Global Editions

سفری مسائل کا آسان حل

ہمارے ہاں ترقی پذیر ممالک میں صرف ٹریفک کا بے پناہ اژدھام ہی مسئلہ نہیں جس کو حل کرنے کیلئے سڑکوں کا جال بھی ناکافی محسوس ہوتاہے بلکہ بیشمار ایسے لوگ ہیں جو اندرون شہر یا پھر ایک سے دوسرے شہر جانے کیلئے سواری کے تھکا دینے والے انتظار سے گزرتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ لفٹ لے کر اپنے دفاتر یا گھروں میں پہنچتے ہیں۔امریکہ میں اس مسئلے کا بہت آسان حل تلاش کر لیا گیا ہے۔ وہاں لفٹ کے تصور کو کمرشل بنیادوں پر آگے بڑھایا گیا ہے۔ امریکہ میں دو کمپنیاں اُبرUber اور لفٹLyft اس آسان حل سے اربوں ڈالر کما رہی ہیں۔ کیا آپ جانناچاہتے ہیں کہ یہ دونوں کمپنیاں کیسے دونوں ہاتھوں سے اربوں ڈالر سمیٹ رہی ہیں جبکہ انہیں قائم ہوئے ابھی چند ہی سال ہوئے ہیں۔

اُبر اور لفٹ کے پاس لاکھوں کار مالکان کے رابطہ نمبر ہیں جو جزوقتی ڈرائیور بننے کو تیار رہتے ہیں۔ دونوں کمپنیاں سمارٹ فون کی جیولوکیشن ایپلی کیشن استعمال کرتی ہیں۔ مسافر جب ان کمپنیوں سے رابطہ کرتاہے توا اس کے قریب ترین موجود کار کا مالک جیولوکیشن ایپلی کیشن سے معلوم کرلیتا ہے کہ مسافر کہاں ہے وہ کمپنی کو اپنی دستیابی سے آگاہ کرتاہے اور مسافر کو بٹھا کر اس کی منزل کی طرف چل پڑتا ہے۔ ضروری نہیں کہ وہ ایک مسافر ہو راستے میں موجود دو تین یا چار مسافر بھی اسی رابطہ نظام کے تحت اس کی گاڑی میں بیٹھ سکتے ہیں۔

Search-for-a-New-Mode-of-Transport-3

مضمون نگار ریان براڈلے Ryan Bradley نے بتایا کہ وہ اسی طرح کی ایک کار کے مالک الیگزینڈر کے ساتھ سفر کررہے تھے۔ اس کے ساتھدو اور اجنبی مسافر بھی تھے۔ وہ ہالی ووڈ سے گزرتے ہوئے مشرق کی طرفسفر کررہے تھے ا ور ہم چاروں میں سے کوئی بھی 5 منٹ پہلے ایک دوسرے سے واقف بھی نہیں تھا اور جب الیگزینڈر ہمیں اپنی اپنی منزل پر پہنچا دے گا تو شائد ہم زندگی بھر کبھی ایک دوسرے سے مل نہپائیں۔ لفٹ کے سی ای او لوگن گرین (Logan Green) کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ٹرانسپورٹ اب شہروں کا مستقبل ہے وہ اُبر کا مقابلہ کرنے کیلئے کمپنی کی خدمات میں زیادہ بہتری لانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔اُبر کی مجموعی سرمایہ کاری ،لفٹ کی ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری سے 8 گنا زیادہ ہے۔ جبکہ اس کی سڑکوں پر دوڑتی بھاگتی کاروں کے ڈرائیورز کی تعد اد ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ لاکھوں لوگ اُبر اور لفٹ کی خدمات سے اپنا سمارٹ فون استعمال کرکے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عام ٹیکسی قوائد سے ہٹ کر یہ کمپنیاں ادائیگی کو خودکار بنائے ہوئے مختصر وقت میں ڈرایؤرز اور سواریوں کو تلاش کرتی ہیں۔

