Global Editions

ریڈار کے پرزوں کی تیاری کے لئے بھی تھری ڈی پرنٹرز کا استعمال

اب آپ ریڈار ٹیکنالوجی کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیں جو مستقبل میں تھری ڈی پرنٹرز سے استفادہ حاصل کریں گی۔ ریڈار کے پیچیدہ اور حساس پروزوں کو اب تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے ایک پلاسٹک شیٹ پر پرنٹ کیا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف ریڈار ٹیکنالوجی میں وسعت آئیگی بلکہ اس کے اخراجات میں بھی کم ہو جائینگے۔ دور حاضر میں ریڈار نہ صرف عسکری مقاصد، فضائی پروازوں کی آمدورفت اور موسم کا حال جاننے کے لئے استعمال ہو رہے ہیں بلکہ اب تو بغیر ڈرائیور کی گاڑیاں استعمال میں لانے کے لئے بھی ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد لی جارہی ہے اس لئے ضرورت اس امر کی تھی کہ ریڈار ٹیکنالوجی کو کم خرچ بنایا جائے اور تھری ڈی پرنٹرز کے لئے تیار ہونے والی نئی سیاہی نےیہ کام آسان کردیا۔ اس سیاہی کی مدد سے پلاسٹک شیٹ پر پرنٹ ہونے والے ریڈار کے سرکٹ نہ صرف کم خرچ ہیں بلکہ ان  سے برقی رو بھی آسانی سے گزر سکتی ہے۔ میساچوٹا یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے رےتھیون (Raytheon) کے تعاون سے تھری ڈی پرنٹرز کے لئے الیکٹریکل خصوصیات کی حامل اس سیاہی کو تیار کیا ہے اور اس کی مدد سے پرنٹ ہونے والے ریڈار سرکٹ نہ صرف ریڈیو برقی لہریں خارج کر سکتے ہیں بلکہ مطلوبہ ہدف سے ٹکرانے کے بعد واپس آنیوالی لہروں کو وصول بھی کر سکتے ہیں۔ ریڈار سسٹم چونکہ ریڈیو لہروں کی طرز پر کام کرتا ہے لہذا اس سیاہی کی تیاری کے لئے ریڈار سسٹم کی اس ضرورت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ اس سیاہی کی مدد سے خاص قسم کے کپیسٹر جنہیں وولٹیج وئیریبل کپیسٹر (Voltage variable capacitor) یا واریکٹر (Varactor) کہا جاتا ہے تیار کئے جاسکتے ہیں اور تحقیق کاروں کو یقین ہے کہ یہ تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے تیار کئے جانیوالے پہلے واریکٹر ہونگے جنہیں ریڈار سسٹم اور گاڑیوں کے ٹکرائو کے حفاظتی نظام اور موبائل فون ٹاورز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رےتھیون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے شریک ڈائریکٹر کرسٹوفر میک کاررول (Christopher McCarroll) کا کہنا ہے کہ ان سسٹمز کو تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے پرنٹ کرنے کی صلاحیت اس صنعت کی ترقی کا سبب بنے گی اور اس کی مدد سے ریڈار ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے پرزہ جات نہ صرف فوری طور پر پرنٹ کئے جا سکیں گے بلکہ یہ نہایت کم خرچ ہونگے۔ ان کا کہنا تھا اس ضمن میں ایسی سیاہی کی ضرورت تھی جس سے نہ صرف برقی رو گزر سکے بلکہ وہ ریڈیو سگنلز بھیج اور وصول کرنے والے نظام سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس سیاہی کی تیاری کے لئے چاندی کے ذرات اور برقی رو گزارنے کے لئے موصل ذرات شامل کئے گئے ہیں اور اس سیاہی کو ایروسول جیٹ پرنٹر کے ذریعے تھری ڈی پرنٹنگ کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور گیسی بخارات کو چاندی کے ذرات پر مشتمل سیاہی کے ساتھ پلاسٹک شیٹ پر اس طرح پرنٹ کیا گیا کہ اس کی مدد سے ریڈار سسٹم کا سرکٹ تیار ہوا جو اس کی ضروریات کے عین مطابق تھا۔ تحقیق کاراس حوالے سے ابھی مزید تجربات میں مصروف ہیں تاکہ تھری ڈی پرنٹرز کے لئے تیار کی جانیوالی نئی سیاہی کو مواصلاتی نظام اور ریڈار سسٹم میں استعمال ہونے والی ڈیوائسسز کو پرنٹ کرنے کے لئے مزید موثر اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔ میک کاررول کے نزدیک مکمل ریڈار سسٹم پرنٹ کر لینا ابھی ایک خواب ہے لیکن ابھی ہماری توجہ ایسا تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے ایسے سرکٹ تیار کرنے پر مرکوز ہے جن کی مدد سے ہم ریڈار سسٹم کی ترقی میں معاون ثابت ہو سکیں لیکن یہ واضح ہے کہ تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے سرکٹ کی تیاری ابھی ہماری پہلی منزل ہے۔

lab.printing2x519

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top