Global Editions

سائنسدانوں کا اپنے ہی دماغ پر تجربہ، خود کو چھری تلے رکھنے کے مترادف ہے

فِل کنیڈی Phil Kennedy کو دماغ کے بارے میں تحقیقات کرنے اور معلومات لینے کی کوئی اور بات نہیں سوجھ رہی تھی تب انہوںنے وہ راستہ اختیار کیا جو سائنسدان کبھی کبھار بے بسی کے عالم میں کرتے ہیں۔ انہوںنے رضاکارانہ طور پر خود کو تجربے کیلئے پیش کردیااور آپریشن ٹیبل پر لیٹ گئے تب ایک نیورو سرجن نے ان کی کھوپڑی کی ہڈی کاٹ دی۔

اب قارئین کو یہ تجسس ہو رہا ہو گاکہ ان کے دماغ کی ہڈی کٹنے کے بعد آخر کیا ہوا؟ کہانی کچھ یوں ہے کہ 67سالہ بوڑھے نیورو سرجن اور موجد فِل کنیڈی نے دماغ پر تحقیق کیلئے اپنے اوپر ہی غیر معمولی تجربہ کرڈالا۔ انہوںنے ایک نیورو سرجن کو اپنے دماغ کے اس حصے میں الیکٹروڈز لگانے کیلئے 25ہزار ڈالر ادا کئے جہاں سے ہدایاتی اشارے ملتے ہیں تاکہ فِل کے دماغ اور اس کے کمپیوٹر میں رابطہ ہو سکے۔ 1980ء میں کنیڈی نے موجدوں کے چھوٹے سے گروہ کے ساتھ دماغی حالت جاننے کیلئے کمپیوٹر کا انٹر فیس بنایا۔ جس کے تحت دماغ سے باریک تاریں نکل کر کمپیوٹر کے ساتھ منسلک کی جاتی تھیں۔ ایک امریکی میگزین نے تو اسے سائیبورگ (Cyborgs)(وہ شخص جس کے جسم کے ساتھ برقی آلات لگے ہوں)کا باپ کے نام دیدیا۔ کنیڈی کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسا سوفٹ وئیر کم ڈیکوڈر بنایا جائے جو دماغ سے نکلنے والے اشاروں کو ترجمہ کرکے لفظوں میں بدل دے۔ لیکن اس کی جارجیا میں چھوٹی سی کمپنی نیورل سگنلز(Nueral Signals)نے عارضی طور پر یہ کام روک دیا۔ ان کے پاس فنڈز کم ہونے اور سرکاری سپورٹ نہ ہونے کے سبب کوئی تحقیقی کام کرنے کو نہیں تھا۔ کینیڈی کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود سے کہا کہ اگر میں نےکچھ نہ کیا تو میرا 29سال کی تحقیقی کام پرکی جانے والی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔ میں اپنی محنت کو شراب میں ڈبونا نہیں چاہتاتھا اسی لئے میں نے خود پر تجربہ کرکے خطرہ مول لیا۔

اس سال کنیڈی نے شکاگو میں سوسائٹی آف نیوروسائنس میں اپنے ہی دماغ پر کی گئی تحقیق پر مقالہ پیش کیا۔ جہاں پر اس کے خود پر کئے گئے تجربے کا سن کر ساتھیوں میں خوف اور تشویش پیدا کردی۔ کیونکہ ایک صحت مند شخص کی سرجری سے ان کے ڈاکٹر کے حلف کی خلاف ورزی ہوئی تھی۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان فرانسسکو کے نیورو سرجن ایڈی چانگ (Eddie Chang)کہتے ہیں کہ مجھے خوشی ہے کہ فِل کنیڈی اب صحت مند ہیں اور اب وہ یقیناً نہایت قیمتی معلومات دیں گے۔