لفٹ اور اُبر دونوں کمپنیاں شہر میں سواری کی طلب سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس قابل ہیں کہ یہ طلب پوری کرسکیں۔ جب لفٹ کے سی ای او لوگن گرین (Logan Green) سے اس کاروبار کی کامیابی کے راز کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ہم دو باتوں پر توجہ دیتے ہیں، ایک وقت اور دوسرے پیسے کی بچت پر۔ سان فرانسسکو میں ان دو باتوں پر بہت توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہاں ان دو کمپنیوں کے ہیڈکوارٹرز ہیں۔ یہاں پر بہت سے لوگ عموماًٹیکسی، بسوں، ٹرینزحتیٰ کہ اپنی کاروں کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں اور لفٹ یا اُبر کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہیں بھی چلے جاتے ہیں۔ اُبرتو اب دنیا کے تمام شہروں میں بینکاک (Bankok)سے لے کر بگوٹا (Bogota)تک سان فرانسسکو کی طرح کی خدمات فراہم کرنے کا سوچ رہی ہے۔ جبکہ یہ فی الوقت دنیا کے 61 ممالک میں پہلے ہی خدمات فراہم کر رہی ہے۔

لفٹ کے سی ای او لوگن گرین (Logan Green) اب 31 سال کے ہیں ۔ وہ لاس اینجلس میں پلا بڑھا ، وہ اپنی تارک وطن ماں اور فزیشن باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ وہ نوعمری ہی میں ٹیکنالوجی ٹیچنگ اور بوڑھے افراد کے فوری مسائل کو حل کرنے کا چھوٹا کاروبار چلاتا رہا ہے۔ لوگن گرین نے کیلیفورنیا یونیورسٹی میں وہ نولان بشنیل(Nolan Bushnell) کی کمپنی اٹاری (Atari)اور چک ای۔ چیز(Chuck E. Cheese) میں بھی کام کرچکا ہے۔ لوگن گرین ان کی انجینئرنگ ٹیم میں شامل تھا۔ لوگن گرین کہتے ہیں کہ اس حقیقت کے باوجود کے بہت سے لوگوں نے ایک ہی مقام تک جانا ہوتاہے، پھر بھی زیادہ تر کاروں میں ایک ہی شخص سفر کررہا ہوتاہے۔

Search-for-a-New-Mode-of-Transport-2

کوئی کار لینے اور اسے چلانے کی سہولت باقی تمام فیصلوں کو پیچھے ہٹا دیتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بسوں اور سب وے سے سفر کبھی اچھا نہیں لگ سکتا۔ لیکن عوامی سفری نظام سے ہٹ کر بھی کوئی بہتر اور مختلف طریقہ ہونا چاہئے تھا۔ لوگن گرین کو یہ خیال زمبابوے میں چھٹیاں گزارنے کے دوران آیا۔ زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں، جہاں ٹریفک کا اژدھام ہوتاہے، اس نے عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام دریافت کیا جو سانتا باربر ا ( Santa Barbara ) نجی بڑی مسافر گاڑیوں کی طرح ہے۔ اس کے ڈرائیورز خود مختار ہوتے ہیں اور ٹرانسپورٹ کا روٹ خود طے کرتے ہیں۔ اگر زیادہ لوگ اس پر سفر کرنا چاہتے ہیں تو وہ ایک غیر رسمی سی چھوٹی بس یا ویگن کار کے ساتھ منسلک کردیتے ہیں۔ لوگن گرین کا کہنا ہے کہ یہ سڑکوں پر درپیش سفری مسائل کا بڑا موئثر اور بہترین حل ہے۔ یہ امریکہ میں لاس اینجلس سمیت دیگر شہروں کے ٹریفک کے مسائل کا بھی حل کرسکتاہے ۔ اس سے آپ کو اپنی کاروں کے ذریعے مہنگے سفر، پارکنگ کے مسائل اور ہر وقت ٹیکسیوں کے پیچھے بھاگتے رہنے کی فکر سے چھٹکارہ مل جاتاہے۔

