Global Editions

سائنسدانوں کا بیکٹیریاسے توانائی لے کر انجن چلا نے کا تجربہ کامیاب

کیا آپ یقین کریں گے کہ سائنسدان بیکٹیریاکی افزائش نسل سے توانائی حاصل کرکے بہت چھوٹے انجن چلا رہے ہیں۔ جی ہاں بخارات یا پانی میں ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو نمی ملنے پر اپنی افزئش نسل از خود کرتے ہیں اور نہ ملنے پر ان کی افزائش رک جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ صدیوں زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ بیکٹیریا افزائش کرتے ہیں تو ان سے توانائی پیدا ہوتی ہے اور نمی کے بغیر سکڑنے کے عمل سے گزرتے وقت بھی توانائی خارج کرتے ہیں۔ سائنسدانوں نے ایسے آلات متعارف کروا دیئے ہیں جو بخارات میں موجود بیکٹیریا افزائش نسل اور ترک نسل کے وقت خارج کی جانے والی توانائی سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔تصویر میں دکھایا گیا یہ ننھا سا روٹری یا پسٹن انجن کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بنایا ہے جو بخارات میں رہنے والے انسان دوست بیکٹیریا بیسیلس سبٹلس (Bacillus Subtilis)سے حاصل کردہ بجلی سے چلتا ہے۔

بخارات میں موجود بیکٹیریا کی خاصیت یہ ہے کہ یہ پانی میں پھیلتے اور خشکی میں سکڑ تے وقت جو توانائی خارج کرتے ہیں۔ اس توانائی کو ٹیکنالوجی کی مدد سے حاصل کرکے ننھے روٹری یا پسٹن انجن چلائے جا سکتےہیں۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیجر کمیونیکیشن (Nature Communication )میں شائع ہوئی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی میں بائیولوجیکل سائنسز کے پروفیسر اوزگر ساہن(Ozgur Sahin)کہتے ہیں کہ میں حیران ہوں یہ بیکٹیریا کتنی توانائی پیدا کرتے ہیں۔ وہ اپنے کام میں بہت پابند ہیں جب مادہ شکل تبدیل کرتا ہے تو یہ توانائی پیدا کرتے ہیں۔

پروفیسر اوزگرساہن نے بیکٹیریا سے بھری ہوئی گوند کو پولی ایمائیڈ (polyimide)پر لگادیا۔ پولی ایمائیڈ رتوانائی سیل، کمپیوٹر ڈسپلے اور بہت سی فوجی ضروریات کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ جس کے اردگرد شٹر کا مکینزم موجود ہوتا ہے جس سے نمی کے راستے کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ شٹر ایک مکینکل خودکار سوئچ سے کھلتا اور بندہوتا ہے جب شٹر میں بخارات داخل کئے جاتے ہیں تو گوند میں موجود بیکٹیریا اپنی افزائش کرتے یا جس سے گوند پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔ جب شٹر کھلتا ہے تو یہ بخارات اڑ جاتے ہیں اور بیکٹیریا نمی نہ ملنے کی وجہ سے افزائش نہیں کرتے یا گوند خشک ہو کر سکڑ جاتی ہے۔

دو مائیکرو واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے صرف 8/8سنٹی میٹر پانی کی ضرورت پڑتی ہے یہ واٹ کا دس لاکھواں حصہ ہوتے ہیں۔ اس سے 60مائیکرو واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ کوئی بہت زیادہ بجلی نہیں لگتی لیکن ایک ایل ای ڈی بلب اور بچوں کی چھوٹی کھلونا کار چلائی جاسکتی ہے۔ ہمیں اس آلہ کو بنانے کیلئے بہت سی چیزوں کو چھوڑنا پڑا لیکن امید ہے کہ ہم کچھ مسائل پر قابو پا کر اس سے سو گنا زیادہ طاقتور آلہ بنا لیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا مواد بنایا جائے جس میں نمی جذب کرنے کی زیادہ صلاحیت ہو اور شٹرز کی کارکردگی بہت بنائی جائے۔ پروفیسر اوزگرساہن کو اس بات کا یقین ہے کہ کسی ندی یا پانی کے دیگر ذخائر کی سطح پر قطار میں لگے ہوئے ایسے بے شمار آلات اچھی خاصی قابل تجدید توانائی پیدا کرسکتے ہیں لیکن ایسا کرنے میں ابھی سالہا سال لگیں گے۔ ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ بیٹری کے حجم کے برابر اینٹیں بنائی جائیں جن میں بیکٹریا سے بھرا مواد ہو۔ آپ کو بجلی پیدا کرنے کیلئے ان میں صرف پانی شامل کرنا ہے۔ننھے انجنوں کا مستقبل قریب میں کوئی استعمال نظر نہیں آتا لیکن ان کا قدرتی توانائی کے ضمن میں مظاہرہ ضرور کیا جاسکتا ہے۔ تھیوری کے لحاظ سے یہ شمسی اور ہوا کی توانائی سے بہتر ہے۔

تحریر:رچرڈ مارٹن (Richard Martin )

Read in English

Authors
Top