ایف ڈی اے کی مشکل
آئرلینڈ میں پیدا ہونے والے کنیڈی بتاتے ہیں کہ انہوں نے خود پر تجربہ بڑی پریشانی کی حالت میں کیا۔ وہ اپنی نوجوانی میں بطور فزیشن دماغ پر تحقیق سے بہت متاثر تھے اس لئے انہوں نے سکول آف نیوروسائنس میں پی ایچ ڈی کی۔ 1980ء میں جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی لیبارٹری کو چلاتے ہوئے انہوں نے دماغی اشارے وصول کرنے کیلئے نئے اختراعی الیکٹروڈ بنائے جس کے ساتھ سونے کی تاریں جڑی ہوئی تھیں۔ جانوروں پر تجربات کرنے کے بعد 1996ء میں ایف ڈی اے نے کنیڈی کو فالج زدہ ایسے مریضوں کو الیکٹروڈ لگانے کی اجازت دی جو بول نہیں سکتے تھے اور نہ ہی حرکت کر سکتے تھے۔ اس کی پہلی رضاکار مریضہ دو بچوں کی ماں مارجری(Marjory)تھی جس نے اپنی عمر کے آخری حصے میں سارے عمل سے گزرنے سے اتفاق کیا۔وہ دماغی خلیوں کو متاثر کرنے والی بیماری اے ایل ایس (ALS)کی مریضہ تھی (یہ بیماری دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثرات مرتب کرتی ہے)۔ لیکن مارجری بہت بیمار تھیں اور صرف 76دن مزید زندہ رہ سکیں۔ کنیڈی کو دوسرے مریض 1998ء میں جانی رے (Johny Ray)ملے ۔ وہ ویتنامی تھے اور وہ کومے سے تو نکل آئے لیکن سوائے اپنی پلکوں کو ہلانے کے اور کوئی جسمانی حرکت نہیں کر سکتے تھے۔

2004ء میں کنیڈی نے 16سالہ رضاکار ایرک ریمزے کے دماغ میں الیکٹروڈز لگائے جس کا کار حادثے میں دماغ متاثر ہوا تھا۔ کنیڈی اور ان کے ساتھیوں نے 2009ء اور 2011ء میں نیوروسائنس کے معروف جرائد پی ایل او ایس ون (PLOS One)اور فرنٹیئرز(Frontiers)میں اپنے تحقیقی مقالے شائع کرنے شروع کردئیے۔ ایک تحقیقی مقالے میں بتایا گیا کہ کس طرح سوفٹ وئیر نے رضاکار مریض ریمزے کے تصور کی آواز کو پکڑا اور بڑے بے ڈھنگے انداز کے لہجے کو سادہ الفاظ میں پیش کردیا۔ بعد میں ریمزے بہت زیادہ بیمار ہو گیا اور تجربے میں حصہ لینے کے قابل نہیں رہا۔

6_20160209B00vbI

اس کے بعد ایف ڈی اے نے حفاظتی اقدامات کے خیال سے کسی اور مریض پر تجربہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کنیڈی نے ایف ڈی اے کا فیصلہ قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کم از کم ایک اور مریض پرتجربہ کیا۔ دراصل مکمل فالج زدہ مریضوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سوائے اپنی پلکیں ہلانے کے اپنی بات بیان نہیں کرسکتے۔ جب وہ کوئی دماغی اشارہ دیتے ہیں تو کنیڈی کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھاکہ مریض کیا سوچ رہا ہے۔

کنیڈی اس بات کے قائل ہو گئے کہ اپنی تحقیق کو اگلے درجے پر لے جانے کیلئے انہیں ایک ایسے مریض کی ضرورت ہے جو بول بھی سکے۔ ایک سال تک وہ اے ایل ایس کے مرض میں مبتلا ایسے رضاکار شخص کی تلاش میں رہے جو کسی حد تک بول بھی سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایسا کوئی مریض نہیں ملا لہٰذا بہت سوچ بچار کے بعد میں نے خود پر یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے جون 2014ء میں جارجیا سے ہزار میل کے فاصلے پر ایف ڈی اے کی پہنچ سے دور 13بستروں پر مشتمل چھوٹے سے بیلائز سٹی ہسپتال (Belize City Hospital)میں اپنے دماغ پر سرجری کرائی۔ اس تجربے سے پہلے کنیڈی نے تمام ضروری کام کرلئے۔ انہوں نے دماغ میں مخصوص جگہ پر نصب کرنے کیلئے الیکٹروڈ بنائے۔ انہوں نے سرجری غلط ہونے کی صورت میں اپنی دیکھ بھال کیلئے خاصی رقم بھی جمع کرلی۔ صرف ان کے بڑے بیٹے کو معلوم تھا کہ وہ کہاں پر ہیں۔
تجربے کیلئے رواں دواں

