Global Editions

زیکا وائرس کے علاج کے لئے ویکسیئن کی تیاری میں تاخیر

زیکا وائرس جسے عالمی ادارہ صحت ایک عالمگیر خطرہ قرار دے چکا ہے اب تک لاعلاج مرض ہے۔ اس مرض کی وجہ سے نومولود بچوں کے سر غیر معمولی طور پر چھوٹے ہوتے ہیں۔ دنیا بھر کے سائنس دان اس مرض کے علاج کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم مستقبل قریب میں اس مرض کے علاج کے لئے دوا کی تیاری کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔ امریکی سائنسدان بھی شائد 2018 کے آغاز تک یہ بتانے کے قابل ہو جائیں کہ وہ اس مرض کے علاج کے لئے ویکسیئن تیار کرنے کے قابل ہوئے ہیں یا نہیں۔ امریکی قومی ادارہ برائے وبائی امراض و الرجی کے سربراہ انتھونی فوشی (Anthony Fauci) کا کہنا ہے کہ مچھروں کے باعث پھیلنے والی بیماری دنیا کے کئی ممالک میں سینکڑوں بچوں کا متاثر کر چکی ہے اور آئندہ مہینوں اور برسوں میں یہ وائرس کیا تباہ کاریاں دکھائے گا کچھ کہنا مشکل ہے لہذا یہ پیشن گوئی کرنا کہ اس کے علاج کے لئے ویکسئین کب تیار ہو گی ابھی ممکن نہیں۔ اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کے حوالے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں تاہم ایسے افراد جو اس وائرس کا شکار ہیں اور ان کا ڈیٹا بھی دستیاب نہیں یا خود متاثرہ فرد کو معلوم نہیں کہ وہ زیکا وائرس کا شکار ہے۔اس کے سبب اس وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اس سے ڈیٹا جمع کرنے کا کام بھی متاثر ہوتا ہے۔ زیکا وائرس کئی مہینوں سے لاطینی امریکہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ابھی تک وہاں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کے 426 کیس رپورٹ ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کی اکثریت ان افراد کی ہے جنہوں نے اس وائرس سے متاثر ہونے سے پہلے افریقہ کی سیاحت کی تھی۔ جبکہ امریکہ کے زیر انتظام علاقوں Puerto Rico امریکن سوما اور امریکن ورجن آئرلینڈ سے اب تک 599 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ فوشی کا کہنا ہے کہ وائٹ ہائوس کی جانب سے کانگریس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس وباء سے بچائو اور علاج کے لئے درکار تحقیق کے لئے 1.9 بلین ڈالرز مختص کرے اور ایسا کرنا ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فنڈنگ کے لئے ابھی سینٹ میں بحث ہونا باقی ہے۔ اگرچہ اس وائرس کے تدارک کے لئے جنیٹنک انجئیرنگ سیمت کئی اقدامات پر تجربات جاری ہیں تاہم ابھی اس وائرس کا مو؎ثر علاج دریافت نہیں ہو سکا۔

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top