Global Editions

شہری انتظام کیلئے جدید مگر سستی ٹیکنالوجی کی ضرورت

پوری دنیا میں پھیلے ہوئے شہر، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، جدیدٹیکنالوجی کو پوری طرح سے اختیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان شہروں میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے موبائل ایپلی کیشنز، سینسرز اور دیگر ٹیکنالوجیز میدان میں آگئی ہیں ۔ شہروں کی منصوبہ بندی کرنے والے ،اب شہروں کو کنٹرول کرنے کیلئے ٹریفک لائیٹ، پارکنگ کے سینسرز اور شہریوں کے سمارٹ فونز سے ڈیٹا حاصل کی لگن میں ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ڈیٹا شہروں کو بہتر اور شہری زندگی کے معیارکو بلند کرنے میں مدد دے گا۔ اگر دیکھا جائے تو شہروں میں آبادی کی شرح 54فیصد تک پہنچ چکی ہے اور اگلی تین دہائیوں میں تقریباً تمام آبادی شہروں میں بدل جانے کا امکان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹیکنالوجی تیزی سے بڑھتی ہو ئی آبادی کا بہتر انتظام کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس سوال کا14 جواب بڑی کمپنیوں کی فروخت میں تلاش کیا جاتاہے۔ آئی بی ایم، سسکو(Cisco)، ہٹاچی(Hitachi)، سیمنز(Siemens)اور دیگر کمپنیوں نے اس مارکیٹ کو ہدف بنایا ہوا ہے۔ یہ کمپنیاں ان کامیاب شہروں کی مثال دیتی ہیں جہاں پر سستی اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گاڑی کھڑی کرنے، ٹریفک کی روانی ، شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ کی فراہمی، موسم کی تبدیلیوں سے آگاہی، توانائی ، پانی کی فراہمی اور پولیس کا نظام چلایا جا رہا ہے۔ شہروں میں ان نظاموں کی تنصیب اور انہیں چلانے پر سالانہ ایک ارب ڈالر خرچ ہورہے ہیںجو اگلے دس سالوں میں بڑھ کر 12ارب ڈالر ہو جائیں گے۔ امریکی شہر بوسٹن میں سٹیزن کونیکٹ (Citizen Connect)پروگرام میں سمارٹ سٹی تصور کے تحت سمارٹ فون کے ذریعے کوڑا کرکٹ کی اطلاع، خدمات کی تاخیر کے مسائل سے آگاہ کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ۔ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو اپنے روزانہ کا کام سمارٹ فون کے ذریعے معلوم ہوجاتا ہے اور وہ اپنے کام سے متعلق شہریوں اور اپنے باس کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ سمارٹ فون کے ذریعے ہی شہریوں کو پارکنگ کے مسائل ، گلی یا سڑک پر کسی گڑھےکے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے۔ حکومت سمارٹ سٹی ٹیکنالوجی کے تصور کے تحت ہی تعلیم اور بے گھر افراد کو گھر فراہم کرنے کے مسائل سے نبٹ رہی ہے۔ بھارت میں 100سمارٹ شہروں کے قیام کیلئے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر مختص کئے گئے ہیں۔ لیکن بھارت میں ہی سورت شہر سستی ٹیکنالوجی سے بہت بڑا فرق پیدا کیا گیا ہے۔ وہاں پر سیلاب کی پیشگی اطلاع کے نظام کو استعمال کرکے درجہ حرارت، بارشوں، ہوائوں کی رفتار اور دیگر ڈیٹا حاصل کیا جاتاہے۔ اس پر 5 لاکھ ڈالر سے بھی کم خرچ ہوا ہے۔ اسی سسٹم نے 2013 میں شدید بارشوں سے دو دن قبل ہی شہریوں کو پیشگی اطلاع دے دی تھی۔ اسی طرح بھارت میں دوسرا منصوبہ وبائی بیماریوں کی موبائل فون پیغامات اور انٹرنیٹ کے ذریعے اطلاع دینے کا شروع کیا گیا ہے۔ جس پر ملیریا، تپ دق، ڈینگی بخار وغیرہ کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے۔ ٹرائیمف آف دی سٹی (Triumph of the City)کے مصنف اور ہارورڈ کے معیشت دان ایڈورڈ گلیزر(Adward Glaeser) کا کہنا ہے کہ یہ صدی ٹیکنالوجی کی اختراعات پر مبنی ہے جس نے فاصلوں کو کم کرنے، گاڑی سے لے کر ویڈیو گیم تک ہر شے کو بہت ترقی دے دی ہے۔ ٹیکنالوجی ہمیں ایسی طرف لے جارہی ہے جس میں ذہانت اور اختراعات ہیں۔

تحریر: نانیٹے بائرنز Nanette Byrnes

Read in English

Authors
Top