بیلائز ہسپتال میں بھی اس تجربہ سے گزرنا آسان نہ تھا اس تجربے سے گزرتے ہوئے موت بھی واقع ہو سکتی تھی۔ کنیڈی کہتے ہیں کہ سرجری کے دوران وہ اپنے ڈاکٹر کو سوالوں کے جواب نہیں دے سکے ۔ کنیڈی کے ڈاکٹرز نے بعد میں بتایا کہ 12گھنٹے کی سرجری کے دوران ان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا جس سے جسم عارضی طور پر ساکت ہو گیا تھا۔ کنیڈی کہتے ہیں کہ میں ذرا بھی خوفزدہ نہیں تھا ۔ میں نے سرجری کروائی تھی اور میں جانتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اس کے اثرات بڑے خطرناک تھے لیکن کنیڈی نے جلد ہی اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ جس کے بعد سرجنز نے ان کے دماغ میں الیکٹروڈز نصب کئے جس سے کنیڈی نے اپنے دماغ کے اشارے وصول کرنے شروع کردئیے۔

کچھ تحقیق کاروں کی رائے میں کنیڈی کا خود پر تجربہ کرنے کا فیصلہ غیر اخلاقی اور غیر دانشمندی پر مبنی تھا۔ اگرچہ کچھ کیسز ایسے ہیں جس میں سائنسدانوں کو خود پر تجربات کرنے کے نتائج بھی حاصل ہوئے مثلاً اسٹریلیا کے ایک سائنسدان بیری مارشل (Barry Marshal ) نے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ بیکٹیریا پیٹ میں السر پیدا کرتا ہے بیکٹیریا سے بھرا بیکر پی لیا تھا۔ انہیں بعد میں نوبل پرائز بھی ملا۔ نیویارک میں ورڈز ورتھ تحقیقی مرکز میں دماغ پر کمپیوٹر کا انٹرفیس بنانے والے تحقیق کار جوناتھن والپو (Jonathan Walpoh)کہتے ہیں کہ سائنسدانوں کے خود پر تجربات کرنے کے بڑی قدیم روایت ہے کبھی اس کے نتائج اچھے نکلے تو کبھی برے۔

واپس لوٹنے کے بعد کنیڈی نے اپنی سپیچ لیبارٹری میں اکیلے رہ کر دماغی اشاروں کے نتائج مرتب کرنا شروع کردئیے۔ انہوں نے 29حروف مثلاً ای (e)، ایہہ (eh)، اے (a)، او(o)، یو(u)جیسے حروف پہلے اونچی آواز میں ریکارڈ کئے بعد میں انہیں اپنے تصور میں دہرایا۔ اسی طرح انہوں نے کچھ الفاظ اور فقرے بھی ادا کئے جن کےانہیں بڑے حوصلہ افزاء نتائج ملے۔ چانگ کہتے ہیں کہ اس سے کنیڈی نے شائد کچھ نیا سیکھا۔

کنیڈی کو امید ہے کہ وہ اپنے الیکٹروڈز کے ساتھ سالہا سال تک نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ وہ اس سے معلومات حاصل کرکے ان پر کنٹرول کو بہتر بنا رہے ہیں اور اپنی تحقیق پر مقالے شائع کررہے ہیں۔لیکن کھوپڑی میں نصب الیکٹروڈ زنے ان کیلئے کبھی بھی کوئی مشکل پیدا نہیں کی۔ چند ہفتوں بعد کنیڈی پر اپنے دماغ پر نصب آلات کو ہٹانے کیلئے دبائو ڈالا گیا ۔ کنیڈی کہتے ہیں کہ وہ اب الیکٹروڈ ز کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں لیکن وہ خوش ہیں ان کے پاس چار ہفتوں کا ڈیٹا ہے اور وہ اس پر ایک عرصہ کام کرسکتے ہیں۔

تحریر:آدم پائیورے (Adam Piore)

Read in English

Authors
Top