Global Editions

سلیکون ویلی کی نقل نہیں کی جاسکتی

سلیکون ویلی نے 1960 ہی میں دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی تھی اور اب یہ ایجادات، اختراعات، بھاری بھر کم سرمایہ کاری، دنیا کی معروف کمپنیوں کے اشتراک عمل سے اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ ہر ملک میں سلیکون ویلی کی نقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ امریکہ ہی میں بوسٹن میں دنیا کی معروف 128کمپنیوں کا حلقہ بھی قائم ہے۔ لیکن وہ بھی سلیکون ویل نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی پروفیسر اینا لی سیکسنین(Anna Lee Saxenian)جانتی ہیں کہ لوگوں ، کلچر اور تعلقات کی کیا اہمیت ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ریجنل ایڈوانٹیج: کلچر اینڈ کمپیٹیشن ان سلیکون ویلی (Regional Advantage: Culture and Competition in Silicon Valley)میں بتایاہے کہ کیوں کوئی دوسرا علاقہ کیلیفورنیا کی کامیابی کی نقل نہیں کرسکتا۔ وہ لکھتی ہیں کہ 1970 ء امریکی شہر بوسٹن نئی کمپنیوں کی سرگرمیوں اور مشترکہ سرمایہ کاری کے حوالے سے سلیکون ویلی سے بہت آگے تھا۔ اسے مشرقی ساحل پر موجود صنعتی مراکز کا بہت بڑا فائدہ حاصل تھا۔ سلیکون ویلی اور روٹ 128 کا صنعتی علاقہ ایک ہی جیسے معلوم ہوتے ہیں جس میں بڑی اور چھوٹی کمپنیاں کام کرتی ہیں، عالمی معیار کی یونیورسٹیاں موجود ہیں، مشترکہ سرمایہ کاری کی سہولت حاصل ہے اور فوجی مقاصد کیلئے سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔لیکن تب سلیکون ویلی نے رفتار پکڑی اور بوسٹن اس کی دھول ہی تکتا رہ گیا۔

سلیکون ویلی کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے مائیکروویو الیکٹرانک صنعت کو پروان چڑھایا اور صنعتی شراکت داری کا ایک طریقہ کار وضع کردیا۔ فرانسیسی صدر چارلس ڈی گائولے(Charles De Gaulle)نے جب سلیکون ویلی کا دورہ کیا تو انہوںنے ویلی میں ہونے والے تحقیقی کام کو سراہا۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی سلیکون ویلی کے وسط میں واقع ہے جہاں سے معروف کمپنیوں نے جنم لیا جن میں ہیولٹ پیکرڈ(Hewlett Packard)، ویریان ایسوسی ایٹس(Varian Associates) اور اپلائیڈ ٹیکنالوجیز (Applied Technologies)جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کمپنیوں نے ٹیکنالوجی کی سرحدوں کو آگے کی طرف دھکیلا۔ یہاں پر واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا کہ تحقیقی کام اور کاروباری سطح پر بہت تبدیلی آرہی ہے۔

