹا سا ٹیسٹ تھا لیکن اس سے ظاہر ہو گیا کہ ہم عمر لوگوں کیلئے انتہا پسندی کیخلاف حکمت عملی کیا ہونی چاہئے۔

ND15_reviews_isis_4

داعش ، سابقہ انقلابی اسلامی تحریکوں سے اس لحاظ سے مختلف ہے کہ وہ علاقوں پر قبضہ کرنے کیلئے دوسری تنظیموں کے ساتھ اہم اتحاد بناتی ہے۔ داعش نے القاعدہ کے کچھ دھڑوں اور صدام حسین کی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے مل کر شام میں رقعا (Rakka)اور عراق میں موصل (Mosul)کے شہروں پر قبضہ کرلیا۔ جہاں بڑے پیمانے پر (حالیہ ہجرت سے پہلے )30 لاکھ سے زیادہ آبادی تھی اور جہاں پر تیل، پانی، گندم اور ادارے جیسے یوینورسٹی کی طرح کے وسائل موجود ہیں۔ اس کے برعکس القاعدہ نے کبھی بھی (سوائے چند صومالیہ اور یمن کے کچھ چھوٹے چھوٹے حصوں کے)، اس طرح کے بڑے علاقوں پر قبضہ نہیں کیا۔ ویانا یونیورسٹی (Vienna University) کی محقق اور کنگ کالج لندن کے انٹرنیشنل سنٹر میں انقلابیت پسندی کے مطالعہ میں معاون نیکو پروچا(Nico Prucha) نے بتایا کہ اس سے پہلے کسی انقلابی اسلامی تحریکوں نیعلاقے اور دولت پر قبضہ کرکے اسے ایک ریاست کی طرح نہیں چلایا تھا۔ اس کے علاوہ داعش دیگر جہادی تنظیموں سے نظریاتی لحاظ سے بھی مختلف ہے۔ داعش کے 2014 ء میں موصل پر قبضہ کرنے کے بعد درشت چہروں والے سیاہی مائل رنگ کے لوگ ایک مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے امیر ابوبکر البغدادی کو خلیفہ ، اور خود کوحضرت محمد ﷺ کا جانشین قرار دینے کا اعلان کیا اور عہد کیا کہ وہ مسلمان ملکوں کوایک خلافت کے تحت اکٹھا کریں گے۔ انہوں نے بڑی چالاکی سے اپنے انتہا پسندانہ نظریات کو ایک معتبر تصور کے ساتھ منسلک کردیاجن کا مسلمانوں میں بہت احترام ہے۔

ND15_reviews_isis_5

ٹورانٹو میں سابق انتہا پسند مبین شیخ نے بتایا کہ داعش کوئی گروہ نہیں جس میں لوگ شریک ہو رہے ہیں بلکہ یہ ایک سماجی تحریک ہے۔ وہ کینیڈا کی انٹیلی جنس سروس کیلئے بہت سی تحقیقات میں خفیہ طور پر کام کرتا رہا ہے۔ جس میں ایک کام 2006 ء میں مسلمان گروپ ’’ٹورانٹو 18 ‘‘ میں شامل ہونا تھا۔ آج وہ امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف ایجنسیوں کیلئے کام کرتاہے اور نوجوانوں کو ٹورانٹو مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے جو شمالی امریکہ میں ٹورانٹوکے مسلمانوں کی سب سے بڑی کمیونٹی ہے جو انقلابیت پسندی کی طرف بڑی تیزی سے مائل ہورہی ہے۔ شیخ کہتا ہے کہ مسلم دنیا خصوصاً نوجوان خلافت کی بحالی کے تصور سے بہت متاثر ہوتے ہیں اور داعش جیسی تنظیمیں ایسی باتوں سے نوجوانوں کو ابھارتے ہیں ، ان کا خیال ہے کہ مسلمان اس وقت بہت ذلت کی زندگی گزار رہے ہیں اوراس کا حل خلافت کی بحالی میں ہی ہے ۔

