Global Editions

روبوٹس کےلئے پرزوں کے نرخوں میں کمی۔۔ ایک انقلاب

بوسٹن ڈائنیمکس (Bonton Dynamics) نامی کمپنی کی جانب سے تیار کیا گیا روبوٹ اٹلس (Atlas) جسے گزشتہ برس منظر عام پر لایا گیا تھا کو مزید کم خرچ بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ملبے کےڈھیر پر چڑھنے اور برقی آلات کو استعمال کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اس روبوٹ کی قیمت دس لاکھ ڈالر رکھی گئی تھی اور یہ اپنے کام کے دوران تقریباً پندرہ کلوواٹ بجلی استعمال کرتا ہے اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ روبوٹ اپنے مالک کے لئے اضافی مالی بوجھ کا سبب بن رہا ہے۔ ایک تحقیقی ادارے ایس آر آئی انٹرنیشنل (SRI International) سے منسلک تحقیق کار الیگزینڈر کیرنبوام (Alexander Kernbaum) کے مطابق اٹلس نامی روبوٹ کو ابھی مزید کم خرچ اور فعال بننا باقی ہے۔ الیگزینڈر ایس آر آئی کے اس ٹیم کا حصہ ہے جو اج کل اس مسئلے کے حل کے لئے امریکی پینٹاگان کی تحقیقی ایجنسی DARPA کے لئے کام کر رہے ہیں۔ یہ ٹیم اٹلس ربورٹ کے ڈیزائن پر دوبارہ کام کریگی اور اس کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اسے مزید کم خرچ بنائے گی جس میں بنیادی نکتہ اس کو استعمال کرنے کے لئے بجلی کی ضرورت میں 20 گنا کمی ہے۔ ٹیم چاہتی ہے کہ یہ روبوٹ استعمال کےدوران صرف اتنی بجلی استعمال کرے جتنا مائیکرو وویو اوون استعمال کرتا ہے۔ ایس آر آئی اس مسئلے کا حل کیسے تلاش کریگی یہ تو معلوم نہیں لیکن عمومی رائے یہی ہے کہ وہ اٹلس کے پرزے اس طرح ڈیزائن کریگی کہ وہ کم خرچ ہوں یعنی انکے نرخ کم ہوں اور وہ زیادہ بجلی استعمال کرنے کی صلاحیت کے حامل نہ ہوں۔ اس کے لئے انہیں اٹلس کے پرزوں کے مزید ترقی یافتہ پروٹو ٹائپس کے بارے میں کام کرنا ہو گا جن کی تیاری سے روبوٹ سازی کی صنعت میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے کیونکہ کم نرخوں کے حامل روبوٹ کی تیاری سے انکی مانگ میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایس آر آئی کے شعبہ روبوٹس کے ڈائریکٹر رچ ماہونے (Rich Mahoney) کا کہنا ہے کہ ہم نے اٹلس میں ان پرزوں کی نشاندہی کر لی ہے جو اوور ڈئزائن ہیں کیونکہ ان کا محرک اچھے ڈیزائن کے حامل کم خرچ پروزوں کی تیاری نہیں تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طویل عرصے سے تحقیق کار اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے میں مصروف ہیں کہ فعال اور سستے روبوٹس کی تیاری ممکن ہے؟ تاہم اب اس سوال کا جواب تلاش کر لیا گیا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے روبوٹس تیار کئے جا سکیں جن کی لاگت کم ہو اس کا اثر انکی فعالیت پر نہ پڑے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روبوٹس کی ٹانگوں، بازوئوں اور ہاتھوں کی کم نرخوں پر تیاری سے چھوٹے کاروباری حضرات اور عام صارفین بھی اب روزمرہ معمولات کی انجام دہی میں روبوٹس کی مدد لے سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کم لاگت والے پروزوں کی تیاری سے اٹلس بھی آئیل فیلڈز کی نگرانی کے کام پر مامور ہو سکے گا۔ کم لاگت والے روبوٹک ہینڈز DARPA کے ایک اور پروگرام کے تحت تیار کئے گئے ہیں اور ان کی مدد سے روبوٹ نئے ٹاسک سر انجام دے سکیں گے۔ جیسے باسکٹ بال کو پکڑنا، میز پر پڑی چابیاں اٹھانا وغیرہ۔ روبوٹس انجئینر مارک کلےفی (Mark Claffee) کا کہنا ہے کہ ہمارا خیال ہے کہ روبوٹس کے ڈیزائن میں تبدیلی یا چھیڑخانی ممکنہ طور پر بازی پلٹ دے گی۔ مارک کا خیال ہے کہ اس کام سے روبوٹ گھمبیر ماحول میں بھی کارکردگی دکھا سکیں گے۔

تحریر: ٹام سمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors
Top