Global Editions

زمین سے کاربن کا اخراج: خلاء سے دُرست ڈیٹا جمع کرنے کا منصوبہ

ہر ننانوے منٹ کے بعد ناسا کا خلائی سیارہ زمین کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے اور اپنے اس سفر کے دوران یہ سیارہ زمین سے فضا میں خارج کی جانے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار اور شرح کو ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ سیٹلائٹ ناسا کے ان تجربات کا تسلسل کہا جاتا ہے جس کے ذریعے ایک روز یہ معلوم کرنا ممکن ہو جائے گا کہ زمین سے فضا میں خارج کی جانے والی کاربن کی اصل شرح کیا ہے اور زمین کے کس خطے، کس ملک، کس شہر سے کتنی کاربن فضا میں خارج کی جارہی ہے اور اس اخراج میں فوسل فیول سے چلنے والی بجلی گھروں کی جانب سے خارج کی جانے والی گرین ہائوس گیسز کی شرح کتنی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ چند مہینوں میں چین اور جاپان بھی ناسا کی کاوشوں کاساتھ دینے کے لئے دو خلائی سیارے فضا میں چھوڑ رہے ہیں۔ چین کی جانب سے چھوڑے جانے والے سیارے کا نام Orbiting Carbon Observatrory-2 اور جاپان کی جانب سے چھوڑے جانے والے سیارے کا نام GOSAT ہے۔ چینی سیارہ زمین سے فضا میں خارج کی جانے والی گرین ہائوس گیسز کی شرح اور مقدار کو ریکارڈ کرے گا جو تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کی جانب سے خارج کی جاتی ہے۔ درحقیقت ان تجربات اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا مقصد کاربن کے اخراج کے ضمن میں موثر اور قابل اعتماد اعداد وشمار جمع کرناہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تغیرات کے حوالے سے حقیقی صورتحال سامنے آسکے۔ اس وقت کاربن کے اخراج کے حوالے سے اعداد و شمار ہر ملک کی جانب سے فوسل فیول کے ذریعے چلنے والے بجلی گھروں میں تیل کے جلائے جانے سے حاصل کئے جارہے ہیں اور یہ اس طرح حاصل کئے جانے والے اعداد و شمار کسی حد تک غیرمصدقہ اور ناقابل اعتماد ہیں۔ ترقی پذیر ملک کا مجموعی کاربن اخراج میں حصہ 60 فیصد ہے مثال کے طور پر چین نے تسلیم کیا کہ اس نے گزشتہ برس نومبر میں معمول سے 17 فیصد زائد کوئلے کو بجلی کے حصول کے لئے جلایا۔ واضح رہے کہ دنیا میں گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں چین سرفہرست ہے۔ کاربن انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جان اونیلز (Jhon o Niles) کا کہنا ہے کہ خلائی سیاروں کی مدد سے زمین سے فضا میں خارج کی جانے والی کاربن کی شرح کے حوالے سے اعداد و شمار جمع کرنا حقیقی معنوں میں بہت کارآمد اور حقیقت سے قریب تر ہے۔ زمین سے اگرچہ خارج کی جانے والی کاربن کی شرح معلوم کی جا سکتی ہے مگر یہ مکمل خطہ ارضی کے احاطہ نہیں کرتی۔ سائنس دانوں کی اس حوالے سے کاوشیں قابل تحسین ہیں مگر ایک سوال کا جواب اب بھی باقی ہے کہ خلاء سے کاربن کے اخراج کا جائزہ لینے کے لئے جو ٹیکنالوجیز وضع کی گئی ہے وہ کس حد تک درست نتائج فراہم کر سکتی ہیں؟ جبکہ اس حوالے سے نیلز کا کہنا تھا کہ خلائی نظام قابل اعتماد اعداد و شمار فراہم کر سکتا ہے۔

تحریر: رچرڈ مارٹن (Richard Martin)

co2.spacex498

Read in English

Authors
Top