Global Editions

سنوڈن کے انکشافات کے بعد ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے اقدامات

ایڈورڈ سنوڈن (Snowden)نےجب 2013ء امریکی خفیہ دستاویزات جاری کیں تو پوری دنیا میں ایک کھلبلی مچ گئی جس کے باعث امریکی خفیہ ایجنسیوں کو بیرون ممالک میں نگرانی کے اپنے بہت سے پروگرام ترک کرنا پڑے۔ اس نے بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں مثلاً گوگل، ایپل، یاہو اور مائیکروسوفٹ کے سیکورٹی نظام کی خامیوں کو بھی ظاہر کردیا۔ سنوڈن کے انکشافات نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کاروباری اداروں اور صارفین کے درمیان تعلقات کو خطرے میں ڈال دیااور غیر ملکی کاروباری صارفین نے کلائوڈ خدمات فراہم کرنے والی امریکی کمپنیوں سے 35ارب ڈالر اور 180ارب ڈالر کے سودے کینسل کر دیئے ۔ تب امریکی کمپنیوں نے اپنے دیگر صارفین کو بچانے کیلئے تعلقات عامہ کا سہارا لیا اور ان کمپنیوں پر اچھی خاصی رقم خرچ کی۔ سنوڈن کے انکشافات کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں نے یوزر ڈیٹا کو چوری اور جاسوسی سے محفوظ کرنے کی کوششیں شروع کر دیں اس کے لیے کلائوڈ اور انٹرنیٹ کی خدمات فراہم کرنے والی بڑی کمپنیوں گوگل، یاہو، مائیکروسوفٹ نے اپنے داخلی بنیادی ڈھانچے میں یوزر کے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کا انتظام کرلیا ہے۔

ان تمام اقدامات کے باوجود ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا آن لائن ڈیٹا محفوظ نہیں ہے مثلاً سمارٹ فون (Smart Phone)، سکائپ (Skype)یا گوگل ہینگ آئوٹ (Google Hangout)سے ڈیٹا منتقلہو رہا ہوتا ہے تواس طرح یہ ڈیٹا محفوظ نہیں ہوتاالبتہ ایپل نےاپنے نیٹ ورک پر ڈیٹا محفوظ کرنے کیلئے نمایاں اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس کے آئی فون (iPhone)،آئی پیڈ (iPad)اور دیگر آلات پرایپل کا آپریٹنگ سسٹم خودکار طریقے سے ڈیٹا محفوظ کر دیتا ہے۔ لیکن غریب ممالک میں ایپل کی مصنوعات مہنگی ہونے کے سبب زیادہ استعمال نہیں کی جاتیں۔اس کی جگہ دنیا بھر میں 3.4ارب سمارٹ فون استعمال ہو رہے ہیں جس میں سے 80فیصد گوگل اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہیں جس میں ڈیٹا بہت کم تحفظ فراہم کرتاہے۔ امریکی سول لبرٹیز یونین (American Civil Liberties Union)کے اہم ٹیکنالوجسٹ کرس سوگھیان(Chris Soghoian)کہتے ہیں کہ امیروغریب کے اس فرق نے سیکورٹی کی ڈیجیٹل تقسیم پیدا کردی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امیر لوگوں کے فون پر ڈیٹا خودکار طریقے سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کی نگرانی نہیں کی جاسکتی جبکہ غریب ممالک کے لوگ یا جنہیں امریکہ میں سہولیات میسر نہیں ان کے ڈیٹا کی نگرانی بآسانی کی جاسکتی ہے۔

سنوڈن کے انکشافات کے بعد ڈیٹا محفوظ کرنے کے اعلانات پر تیزی سے عمل کیا گیا۔ نومبر ، دسمبر 2013ء میں یاہو ، مائیکروسوفٹ اور مارچ 2014ء میں گوگل نے ڈیٹا محفوظ کرنے کی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ ان کمپنیوں نے ایچ ٹی ٹی پی ایس (HTTPS)سرور ایڈریس کے ذریعے اپنے سرور زاور یوزر کے درمیان تبادلہ ہونے والے ڈیٹا کو محفوظ کرنا شروع کردیا۔ ان سب سے زیادہ بہترین کام ایپل نے کیا اس نے ڈرامائی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام آئی فون اور آئی پیڈ استعمال کرنے والوں کا ڈیٹا ان کے اپنے منتخب کردہ پاس ورڈ کے ذریعے خودکار طریقے سے محفوظ ہو جائے گا۔ اس طرح ہیکرز حتیٰ کہ حکومتی اداروں کیلئے ایپل کے ڈیٹا تک رسائی مشکل ہو گئی۔ گوگل، مائیکروسوفٹ اور یاہو کی کمپنیاں یوزر کا ڈیٹا محفوظ کرنے کیلئے ایسے طریقے استعمال نہیں کرتیں۔ لیکن اب صارفین چیٹ سکیور(Chat Secure)اور سگنلز (Signals)کی طرح کی فری ایپلی کیشنز استعمال کررہے ہیں جو ان کا ڈیٹا محفوظ کرنے کی ضمانت دیتی ہیں۔

تحریر: ڈیوڈ او برائین (David O Brien)

Read in English

Authors
Top