Global Editions

روبوٹ پروگرامنگ کی نسبت تربیت سے زیادہ سیکھتے ہیں

ایک نئی کمپنی ایسے روبوٹ تیار کررہی ہے جو کوڈ سے کم اور جانوروں کی طرح تربیت سے زیادہ سیکھیں گے۔ سان ڈیگو (San Diego)میں قائم نئی کمپنی برین کارپوریشن (Brain Corporation) یوجین ایزہائکے وک(Eugene Izhikevich)کہتے ہیںکہ آپ کو روبوٹ کو نئے کام سکھانے کیلئے کوڈ لکھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے ۔ اسے تربیتی کتے کی طرح ہونا چاہئے۔ پروگرامنگ کرنے کیلئے آپ کو اسے مطلوبہ روئیے کیلئے اسے دہرانے کی ضرورت ہے۔ یوجین ایزہائکے وک(Eugene Izhikevich)نے اسے ممکن بنانے کیلے روبوٹ کیلئے برین او ایس (Brain OS)کے نام سے سسٹم بنایا ہے۔ کسی روبوٹ کو اگر یہ سکھانا ہو کہ اسےکوڑا کرکٹ کوکیسے صاف کرنا ہے تو آپ اس میں سوفٹ وئیر چلاتے ہیں مثلاً آپ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے روبوٹ کو کسی چیز کو پکڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ چند بار مسلسل دہرانے سے روبوٹ خود بخود وہی کام کرے گا۔ یوجین ایزہائکے وک(Eugene Izhikevich) ایک بار اسے آپ تربیت دیں وہ اسے سیکھ جائے گا۔

اس کا مقصد کم قیمت اور معمول کے کام کرنے والے روبوٹ تیار کئے جائیں۔ روبوٹ کو ذہانت کے ساتھ کام کرنا سکھانے کیلئے مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت گھریلو کام کرنے والا سب سے کامیاب روبوٹ رُومبا (Roomba)ہے جو 2002 میں متعارف کروایا گیا۔ رومبا کو کسی ایک بنیادی کام کاپروگرام دیا جاتاہے۔ برین کارپوریشن کو امید ہے کہ اسے ان کاروباری افراد اور کمپنیوں کو فروخت کر کے پیسہ کمایا جاسکتا ہے جو کم قیمت اور ذہانت سے کام کرنے والا روبوٹ چاہتے ہیں۔ اسی سال برین کارپوریشن سمارٹ فون پروسیسر کے ساتھ ریڈی میڈ سرکٹ متعارف کروائے گی۔ برین او ایس اسے اپنے بزنس پارٹنرز کیلئے نصب کرے گی۔ذہین روبوٹ بنانے کیلئے برین کا تیار کردہ سرکٹ چاہئے ہوتا ہے جسے روبوٹ کے ساتھ منسلک کر دیا جاتاہے۔
بورڈ پر موجود چِپ ایک موبائل کمپنی کوالکوم(Qualcomm)نے بنائی ہے جو برین کمپنی کی سرمایہ کار بھی ہے۔ سان فرانسسکو میں برین کارپوریشن کے بنائے ہوئے روبوٹ کا سٹیج پر مظاہرہ کیا گیا۔ روبوٹ آئی روور(Eye Rover)کو کرسی، صوفے اور دیگر رکاوٹوں کو عبور کرنا تھا۔ روبوٹ کو اسی روٹ پر بار بار چلایا گیا۔ دوسرے مظاہرے میں روبوٹ سیکھ جاتا ہے اور وہ اس روٹ پر بلائے جانے پر خود سفر کرتا ہے۔
یہ تو بہت سادہ کام تھالیکن اگر ان روبوٹ کی بہت زیادہ کسی کام کے بارے میں تربیت کی جائے تو پیچیدہ کام بھی سرانجام دے لیں گے جیسے جھاڑیوں کو زمین سے اکھاڑنا وغیرہ۔ کمپنی کو صرف ایک روبوٹ کو تربیت دینے کی ضرورت ہے پھر وہ اس کے سوفٹ وئیر کو دیگر روبوٹس میں نقل کرسکتی ہے۔

new.eyeroverx299

برین کارپوریشن کا سوفٹ وئیر بہت سی مصنوعی ذہانت کے کام کئے ہیں۔ زیادہ تر یہ تکنیک مصنوعی دماغی اشاروں پر منحصر ہے جو انسانی دماغ کےبھیجے جانے والے اشارات کی طرح کام کرتی ہے۔برین کارپوریشن پہلے کوالکوم کے ساتھ مل کر نئی قسم کی چپ پر کام کررہی تھی جو مصنوعی دماغی نیٹ ورک کے اشاروں کو سلیکون پر تحریر کرسکے۔ انہیں نیورومورفیک چپس(Neuromorphic Chips )کا نام دیا گیا ہے۔ لیکن شاید وہ بعد میں برین او ایس (Brain OS)سے زیادہ طاقتور اور موثر سوفٹ وئیر بنانے میں کامیاب ہوجائیں۔ برین کارپوریشن نے اس سے پہلے روبوٹ کو پابندی سے بار بار مختلف رویوں کو سکھانے کے تجربات کئے جب روبوٹ کسی کام کو سیکھنے میں کامیاب ہوجاتا تو اس کی ورچوئل دعوت کی جاتی۔ اس تصور نے کام تو کیا لیکن اس میں مختلف کمزوریاں بھی ظاہر ہوئیں۔ آئیزکووک کہتے ہیں کہ روبوٹ جب ایسا کرتے ہیں تو خود کو نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon University)میں روبٹکس کی پروفیسر مینیولو ویلوسو(Manuela Veloso)کہتی ہیں کہ تحقیقی لیبارٹریز میں روبوٹس کو تربیت دینا ایک عام سی بات ہے لیکن اس ٹیکنیک کو کاروباری نقط نظر سے دیکھا جائے تو یہ بہت سست ہے۔ اس کی مارکیٹ میں صرف ایک مثال بیکسٹر (Bexter)روبوٹ کی ہے۔ اسے نئے پیداواری تصور کے تحت تر بیت دی جاسکتی ہے۔

تحریر: ٹام سیمونائٹ (Tom Simonite)

Authors
Top