Global Editions

زیکا وائرس خطرناک حد تک پھیل رہا ہے، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارۂ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او نے متنبہ کیا ہے کہ زیکا وائرس ’خطرناک حد تک پھیل‘ رہا ہے اور رواں سال اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 40 لاکھ ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے آئندہ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائےگا کہ آیا زیکا وائرس کو عالمی سطح پر خطرے کے طور پر دیکھا جائے یا نہیں۔ یہ وائرس جنوبی امریکی خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اور اس کے بعد کولمبیا اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مارگریٹ چین کا کہنا ہے کہ ’زیکا وائرس معمولی خطرے سے ہنگامی صورتحال تک پہنچ گیا ہے اور اس کے دل دہلا دینے والے اثرات ہیں۔‘ جنوبی امریکہ کے ملک کولمبیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران زِیکا وائرس سے متاثرہ حاملہ خواتین کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے۔ کولمبیا میں نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں زیکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے زائد ہے جبکہ ان میں تقریباً دو ہزار حاملہ خواتین ہیں۔ زیکا وائرس کی علامات بہت معمولی سی ہیں۔ان علامات میں بخار، جوڑوں اور سر کا درد، جِلد پر لال اُبھار والے دھبّے اور آشوب چشم شامل ہیں۔ دوسری جانب برازیل میں متاثرہ بچوں کی پیدائش میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برازیلی وزارتِ صحت نے اس بیماری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کے 270 واقعات کی تصدیق کی ہے جبکہ ایسے 3448 واقعات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اس وائرس اور غیر معمولی بیماری کے آپس میں تعلق کی تصدیق تو نہیں ہوئی ہے تاہم ڈاکٹر چین کا نے کہا ہے کہ ’یہ کافی حد تک ممکن ہو سکتا ہے اور کافی خطرناک ہے۔

Authors

*

Top