جب لوگن گرین زمبابوے سے واپس امریکہ آیا تو اس نے ٹرانسپورٹیشن بورڈ سے استعفیٰ دے دیا اور زمبابوے میں دیکھے گئے ٹرانسپورٹ سسٹم کو امریکہ میں چلانے کیلئے ایک کمپنی کے قیام کیلئے کام کرنا شروع کردیا۔ اس نے ایسے کار مالکان سے رابطہ کیا جو جزوقتی ڈرائیور بننا چاہتے تھے اور انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے مسافر تلاش کرتے تھے۔ لوگن گرین نے اپنی نئی کمپنی کا نام زِم رائڈ(Zimride) رکھا۔ (یہاں زِم سے مراد زمبابوے ہے۔)لوگن گرین نے زِم رائیڈ کمپنی جان زمر(John Zimmer) کے ساتھ شراکت داری میں کھولی جو لیہمن برادرز(Lehman Brothers) میں کام کرتاتھا۔جان زمر نے جب زِم رائڈ میں اپنے آخری نام کی گونج سنی تو حیران رہ گیا لیکن پھر اس نے اسے نیک شگون کے طور پر لیا ۔ دونوں نے اپنا چھوٹا سا دفتر نیو یارک سے پالو آلٹو(Palo Alto) منتقل کردیا۔ اپنے ابتدائی دور میں زِم رائڈ بہت سادہ سی کمپنی تھی۔ ایک ڈرائیور جو پوائنٹ اے سے بی تک اپنے مقررہ وقت پر سفر کرنا چاہ رہا ہے وہ فیس بک پر سفر کے آغاز واختتام اور وقت بتا دیتا تھا۔ اگر کوئی مسافر اس کے روٹ پر سفر کرنا چاہتا تھا تو وہ اسے جواب دے دیتا تھا۔ یہ عموماً طویل فاصلے کاایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر ہوتاہے۔ ڈرائیور کامیاب سفر کیلئے آٹھ پیغامات وصول کرتا اور ان کا جواب دیتا تھا۔ لفٹ کو شہر سے شہر سفر کیلئے زِم رائڈ کے ایک اضافی منصوبے کے طور پر چلایاگیا۔ 2012 ء میں سمارٹ فون عام ہو چکے تھے جن کی مدد سے مسافروں اور ڈرائیوروں سے رابطہ کرنا آسان ہوگیا۔ اُبر نے اپنے کاروبار کا آغاز 2010 ء میں کیا تھا لیکن وہ صرف زیادہ فاصلے کیلئے لیموزین کاریں ہی فراہم کرتی تھی۔ اُبر نے بھی 2012 ء میں اُبر ایکس کے نام سے سروس شروع کی۔ اُبر اور لفٹ دونوں کمپنیوں کا کاروبار بڑی تیزی سے پھیلا۔لوگن گرین نے 2013 ء میں رینٹ اے کار کمپنی کو زِم رائڈ فروخت کردی اور لوگن گرین اور زمر نے مل کر لفٹ کو مرکزی کاروبار کے طور پر شروع کیا۔ لفٹ سے منسلک ڈرائیور اپنی گاڑی پر نرم مصنوعی مونچھیں لگاتے ہیں، مسافروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اگلی سیٹ پر بیٹھنے کیلئے گاڑی کو ایک ہلکی سی تھپکی دیں بصورت دیگر لفٹ ایک ٹیکسی سروس کی طرح کام کرتی ہے۔ لوگن گرین چاہتا ہے کہ ہر گاڑی مسافروں سے بھری ہوئی ہو۔لفٹ کے آغاز میں لوگن گرین کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تو شہر کے قوائد و ضوابط بنانے والوں کا مسئلہ تھا جو اس نئے کاروبار کو روکنا چاہتے تھے جو ٹیکسی کمپنیوں کی طرح کوئی باقاعدہ کاروبار نہیں تھا۔

