Global Editions

روبوٹس انسانوں پر غالب آجائیں گے ؟

امریکہ کی کارنیل یونیورسٹی کے پروفیسر ہڈلپسن ( Hod Lipson) مصنوعی ذہانت اور رو بوٹ سازی پر تحقیق میں عالمی شہرت کے حامل ہیں وہ ایسی خودکار مشینوں پرکام کررہے ہیں جو صنعتوں میں مزدوروں کی جگہ لے سکیں لیکن پروفیسر لپسن کو ڈر ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خود کار مشینوں میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت معاشرتی ناہمواری کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ اس سے ایک خاص طبقے کی آمدن میں بے پناہ اضافہ ہوجائیگااور دوسری طرف ان خودکار مشینوں کے انسانوں کی جگہ لے لینے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے روزگار سے محروم ہوجائیں گے اور جیسے جیسے صنعتوں میں اشیا سازی سے لیکر فیصلہ سازی کے میدانوں میں خود کار مشینوں اور کمپیوٹر کا استعمال بڑھتا جائے گا لوگ اپنے روزگار سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔
19ویں صدی کے دوران انگلینڈ میں آنے والے صنعتی انقلاب کی وجہ سے دستکاروں کی ایک بہت بڑی تعداد بے روزگار ہوگئی ،جس کے باعث پورے ملک میں احتجاج اور مظاہرے شروع ہو گئے، جسے لوڈائٹ (Luddite Protest ) احتجاج کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس احتجاج میں وہ دستکار انگریز شامل تھے جوصنعتی ترقی کے باوجود اپنے کام سے محروم ہو گئے تھے اس احتجاجی مہم کے دوران مظاہرین صنعتی مشینوں کی توڑ پھوڑ کرتے اور فیکٹریوں کو جلا دیتے تھے ۔ان فسادات کے چند سال بعد1 182 ء میں برطانوی ماہر اقتصادیات ڈیوڈ ریکارڈ و ( David Recardo )نے پیشن گوئی کی تھی کہ مشینوں کی مدد سے آنے والے صنعتی انقلاب کی وجہ سے آنے والے سالوں میں عالمی سطح پر مندے کے بحران پیدا ہو جانے کا امکان ہے ۔ مزدوروں کی جگہ مشینوں کے کام کرنے سے مزدور بڑے مشتعل تھے ، 1930 ء میں جب بے روزگاری کے عروج دور میں جان مے نارڈوکی نس

(Johan Maynard Keynes)نے خبردار کیا تھا کہ مصنوعات کی لاگت میں کمی کرنے کے لئے مشینوں کا استعمال سے پیدا ہونے والی بے روزگاری کے باعث پائی جانے والی ابتری کا یہ دور عارضی ثابت ہو گا۔

Who-Will-Own-the-Robots-2

اب ایک بار پھرٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت نے ماہرین کو اس خوف میں مبتلا کردیا ہے کہ دنیا ایک بار پھر معاشی نا ہمواری کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یورپ ،امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں معاشی نا ہمواری کی شرح میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بعض ماہرین کے خیال میں دنیاایک بار پھر معاشی نا ہمواریوں کا شکار ہو جائے گی۔حال ہی میں شائع ہونے والی آرگنائزیشن فار اکنا مک کواپریشن اینڈ ڈیویلپمٹ (OCED) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے رکن ممالک میں کم آمدنی والے گروپ کی آمدنی میں 40 فی صد کمی ہوئی ہے ، رپورٹ میں دعو یٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ چند عشروں کے دوران انتہائی کم آمدنی گروپ کی شرح اجرت میں کمی واقع ہورہی ہے، اوسی ای ڈی نے اپنے رکن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اقتصادی نا ہمواری معاشی ترقی کی جڑوں کو اندر ہی اند ر ہی سے کھوکھلا کرتی جارہی ہے، امریکہ میں مڈل کلاس ختم جبکہ انتہائی کم آمدنی والے گروپ اجرت کی شرح میں کمی کا شدیددباؤ بڑھتا جار ہا ہے ۔امریکہ کے تھنک ٹینک بروکنگ انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 1990۔2013 ء کے دوران 30تا 45سال کے عمرکے حامل ہائی سکول ڈپلومہ ہولڈ ر امریکی افراد کی 68فی صد فل ٹائم ملازمت کی حامل ہے امریکہ میں گذشتہ کئی عشروں سے امریکہ کے پیشہ ور کارکنوں کی اجرت میں اضافہ معاشی ترقی کے مطابق نہیں ہوا وہ افراد جن کے پاس ہائی سکول ڈپلومہ نہیں تھا ان کی اجرت اس عرصہ کے دوران 20فی صد کمی واقع ہوئی جبکہ ہائی سکول ڈپلومہ ہو لڈروں کی اجرت میں 13فی صد کمی واقع ہوئی ،عورتوں کی ملازمت کے حوالے صورت حال بہتر رہی لیکن عورتیں اب بھی مردوں کے مقابلے میں کم اجرت پر کام کرتی ہیں وہ خواتین جن کی تعلیم ہائی سکول ڈپلومے سے کم تھی ان کی آمدن میں 13فی صد جبکہ ہائی سکول ڈپلومہ ہو لڈر خواتین کی آمدن میں 12 فی صد کمی واقع ہوئی۔آمدن اور ملازمتوں میں اضافے کے ذمہ دار عوامل کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے مخصوص اثرات کو دوسرے عوامل جیسے عالمگیر یت ،اقتصادی نشوو نما ،تعلیم تک رسائی اور ٹیکس پالیسیوں وغیرہ سے علیحدرکھ کر پرکھا جا ئے لیکن ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت جزوی طورپر مڈل کلاس کے تنزلی کی معقول وجہ لگتی ہے۔

