Global Editions

سلیکون ویلی کا اپنے غیرملکی ملازمین کے ویزا حقوق کیلئے جدوجہد

واشنگٹن میں ٹیکنالوجی انڈسٹری کاایک اہم ترین مقصد اپنی کمپنی میں کام کرنے والوں غیر ملکی ملازمین کو روکنے کیلئے قانون سازی کرانا بھی ہے۔ ٹیکنالوجی انڈسٹری بشمول مائیکروسوفٹ(Microsoft)، ڈراپ باکس(Dropbox)، ایف ڈبلیو ڈی (FWD)، فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ نے مل کر اپریل میں ایک لابی بنائی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کاروباری حضرات کیلئے سٹارٹ اپ ویزا جاری کرایا جائے۔ وہ اس کیلئے سلیکون ویلی میں مورفیئس میڈیکل (Morphius Medial)کی مثال دیتے ہیں۔ مارفیئس میڈیکل کو امید ہے کہ ان کے سوفٹ وئیر کے ذریعے ایم آئی آر (MIR) کے دوران دل بند ہونے کے اسباب کا پتہ چلایا جا سکتاہے۔ لیکن ویزا کی مشکلات کے باعث گزشتہ دسمبر میں اس کی کوششیں رک گئیں۔ کمپنی کے چیف انوویشن افسر فیبئین بیکرز (Fabien Backers)کہتے ہیں کہ میرے لئے یہاں کمپنی کا کام جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا مجھے واپس فرانس جانا پڑے گا۔ اس نے حال ہی میں شریک بانیوں سے 20لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرائی ہے۔ نئے سرمایہ کاروں نے شرط عائد کی ہے کہ فنڈز حاصل کرنے سے پہلے بیکر کو لازماً نیا ویزا حاصل کرنا ہو گا۔

بیکر کو جینئس ویزا (Genius Vesa) تو مل گیا لیکن ہر کوئی اس کی طرح خوش قسمت نہیں ہوتا۔ یہ او -ون (O-1)ویزا کی قسم ہے جو صرف غیر معمولی کارکردگی والے فلم سٹارز، کھلاڑیوں وغیرہ کو ملتاہے۔ بیکر کو اپنے ویزا کیلئے اخبارات، اشتہارات اور میڈیا کے ذریعے تارکین وطن کیلئے امریکہ میں قواعد و ضوابط کیخلاف مہم چلانی پڑی تھی۔ بیکر ہی کی طرح دیگر کمپنیاں بھی کاروباری حضرات کیلئےویزےمیں آسانی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سائنس گریجویٹس کیلئے ویزے کا حصول آسان بنایا جائے۔ زیادہ متنازعہ ایچ -ون ویزہ ہے جو ہر سال کسی شعبے میں تخصیص رکھنے والے 65ہزار سے ایک لاکھ 10ہزار کارکنوں کو دیا جاتا ہے فیس بک کے بانی اور سی ای او زکربرگ (Zuckerberg)نے واشنگٹن پوسٹمیں ایک مضمون لکھاہے کہ ذہین لوگوں کا ویزا مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ان لوگوں کو تیل یا دیگر قدرتی ذرائع کے متبادل کے طور پر سمجھا جا سکتاہے جس نے ماضی میں صنعتوں کو عروج بخشا تھا۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں برکلے سکول آف انفارمیشن (Berkley School of Information)کے ڈین آنا لی سیکسینئین(Anna Lee Saxenian)کا کہنا ہے کہ 1970ء سے سلیکون ویلی نے غیر ملکی ذہین افراد ہی کی مدد سے ترقی پائی ہے۔ سلیکون ویلی میں قریباً آدھے سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کارکن غیر ملکی ہیں جبکہ امریکی بیورو آف لیبر کے اعدادوشمار کے مطابق پورے امریکہ میں ایک چوتھائی غیر ملکی کارکن ہیں۔

اس سال ایچ ون بی قسم کے 65000ویزوں کا جائزہ لیا گیا لیکن کسی کا بھی یہ خیال نہیں ہے کہ ایچ ون بی ویزے کوئی بہتر حل ہے کیونکہ عارضی ویزا والے ٹیکنالوجی ورکرز ،کم تنخواہیں دئیے جانے پر مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ایچ ون بی ویزے بیرون ممالک میں کارکن فراہم کرنے والی بھارتی کمپنیوں کو دیئے جاتے ہیں جو امریکی تجارتی کمپنیوں کو کارکن فراہم کرتی ہیں۔

تحریر: جیسیکا لیبر Jessica Leber

Authors
Top