Global Editions

سائبرسکیورٹی کمپنیوں میں سرمایہ کاروں کی بھاری انوسٹمنٹ

موجودہ دور میں سائبر سیکورٹی ایک اہم اور ناگزیر مسئلہ بن چکا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بڑی بڑی کمپنیاں اور تنظیمیں اپنا ڈیٹا محفوظ کرنے کیلئے نہایت فکرمند ہیں۔ اسی لئے ان کمپنیوں اور تنظیموں کے سربراہ اپنے ڈیٹا کے تحفظ کیلئے روائتی طریقوں پر انحصار کرنے کی بجائے سائبر سیکورٹی فراہم کرنے والی کمپنیوںکے پاس بلینک چیک لے کر حاضر رہتے ہیں اس طرح یہ ایک نئی قسم کی سرمایہ کاری وجود میں آرہی ہے۔ اب سرمایہکار سائبر سیکورٹی کی کمپنیوں پر سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ چند سالوں میں اخبارات میں سائبر حملوں کے حوالے سے شائع ہونے والی شہ سرخیوں نے سرمایہ کاروں کو اس بات کا یقین دلا دیا ہے کہہیکنگ کا محض روائتی طریقوں سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔اس لئے وینچر سرمایہکار بھی سائبر سیکورٹی کی نئی کمپنیوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وینچر سرمائے سے چلنے والی سائبر سیکورٹی کی کمپنی اینڈریسن ہورووٹز (Andreessen Horowitz)کے پارٹنر اور سائبر سیکورٹی کے ماہر سکاٹ ویس(Scott Weiss)کہتے ہیں کہ اب صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ کمپنیوں کے سربراہ اپنے ڈیٹا کے تحفظ کیلئے ہاتھوں میں بلینک چیک لے کر کھڑے ہوئے ہیںلہذا اب آپ سائبر سیکورٹی کے نام پر جو چاہے حاصل کرسکتے ہیں۔ ز,؛

سائبر سیکورٹی کے حوالے سے موجودہ خطرات بہت نازک اور پیچیدہ ہیں جن کا روائتی ٹولز مثلاً اینٹی وائرس (Antivirus)اور فائر والز (Firewalls)سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اب کمپنیوں کے ایگزیکٹوز متروک مصنوعات کی بجائے سائبر سیکورٹی کی نئی کمپنیوں سے معاہدے کررہے ہیں۔یہ دیگر سائبر سیکورٹی فراہم کرنے والی کمپنیوں کیلئے یہ ایک نئی قسم کی سرمایہ کاری ہے۔ سائبر سیکورٹی کی کمپنیوں کے بارے میں معلومات دینے والی کمپنی سی بی انسائیٹ (CB Insight)کے مطابق 2014ء میں سائبر سیکورٹی فراہم کرنے والی نئ کمپنیوں پر 2.5ارب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ 2015ء میں یہ سرمایہ کاری بڑھ کر 3.3ارب ڈالر ہو گئی۔ ان کمپنیوں کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ انتہائی پیچیدہ ہےکیونکہسائبر حملے کرنے والوں کے پاس بہتر ہتھیار اور ٹیکنالوجی ہے جبکہ ان لوگوں کے اپنائے ہوئے راستوں سے کاروباری ادارے خطرات سے دوچار ہیں۔ کاروباری لوگ زیادہ سے زیادہ کلائوڈ سروس پر اعتبار کررہے ہیں اور انٹرنیٹ سے مزید آلات منسلک کئے جارہے ہیں۔