آج کل ماہر ین اقتصادیات میں یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ بہت زیادہ معاوضے پر کام کرنے والے افراد کیلئے اب ضروری نہیں رہا کہ کسی مخصوص ملازمت کے لئے ضروری تعلیم اور تربیت کا حامل ہو بلکہ اب یہ ضروری ہے وہ ٹیکنالوجی میں انتہائی مہارت رکھتے ہوں ،ویسے بھی سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے بہت سی ملازمتوں جیسے اکاو ئٹنگ ،پے رول بنا نا اور کلیریکل کام کاج کو ختم یا کم کر دیا ہے اور اس ٹیکنالوجی نے ان شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو مجبور کردیا ہے کہ وہ انتہائی کم اجرت پر کام کریں یا پھر وہ یہ پیشہ ہی ترک کردیں۔خود کار مشینوں نے مصنوعات سازی کے شعبہ میں مڈل کلاس کی بہت سی ملازمتوں کو ختم کردیا ہے جس کی وجہ سے مڈل کلاس ملازمتوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ان کے لئے کام تلاش کرنے کی گنجائش ہر آنے والے دن کے ساتھ کم ہوتی جارہی ہے۔ایم آئی ٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر اقتصادیا ت کا کہنا ہے کہ اب صرف دو پیشوں میں ملازمت کے مواقع موجود ہیں ان میں ایک شعبہ انتہائی مہارت کے حامل افراد اور دوسراشعبہ ہاتھ سے کام کرنے والے افراد کا ہے لیکن ہاتھ سے کام کرنے والے مزدوروں کا معاوضہ بہت کم ہے۔

2007-09ء کی کساد بازاری کے دوران کوالٹی کنٹرول کی پڑتال سے منسلک ملازمتوں کی جگہ خود کار مشینوں نے لے لی جس کی وجہ انتظامیہ اور سیلز کے شعبوں میں وائٹ کالر ملازمتیں (مڈل کلاس نوکریاں )دھڑام سے نیچے آگریں اس کے ساتھ ہی وہ صنعتی مزدور (بلیو کالر ملازمتیں) جو پرزوں کی اسمبلی سے وابستہ تھے ان کی ملازمتیں بھی دم توڑ گئیں کیونکہ یہ کام مزدوروں کی جگہ خود کار مشینوں نے سنبھال لیا تھا ان ملازمتوں کے خاتمے کی وجہ سے اب سب سے زیادہ متاثرہ وہ افراد تھے جن کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان تھیں۔ان میں سے کچھ لوگ توملازمت تلاش کرتے اتنے تھک گئے کہ انہوں نے تلاش ہی ترک کردی یہ ایک انتہائی پریشان کردینے والی صورت حال تھی کیونکہ درمیانے درجے کی ملازمتوں کو مڈل کلاس بڑامحفوظ تصور کرتی تھی ملازمتوں کے مواقع کے دم توڑ جانے کی وجہ سے مڈل کلاس بے روز گاری کے خوف میں مبتلا ہو گئی۔