تیسرے داعش اہم ٹیکنالوجی کی تبدیلی کے بعد وجود میں آئی۔ ذرا ماضی میں جائیں جب 2004 ء میں القاعدہ کے ابومصعب الزرقاوی نے نک برگ(Nick Berg) کا سر کاٹنے کی ویڈیو جاری کی تھی۔ اس ویڈیو کو جہادی فورم پر اپ لوڈ کرنے کا کام بڑا تھکا دینے والا تھا۔ اس وقت یو ٹیوب(Youtube) اور ٹوئٹر(Twitter) بھی نہیں ہوتے تھے۔ صرف چند لوگوں کے پاس سمارٹ فون ہوتے تھے۔ القاعدہ نے اپنی ویڈیو جاری کرنے کیلئے خبروں کے ادارے الجزیرہ کا سہارا لیا۔ آج البتہ پہلے کے مقابلے میں قابل رسائی آلات، تیز نیٹ ورک، لوگوں سے بھرا ہوا سوشل میڈیا کی سہولت بآسانی دستیاب ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق دنیا میں ایک ارب 60 کروڑ مسلمانوں کی اوسطاً عمر 23 سال ہے۔ داعش کا شام میں میڈیا سربراہ 36 سالہ ابوعمرالشامی ہے۔ سابق امریکی اور برطانوی دہشتگردی کیخلاف مشاورتی گروہ کے ارکان پر مشتمل سوفان گروپ نے بتایا کہ ابو عمرالشامی ، الپو میں داعش کا سربراہ رہا ہے۔ داعش کے پراپیگنڈہ میں نرم زبان والا میگزین دابق بھی شامل ہے جس کا ایک شعبہ الحیات میڈیا صرف مغربی ممالک کے لوگوں کو ہی مخاطب کرتاہے۔ اسے جرمنی کا ایک شخص ابو طلحہ المانی چلا رہا ہے جس کا پہلے نام ڈیسو ڈاگ(Deso Dogg) تھاجو بھرتی کی ویڈیو چلاتا ہے جسے ہم مجاتویط(Mujataweet) کہتے ہیں لیکن سب سے بڑی سوشل میڈیا کی مہم کو مشرق وسطیٰ، شمالی امریکہ کے بڑے لوگ چلارہے ہیں۔

ND15_reviews_isis_6

پراپیگنڈہ زیادہ تر تصویری ویڈیوز پر مشتمل ہے جس میں ایک اردنی جنگی جہاز کے پائلٹ معاذ (Moaz) کو لوہے کے پنجرے میں دھکیلا گیا اور پھر اسے زندہ جلا دیا گیا۔ مغربی میڈیا پر زیادہ تر اس کے وحشی پن کے پہلو کو اجاگر کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ آگ 20 منٹ تک جلتی رہی۔ بہت سوں نے اس پر تفصیلی بحث کی جس میں انہوں نے صدر اوباما اور اردنی رہنماؤں، امریکی اسلحہ اور اردن کے داعش پر فضائی حملوں کو موضوع بحث بنایا۔ داعش کے پاس شاید معاذ کو ذبح کرنے کا جواز موجود ہو لیکن ان کا یہ اقدام واضح سیاسی ہدف رکھتاہے۔ یہ معاذ کے انکل کو عزیز رکھنے والے اردن کے شاہ عبداللہ اور بہت سے پناہ گزینوں کیلئے ایک وارننگ تھی۔ویڈیو کے زریعے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کیلئے اس کی عبارت کا ترجمہ انگریزی، روسی اور فرانسیسی زبان میں بھی کیا گیا تھا۔

داعش کے میگزین دابق میں بھی ایک خاص نقطہء نظر سے پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً خواتین کو آپس میں بہنوں جیسے گہرے تعلقات قائم کرنے پر آمادہ کیا جاتا، خود ساختہ خلافت کو مضبوط کرنے کیلئے شادی اور خاندان کی اہمیت پر زور دیا جاتا۔ داعش میں زیادہ سے زیادہ بھرتی کو فروغ دینے کیلئے ایک دوسرے سے محبت بڑھانے اور بات چیت کو فروغ دیا جاتاہے اور ان کی تمام خفیہ ذرائع سے نگرانی کی جاتی ہے۔ حمیرا خان کہتی ہے کہ جب آپ کہتے ہیں کہ ’’سماجی رابطے کی ویب سائیٹ کا دہشتگردی کے مقاصد کیلئے استعمال‘‘ تو یہ بات شرمناک محسوس ہوتی ہے لیکن جب آپ ’’سوشل میڈیا کا نوجوانوں کیلئے استعمال ‘‘کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ یقیناًداعش سوشل میڈیا استعمال کررہی ہے۔ داعش وہی کچھ کررہی ہے جو نوجو چاہ رہے ہیں۔