چند سال پہلے تک روائتی طریقہ یہ تھا کہ اہم ڈیٹا کے گرد فائر وال بنادی جاتی تھی اور جانے پہچانے نقصان دہ کوڈ تلاش کرنے کیلئے سوفٹ وئیرز استعمال کئے جاتے تھے۔ تب سیکورٹی تحقیق کاروں نے نہایت پیچیدہ مالاوئیر(Malaware)تلاش کیا جو اتنا حساس تھا کہ عام اور روائتی سیکورٹی ٹولز سے بھی گرفت میں نہیں آتا تھا۔ اس قسم کا مالاوئیر بڑی آسانی سے کوئی بھی شخص کنٹرول کرکے کسی بھی خاص نیٹ ورک میں بھیج سکتا تھا۔ دوسال قبل برطانیہ میں قائم ہونے والی کمپنی ڈارک ٹریس(Dark trace)کی سی ای او نکول ایگان (Nicole Eagan)کہتی ہیں کہ نیٹ ورک کے سائبر دفاع کیلئے ، حساس اور پیچیدہ خطرات سے مسلسل خبردار رہنا ضروری ہے اور یہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیںکہ سائبر سیکورٹی کے روائتی نظام کو ہی بدل دیا جائے ۔ بہت ہیکرز نیٹ ورک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں تو انہیں روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں تلاش کیا جائے کیونکہ وہ خاموشی سے اچانک آپ کے نیٹ ورک پر نمودار ہوتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں مختلف طریقےسے اپنا اپنا کر دعویٰ کررہی ہیں کہ وہ مالاوئیرز تلاش کرنے والی بہتر ٹیکنالوجی استعمال کرسکتی ہیں۔ کمپنی ڈارک ٹریس نے وینچر کیپیٹل فنڈنگ کیلئے 50ملین ڈالر اکٹھے کئے ہیں اور نیٹ ورک کی ٹریفک کا جائزہ لینے کیلئے جدید مشین لرننگ ٹیکنالوجی پر انحصار کررہی ہے۔ جیسا کہ نکول ایگان (Nicole Eagan) کہتی ہیں کہ نیٹ ورک کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار رہیں تاکہ فوراً غیر معمولی سرگرمی کا اندازہ ہو جائے۔ نیٹ ورکس کیلئے خطرات نہ صرف بڑھتے جارہے ہیں بلکہ اور زیادہ پیچیدہ اور حساس ہورہے ہیں ۔

حالیہ وینچر کیپیٹل سرمایہ کاری کے بعد کمپنی تانیئم (Tanium)کی قدر اس وقت 3.5بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے ۔ تانئیم کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسا سیکورٹی نظام موجود ہےکہ اگر ان کی کمپنی سے کوئی پوچھے کہ ان کے نیٹ ورک پر موجود لاکھوں میں سے ایک ڈیوائس پر کیا ہور رہا ہےتو 15سیکنڈز کے اندر اُن کی کمپنی انہیں متعلقہ ڈیوائس سے متعلق تحقیق کرکے نہ صرف جواب دے سکتی ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر وائرس یا سائبر حملے سے بچائو کے اقدامات بھی اٹھا سکتی ہے۔ سائبرسیکورٹی پر سرمایہ کاری کرنے والوں کے سامنے یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف کاروباری ادارے اور تنظیمیں اپنا زیادہ سے زیادہ ڈیٹا کلائوڈ پر ڈال رہے ہیں۔ اس کے جواب میں کچھ ایسی کمپنیاں بھی وجود میں آئی ہیں جو کلائوڈ ڈیٹا کی مسلسل نگرانی کی پیش کش کرتی ہیں جس کے تحت وہ بتاتی ہیں کہ کمپنی کے کلائوڈ سرور پر کون سا ڈیٹا آ اور جا رہا ہے۔

سائبر سیکورٹی کے حوالے سے اتنا زیادہ سرمایہ میسر ہونے کے باوجود یہکمپنیاں بکھری ہوئی ہیں۔ گریگ ڈریکن نے بہت سی سائبر سیکورٹی کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ گریگ ڈریکن کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کا اشتراک شروع ہو چکا ہے۔ بڑی کمپنیاں انفرادی سطح پر تیار کی گئی سائبر سیکورٹی کی ٹیکنالوجیز اور مصنوعات خرید کر اپنے نام سے بیچ رہی ہیں۔ ڈریکن کہتے ہیں کہ سرمایہ کاروں کی اتنی توجہ کے باعث سائبر سیکورٹی کی مصنوعات اور ٹیکنالوجی کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔

تحریر: مائیک آرکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top