Search-for-a-New-Mode-of-Transport-4

دوسری کمپنی اُبر ہے ، جس نے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اُبرنے دوسری چھوٹی کمپنیوں کو مارکیٹ سے باہر کردیا اور ڈرائیورز کو لفٹ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ لفٹ نے جواباً کسی منصوبہ بندی کے بغیر کاروبار کو بڑھانے کی کوششیں کیں۔اس وقت دونوں ہی کمپنیاں بڑی ہیں اور ان کے پاس مسافروں کی ایک بڑی تعداد ہے جو ان سے روزانہ رابطہ کرتی ہیں لیکن دونوں ہی کمپنیوں کو اپنا منافع بڑھانے کے راستے سوچنے چاہئیں۔اُبر لوگوں کو ان کی منزل پر پہنچانے سے بھی آگے بڑھ کر کام کرتی ہے مثلاً کوئی پارسل پہنچانا ہو یا کوئی آرڈر لینا ہو۔ لیکن گرین کو یہ پسند نہیں وہ اسے مسترد کرچکا ہے۔ اس نے 2014 ء میں لفٹ لائن آپشن متعارف کروائی جس میں اس نے مختلف راستہ اختیار کیا جس پر وہ کئی سالوں سے کام کررہا تھا۔ ڈرئیورز نہ صرف طے شدہ مسافروں کو اٹھاتے ہیں بلکہ وہ راہ چلتے لوگوں کو سوار کرا لیتے ہیں جو ان کے راستے میں ہوتے ہیں ۔گرین کہتا ہے کہ یہ اس کی تیسری قسم کی ٹرانسپورٹیشن کا آغاز ہے اگرچہ یہ کسی قدر پرانا تصور ہے ۔

یو سی ایل انسٹیٹیوٹ میں ٹرانسپورٹ سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر جوآن میٹیوٹنے بتایا کہ یہ ایک امریکہ میں جٹنیJitney (مسافر ویگن) کی طرح ہے ۔ اس میں نئی چیز سمارٹ فون ہے جس میں مسافروں کو تلاش کیا جاتاہے۔ یہ صدی پر حاوی ایک تصور ہے۔ جٹنی مسافر گاڑی کی سروس مارکیٹ میں خودرو پودے کی طرح اُگ آئی ہے۔ یہ مقبول عام راستوں پر چلتی ہیں عموماً یہ سڑکوں پر دوڑتی بھاگتی نظر آتی ہیں لیکن اگر آپ ڈرائیور کو ٹپ دیں تو وہ عام رستے سے ہٹ کر آپ کو گھر تک چھوڑ جاتاہے۔ اُبر اور لفٹ کی طرح یہ سواری بھی حیرت انگیز طور پر مقبول ہے۔ 2015 ء میں پورے ملک میں جٹنی کی تعداد 62 ہزار ہے اور اس میں سٹریٹ کاروں سے بھی زیادہ مسافر سوار ہوتے ہیں۔ سٹریٹ کار کمپنیوں نے جٹنی کے رحجان کو کم کرنے کیلئے کامیابی سے ریاستوں اور وفاقی حکومت کی حمایت حاصل کی۔

Uber-vs-Lyft

لفٹ کی ٹیم وکیل ڈیوڈ اسٹراڈا (David Estrada)حکومتی قواعد و ضوابط سے خبردار رہنے کیلئے سرکاری سطح پر بھی اپنے تعلقات استوار کررکھے ہیں۔ وہ اپنی ٹیم کے ساتھ شہروں کی انتظامیہ کو بتاتاہے کہ ان کی کمپنی شہری ٹرانسپورٹیشن اور بڑھتی آبادی کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا مقابلہ ایک نئی ٹیکسی سروس سے نہ کیا جائے اور یہ اسی طرح محفوظ ہے جیسے کوئی ٹیکسی یا پرائیویٹ نجی کار ہوتی ہے۔ وہ ایک خوشگوار منظر ان کے سامنے رکھتا ہے کہ لفٹ کی کاروں کے ڈیش بورڈ میں تبدیلی کرکے ایک بٹن کا اضافہ کیا گیا ہے جسے دبانے سے کار لفٹ میں بدل جاتی ہے۔ جس سے ان بے شمار مسافروں کو ایک سہولت میسر آتی ہے جن کیلئے سڑکوں پر بہت کم سواریاں موجودہیں۔ یہ بہت سادہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کتنی کامیابی حاصل کررہے ہیں۔لیکن ہم یہ کام نہیں کرسکتے اگر ان کے ڈرائیور کو ایک ٹیکسی ڈرائیور سمجھا جائے۔ لوگ گھر سے مطلوبہ مقام اور پھر دفتر یا کسی اور جگہ سے گھر تک کے سفر میں دوسرے لوگوں کے ساتھ لفٹ میں شریک سفر بناتے ہیں۔

