Global Editions

سائبر جرائم کی ہمیں کیا قیمت چکانی پڑتی ہے؟

جس طرح سائبر جرائم بڑھ رہے ہیں اسی حساب سے انہیں روکنے کیلئے اٹھنے والے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔لیکن حکومت اور کمپنیاں انہیں روکنےکیلئے اٹھنے والے اخراجات کے اعدادوشمار فراہم نہیں کرتیں۔ امریکہ میں2012ء میں اسپیم (Spam)بھیجنے والی ایک کمپنی گرَم بوٹ نیٹ(Grum Botnet)کیخلاف سرکاری طور پر ایکشن لے کر ہزاروں کمپیوٹرز کو قبضے میں لے لیا گیا جس سے روزانہ 18ارب اسپیم پیغامات بھیجے جاتے تھے۔ (اسپیم ایسے پیغامات کو کہتے ہیں جو زبردستی ہزاروں کی تعداد میں مختلف ای میل ایڈریسز پر بھیج دئیے جاتے ہیں۔ اس پر بھیجنے والے کے اخراجات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں لیکن وصول کرنے والے اور کمپنی کو خاصا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔)۔ گرَم (Grum)اپنے آپریٹرز کے ذریعے ادویات کی اشتہار بازی سے ہی 3ملین ڈالر سالانہ کماتا تھا۔ گرَم بوٹ کا دنیا کے کُل اسپیم کا حصہ 20فیصد ہے۔ لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے، صرف ای میل اسپیم (Spam)کے خطرے کو روکنے کیلئے گوگل اور مائیکروسوفٹ سالانہ 20ارب ڈالر خرچ کررہے ہیں۔

اسپیم پر اٹھنے والے اخراجات تو سمجھ میں بھی آتے ہیں اور ان کا حساب کیا جاسکتا ہے لیکن دیگر جرائم کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے۔ مثلاً کسی کی ذاتی معلومات کا ڈیٹا چوری کرکے اسے بلیک مارکیٹ میں بھیج دیا جاتا ہے تو اس حرکت سے وہ شخص کتنا نقصان اٹھائے گا اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ قانون نافذ کرنے والےادارے اور پولیس کے پاس سائبر جرائم سے بچائو کیلئے اٹھنے والے اخراجات کے درست اعدادوشمار موجود ہی نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے تازہ ترین آپریشنز کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر بھیجنا پسند نہیں کرتے اور درست اعدادو شمار کے بغیر فیصلہ سازی ممکن نہیں رہتی۔ یورپین یونین نے بھی اپنے ایک تحقیقی منصوبے میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت ، کمپنیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سائبر کرائم کو روکنے کیلئے واضح اعدادو شمار نہ ہونے کی وجہ سے درست فیصلہ سازی نہیں کرپارہے۔ سیکورٹی کمپنی سائبر ڈیفکون (Cyber Defcon)کے بانی جارٹ آرمِن (Jart Armin)کہتے ہیں کہ اگر سائبر کرائم کے بارے میں آپ کے پاس مصدقہ معلومات ہی نہ ہو ںتو یہ عمل خود کو اور صارف کو سائبر حملوں کے رحم و کرم پر چھوڑ نے کےمترادف ہے ۔ اس سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر ہونے والی سرمایہ کاری بھی ضائع ہو جاتی ہے اور مستقبل کی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔

اینڈرسن اور ان کے ساتھیوں نے کیمبرج کلائوڈ سائبر کرائم سینٹر (Cambridge Cloud Cybercrime Centre)کے نام سے ایک نیا تحقیقی مرکز کھولا ہے جو شاید بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا باعث بنے۔ یہ تحقیقی مرکز بڑی کمپنیوں کے ڈیٹا کیلئے ایک کلیئرنگ ہائوس کا کام دے گا۔ اس کے ذریعے ایسے ڈیٹا کی نشاندہی کی جاسکے گی جس سے مجرمانہ سرگرمیوں کا پتہ چل سکے۔ اینڈرسن کہتے ہیں کہ ہم اس قابل ہو چکے ہیں کہ سائبر جرائم کی شرح معلوم کرکے انہیں روکنے کے موثر اقدامات کر سکیں۔ گوگل، یاہو اور دیگر بڑی کمپنیوں سے ڈیٹا فراہم کرنے کے بارے میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ نئے ذرائع سائبر جرائم کا طریقہ کار اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کی درست تصویر کشی کریں گے۔

تحریر: میٹ ماہونی (Matt Mahoney)

Read in English

Authors
Top