سرگرمیوں کو فروغ دینا

پانچ بچوں کا باپ چالیس سالہ مبین شیخ مجھے ٹورانٹو سٹی ائیرپورٹ کے قریب اپنی چھوٹی سی وین میں ملا۔بیس سال قبل وہ اسلامی انتہا پسندوں کا ہی ایک حصہ تھا اس لئے وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ داعش کا ہدف کون لوگ ہیں۔ ڈیٹرائچ اورحمیرا خان کی طرح وہ بھی آن لائین لوگوں سے اس معاملے میں بات کرنے میں مصروف رہا ہے۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب اس نے لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے کیلئے ٹوئٹر پر خلیفہ کے مجاہد"@Caliphatecop" کے نام سے اکاؤنٹ بنایا جسے اس نے بعد میں ختم کردیا اور اپنے تعارف میں قرآن مجید سے ایک آیت لے کر درج کی۔ اب یہ نام کوئی اور استعمال کررہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دوستوں اور ہم عمر لوگوں کے آپس میں پیغامات ، اشتہارات سے کہیں زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ ایک اور تحقیق ثابت کرتی ہے کہ نوجوانوں کو منشیات سے لے کر جرائم پیشہ افراد کے گروہوں میں شمولیت جیسے خطرات سے بچانے کیلئے والدین، ہم عمر افراد اور دوستوں کی ہلکی سی مداخلت بھی فائدہ مند ہوتی ہے۔ بہت سے داعش مخالف پروگرام اس قسم کے معاملات پر بھی نظررکھتے ہیں۔ مثلاً برطانوی حکومت نے داعش کیخلاف سرکاری پیغامات کیلئے ایک ٹوئٹر مہم شروع کی ہے جبکہ امریکی حکومت کی ایجنسیوں نے انتہاپسندی کیخلاف اور دیگر کمیونٹی روابط کے پروگراموں کے مختلف منصوبوں پر 188 ملین ڈالر خرچ کئے ہیں،اس میں جیلوں میں انتہا پسندی کو روکنے کا پروگرام بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ نئی سوشل ٹیکنالوجی متعارف کروانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ مثلاً امریکی ریاست ورجنیا کے شہرآرلنگٹن میں قائم ایفی نس لیب(Affinis Lab) خود کو مسلمانوں کیلئے ایپلی کیشنز بنانے کی تجربہ گاہ کہتی ہے۔ اسی نے کوئیک فقہ (Quick Fiqh) نامی ویب سائیٹ بنائی ہے جس میں نوجوانوں کیلئے اسلامی قانون پر 60 سوالات بنائے گئے ہیں اورجس میں انہیں علماء کو ساٹھ سیکنڈ کے اندر ہی ان سوالات کے جوابات دینے ہوتے ہیں۔ اسے سوشل میڈیا پر بآسانی شئیر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ تمام کوششیں انقلابیت پسندی کی طرف مائل نوجوانوں کیلئے نہیں بلکہ عام مسلمانوں کیلئے ہیں۔ شیخ اور دیگر افراد جو لوگوں سے رابطے استوار کرتے ہیں پریشان ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ ان کا جن لوگوں سے رابطہ ہورہا ہے وہ انقلابیت پسندی کے حملے کے خطرے میں مبتلاہیں بھی یا نہیں۔ کہیں ان کی کوششیں ضائع تو نہیں جارہیں۔ اس کے علاوہ وہ مزید ثبوت بھی چاہتے ہیں کہ کس قسم کے طریقے اور پیغامات موثر ثابت ہوتے ہیں؟ انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک ڈائیلاگ(Institute for Stretegic Dialogue) نے انتہاپسندی کیخلاف حکمت عملی کیلئے منظم طور پر ہم عمر لوگوں سے رابطے کا انتظام کیا ہے۔ پہلے مرحلے پر 10 سابق انتہاپسندوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن میں پانچ د ائیں بازو کے انتہا پسندانہ خیالات کے مالک تھے اور پانچ سابق جنگجو رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے پر وہ فیس بک کا ایک فیچر استعمال کریں گے جسے تصویری تلاش (Graph Search) کہا جاتاہے۔ جس کے ذریعے وہ جائزہ لیں گے کہ کن لوگوں کی کیا دلچسپیاں ہیں، وہ کون سے گروپس میں شامل ہیں،وہ کن صفحات کو وہ پسند کرتے ہیں اور اسی طرح کے دیگر اشارئیوں کا جائزہ لیں گے جو ظاہر کریں گے کہ کون لوگ انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں نے تحقیق کرکے 160 لوگوں کی فہرست مرتب کی اور بات چیت شروع کرنے کیلئے فیس بک کا بہت کم استعمال ہونے والا فیچر ’’ایک پیغام پر ادائیگی کریں‘‘(pay per message) استعمال کیا۔ ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوا کہ زیادہ تر پیغام وصول کرنے والوں نے اسے اہم قدم قرار دیا، 60 فیصد نے کسی تعارف کے بغیرمحدود بات چیت جاری رکھی۔

اس مطالعے میں خام اندازہ ہوتاہے کہ بڑے پیمانے پر ایسی سرگرمیوں کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ اس مطالعے کی سربراہی کرنے والے راس فرینٹ (Ross Frenett) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے انتہا پسندوں کے مقاصد میں معاونت تو کی ہے لیکن ہمارے پاس بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے وہی ٹولز استعمال کرکے انہیں پیچھے دھکیلنے کیلئے بہت سے راستے ہیں۔

داعش آج بھی آن لائین جدوجہد میں غالب ہے۔ نوجوان لوگ اب بھی مغربی ممالک کو چھوڑ کر جنگ کے علاقوں میں منتقل ہورہے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ہمیں چھوٹی سی جیت بھی مل جاتی ہے۔ڈائٹرچ اور حمیرا خان کہتے ہیں کہ نوجوان اپنی ذہنی حالت کے علاج کی تلاش میں ہیں۔ ہم جو کوششیں کر رہے ہیں اس سے ممکن ہے کہ ایسے لوگوں میں سے کچھ واپس آجائیں کیونکہ انہیں واپس لانے کیلئے رابطے استوار کئے جارہے ہیں۔

تحریر: ڈیوڈ ٹالبوٹ David Talbot

Read in English

Authors
Top