اس رحجان کو دیکھتے ہوئے لفٹ نے 2014 ء میں کام پر جانے کیلئے لفٹ سروس کا آغاز کیا۔ جس میں فیکٹریاں یا دفاتر ان کے ملازمین کو لانے لے جانے کیلئے لفٹ کو ادائیگی کرتے ہیں۔ گھر کرائے پر دینے والی کمپنی ائیر بی این بی ( Airbnb )نے اپنے ملازمین کو لانے لے جانے کیلئے لفٹ کی خدمات کو آزمایا۔ لفٹ میونسپلٹیز، سکول اور کالجز کے ساتھ بھی معاہدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لفٹ کو مسافروں کی سہولت کیلئے اس قسم کا کردار ادا کرتے رہنا چاہئے ۔ اسے ایسے راستے تلاش کرنے چاہئیں جس میں اس کے ڈرائیورز سڑکوں پر گاڑیاں دوڑاتے ہوئے نظر آئیں اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس کی گاڑیوں میں سوار ہوں۔

Search-for-a-New-Mode-of-Transport-1

لفٹ نے اپنے پروگرام میں اضافہ کیا جس کے تحت وہ اپنے کاروبار میں نئے ڈرائیورز کو شامل کررہی ہے جو سڑکوں پر تیز سفر کریں۔ گرین نے اپنے انجینئرز کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس کا موضوع یہ تھا کہ مسافروں کو غیرضروری انتظار کے وقت ناگوار احساس سے بچنے کی کیسے تربیت دی جائے کیونکہ لوگ مختلف مقام پر جانے کیلئے ایک ہی گاڑی میں سفر کررہے ہوتے ہیں۔ لفٹ ایک اور تصور پر کام کر رہی ہے کہ لوگوں کو چند منٹ پیدل فاصلے پر ایک مخصوص مقام پر پہنچنے کیلئے کہے جہاں سے اس کا ڈرئیور انہیں اپنی گاڑی میں سوار کرالے گا۔ سمارٹ فون اس خیالی بس سٹاپ کو ممکن بنا سکتاہے۔ مضمون نگارکا کہناہے کہ میں نے کئی بار جب لفٹ کیلئے کال کی تو ڈرائیور نے مجھ سے درخواست کی کہ ایک دو بلاک آگے آجاؤں تاکہ وہ زیادہ آسانی سے اٹھا لے اس سے وقت کی بچت ہوجائے گی۔ بصورت دیگر مجھے 10 منٹ مزید انتظار کرنا پڑے گا تاکہ میں کرائے میں سے ایک تہائی رقم بچا سکوں۔ گرین کہتے ہیں کہ سفری مسائل کو نبٹنے کیلئے انسان کو کچھ وقت لگے گا۔ اس کے خیال میں خودمختار گاڑیاں ناگزیر ہیں۔

تحریر:ریان براڈلے(Ryan Bradley) ( ریان براڈلے لاس اینجلس میں پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں۔ ان کی تحریریں فورچون(Fortune) ، پاپولر سائنس(Popular Science) اور نیویارک ٹائمز میگزین(New York Times Magazine) میں چھپ چکی ہیں)

عکاسی: GOLDEN COSMOS

Read in English

Authors
Top