بہت جلد دوسرے علاقوں نے بھی اس کی نقل کرنا شروع کردی۔ سلیکون ویلی کی نقل کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش 1960 ء میں نیوجرسی میں ہائی ٹیک کمپنیوں کے کنسورشیم کی طرف سے کی گئی۔ نیوجرسی پہلے بھی ہائی ٹیک کا مرکز تھا ۔اس مقصد کیلئے انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ صدر، پروفیسر اور انجنئیرنگ شعبے کے سربراہ فریڈرک ٹرمین(Frederick Terman)کی خدمات حاصل کیں۔ ٹرمین کو بعض اوقات سلیکون ویلی بانی بھی قرار دیا جاتاہے۔ انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے انجنئیرنگ سکول کو اختراعی اور تخلیقی انجن میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کے سائنس اور انجنئیرنگ کے شعبوں کو مل کر کام کرنے ، مقامی فرموں سے منسلک ہونےاور صنعتی ضروریات کی تکمیل کیلئے تحقیق پر زور دیا۔ انہوں نے سلیکون ویلی میں تعاون اورمعلومات کے تبادلے کے کلچر کو فروغ دیا۔ یہ وہ عناصر تھے جنہوں نے سلیکون ویلی کو آگے بڑھنے میں بے پناہ مدد دی۔ نیو جرسی بھی اسی سطح پر کام کرنا چاہتا تھا۔ ٹرمین نے اپنی کوششوں کا آغاز کیا تو اس وقت آرسی اے(RCA)، میرک(Merck)،ٹرانزسٹر کے موجد اور بیل لیبز(Bell Labs) سمیت 725کمپنیاں وہاں پہلے سے ہی موجود تھیں۔ ان کی سائنس اور انجنئیرنگ پر مشتمل ٹیم 50 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ لیکن چونکہ نیوجرسی میں کوئی انجنئیرنگ یونیورسٹی نہیں اس لئے کمپنیوں کو باہر کے علاقوں سے ماہرین بھرتی کرنا پڑتے ہیں اسی لئے انہیں اپنی تربیت یافتہ لوگوں کے ہاتھ سے نکل جانے اور ٹیکنالوجی دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے کا خوف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پرنسٹن یونیورسٹی (Princeton University) نیوجرسی کے قریب ہی ہے لیکن اس نے صنعتوں سے متعلق ہر تحقیقی کام بند کردیاہے۔ بیل لیبز کے زور دینے پر نیوجرسی میں کاروباری اور حکومتی افراد نے سٹینفورڈ کی طرز پر یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے اپنی امیدیں ٹرمین سے وابستہ کرلی تھیں۔ ٹرمین نے نیوجرسی کو سلیکون ویلی بنانے کا منصوبہ تو بنا لیا لیکن وہاں موجود صنعتوں نے تعاون نہیں کیا۔ سلیکون ویلی کی تاریخ لکھنے والے رابرٹ ایچ کارگن(Robert H. Cargon)اور سٹورٹ ڈبلیو لیزلی(Stuart W. Leslie)نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ آر سی اے ، میرک اور دیگر ادویہ ساز کمپنیاں اس پر پیسہ صرف نہیں کرنا چاہیں گی۔ ٹرمین نے بعد میں ڈیلاس (Dallas)میں سلیکون ویلی بنانے کی دوبارہ کوشش کی لیکن یہاں بھ ناکامی ان کی منتظر تھی۔ 1990ء میں ہارورڈ بزنس سکول کے پروفیسر مائیکل پورٹر (Michael Porter)نے تخلیقی اور تحقیقی مراکز کرنےکیلئے ایک نیا طریقہ متعارف کروایا۔ اس نے دیکھا کہ مختلف علاقوں میں قائم اور آپس میں کاروباری مفاد رکھنے والی کمپنیاں اور مصنوعات فراہم کرنے والے کچھ کمپنیوں کو سہولتیں فراہم کرتے ہیں اگر ان کو ملا کر کمپنیوں کا ایک مجموعہ ترتیب دیا جائے تو کاروباری سرگرمیاں پھل پھول سکتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس فارمولے نے بھی کام نہیں کیا۔ ان ناکامیوں کے باوجود ایک دوسری سلیکون ویلی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ سینکڑوں ممالک ایک دوسری سلیکون ویلی بنانے کیلئے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیںاورمیرا نہیں خیال کہ کوئی ایک بھی کامیاب ہوا ہے۔

ٹرمین اور پورٹر اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہوئے کہ سلیکون ویلی کوئی ادارہ، صنعت یا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں امریکی حکومت فوجی مقاصد کیلئےایرو سپیس اور الیکٹرونکس میں تحقیق کیلئے سرمایہ کاری نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کے آپس میں رابطے ہیں ، باہمی تعاون، معلومات کی آزادانہ فراہمی ہے جس نے سلیکون ویلی کو تخلیق کیا ہے ۔ سلیکون ویلی میں ملازمتیں ملنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ روزانہ سینکڑوں نئی کمپنیاں وجود میں آتی ہیں، یہاں پر مضبوط پیشہ وارانہ نیٹ ورک قائم ہے، معلومات کی آزادانہ ترسیل اور حصول ممکن ہے۔ ویلی کی فرمیں سمجھتی ہیں کہ باہمی اشتراک عمل کامیابی کی طرف لے جاتاہے۔ یہاں پر تجربات کئے جاتےہیں، خطرات مول لئے جاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کو کامیابی اور ناکامی کی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں سلیکون ویلی ایک دیو، کھلے مواقعوں اور مضبوط سماجی رابطوں کا ایک نظام ہےجو فیس بک سے بھی پہلے موجود ہے۔

سلیکون ویلی کیلئے صرف سرکاری سطح پر رکاوٹیں پید اہوتی ہیں۔ دراصل سلیکون ویلی پوری دنیا سے ذہین افراد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن ورک ویزا کی پابندیاں غیر ملکی ٹیلنٹ کویہاں لانے میں رکاوٹ ہیں۔ دس لاکھ سے زیادہ کارکن عارضی ورک پرمٹ پر کام کررہے ہیں اور مستقل رہائش کے اجازت نامے کے منتظر ہیں۔ ویزوں کی کمیابی کا مطلب یہ ہے کہ کچھ افراد کو امریکہ سے جانا ہو گا اور کچھ ویزا نہ ملنے کے ڈر سے ذہنی خلجان میں مبتلا ہو جائیں گے۔ ذہین افراد کا اس طرح چلے جانا سلیکون ویلی کی کمپنیوں کے جسم سے خون رسنے کے مترادف ہے۔ اس کے بعد ہمیں شنگھائی اور نیو دلی جیسے حقیقی مد مقابل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تحریر: ویوک ودھوا (Vivek Wadhwa)

Authors

*

Top