Global Editions

سائبر حملہ روکنے کی جوابی حکمت عملی

نئی تحقیق کے مطابق سائبر حملوں کا فوری ردعمل دینے اور طے شدہ قوانین پر عمل کرنے سےممکنہ نقصان سے خاصی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ سیکورٹی فرم مینڈینٹ (Mandiant)کے مطابق سائبر حملوںسے اس لئے بھی بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے کہ غفلت کے سبب ان کا مہینوں پتہ نہیں چلتا ہے، اوسطاً ہمیں سائبر حملے کا 200دن گزرنے کے بعد پتہ چلتا ہے۔ ہیکر ز کے پاس کوئی قانونی حقوق توہوتے نہیں لہٰذا ان کی طرف سے سسٹم میں مداخلت کا بڑی مشکل سے پتہ چلتا ہے۔ لیکن سائبر حملے کی ایک نشانی نیٹ ورک پر غیرمعمولی سرگرمی ہوتی ہے۔ بڑے کاروباری اداروں کا سیکورٹی سسٹم پیچیدہ ہونے کے باعث ایسی سرگرمیوں کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ بڑی کمپنیاں تو 70یا اس سے زیادہ سیکورٹی آلات لگا لیتی ہیں جن میں بیرونی مداخلت کی نشاندہی کرنے والے آلات، فائر والز (Firewalls)، ویب پیج کی نگرانی کے آلات، سپیم فلٹر (Spam Filter)سمیت اور بہت سے دیگر آلات شامل ہیں۔ انٹرپرائز سیکورٹی گروپ اور آئی ٹی ریسرچ فرم کے شریک بانی جان اولٹسٹک (Jon Oltstik)کا کہنا ہے کہ سائبر حملے کے خلاف فوری ردعمل دینے کیلئے بہت تیز طرار اور انتہائی چالاک لوگ چاہئیںجو بتا سکیں کہ ہر سسٹم پر کیا سرگرمی ہو رہی ہے اور وہ آپ سارے نظام کی ایک مجموعی تصویر پیش کرسکیں۔ بڑی کمپنیوں نے اس کیلئے بھی ایک حل پہلے سے تلاش کررکھا ہے۔نئی کمپنیوں نے پہلے سے موجود نگرانی کے سسٹم سے منسلک ہونے اور سائبر حملوں کا فوری جواب دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے اپنے سسٹم کو آئی بی ایم(IBM)، سسکو(Cisco) اوررے تھیون(Raytheon)سے منسلک کرلیا ہے لیکن ہر کوئی ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ یہ بہت مہنگا پڑتا ہے۔ سائبر حملوں کیخلاف حفاظتی اور جوابی اقدامات کرنے والی کیمبرج میساچوسٹس کی نئ کمپنی ریزیلیئنٹ سسٹمز(Resilient Systems)مختلف ذرائع سے ڈیٹا حاصل کرکے ایک ڈیش بورڈ پر سائبر حملوں کے بارے میں وارننگ کے ساتھ جوابی اقدامات سے بھی آگاہ کرتا ہے۔

تحریر: ڈیوڈٹالبوٹ (David Talbot)

Read in English

Authors

*

Top