Who-Will-Own-the-Robots-3

کیا یہ اس بات کا پیش خیمہ نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی کی باعث دوسرے شعبوں میں بھی افرادی فورس کی جگہ خود کار مشینیں لے لیں گی ،جو کہ ماضی میں بہت محفوظ تصور کی جاتی تھیں یہ اپنی نوعیت کا انوکھا اقتصادی تغیر ہے جو ایک طرف تو بہتر ادویات ،سروسز (خدمات )اور مصنوعات کومتعارف کروائے گالیکن دوسری طرف وہ لوگ جواس اقتصادی تغیر سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہونگے وہ تباہ ہو جائیں گے۔

امریکی مصنف مارٹن فورڈ نے اپنی نئی کتاب رائزآف روبوٹس) (Rise of Robotsمیں افرادی قوت کے بیروزگار ہونے کے حوالے سے کئی نکات پر روشنی ڈالی ہے، جیسے ڈرائیور کے بغیر کاریں اور 3ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی وغیرہ ، یہ ٹیکنالوجی آخرکار صنعتی کارکنوں کی جگہ لے لے گی اور صنعتی کارکن اپنی آمدن کے ذرائع کھو بیٹھیں گے ، فورڈ نے مستقبل کی ممکنہ بے روزگاری کا حل بھی اپنی کتاب میں پیش کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ حکومتیں شہریوں کو آمد ن کی فراہمی ضمانت فراہم کریں اور انھیں زندہ رہنے کے لئے معقول رقم فراہم کریں۔ایسا مستقبل جس میں شائد ہی کو ئی ملازمت لوگوں کو دستیاب ہواس سے بچنے کے لئے منصوبہ بندی کرنا شائد ابھی بہت مشکل ہے کیونکہ ابھی تک کوئی ایسی شہادت نہیں مل سکی جس سے اس بات کا علم ہو سکے کہ خودکارمشینیں ملازمتوں کو متاثر کررہی ہیں۔فورڈ نے اس کا حل پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہرشخص کو معقول آ مدن کی گارنٹی فراہم کرے جس سے بے روزگار شخص آرام سے گزارہ کرسکے یہ کوئی نیا تصور نہیں ہے اسے کے لئے ’’ نیگٹو انکم ٹیکس ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اس اصطلاح کو 1960 کے عشرے میں ایک قدامت پرست ماہر اقتصادیات ملٹن فرائڈ مین (Milton Friedman)نے عام کیا۔

لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر گے مچلز نے اپنے ایک ساتھی ماہر اقتصادیات کے ساتھ مل کر 17 ترقی یافتہ ممالک میں مصنوعات سازی پر صنعتی روبوٹس کے اثرات کے حوالے سے سروے کیا،سروے سے ایک ملی جلی کہانی سامنے آئی ہے بظاہر ایسے لگتا ہے کہ روبوٹس نے نچلے درجے کی ملازمتوں کی جگہ لے لی ہے ، جس کی وجہ سے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو گیالیکن مچلزکاکہنا ہے اسے ایسی کوئی شہادت نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہوتا ہوکہ روبوٹس نے مجموعی طورپر ملازمتوں کو متاثر کیا ہے اس لئے سردست یہ وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔

مارٹن فورڈ ( Martin Ford) نے اپنی کتاب میں مالیکیولر سازی کی مثال دی ہے جس کا نام سائنس دانوں جیسے ایرک ڈریکسلر (Eric Drexler )نے نینو ٹیکنالوجی کا نام دیا ہے ڈریکسلر کا خیال کہ ایک دن ایسا ممکن ہو جائے گا نینو روبوٹس کی مدد سے کسی بھی چیز کوبنانا ممکن ہو جائے گا جو ایٹموں کو عمارتی بلاکس کی مانندمالیکیولز کو حرکت دے سکے گا لیکن فورڈ نے ڈریکسلر کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ نوبل انعام یافتہ کیمسٹ رچرڈ سمالے نے ایک عشرہ قبل شائع ہونے والے اپنے والے مضمون میں لکھا تھا کہ کلین انرجی کے میدان میں نینوٹیک کا بہت زیادہ استعمال ہو سکتا ہے لیکن مالیکیول سازی میں نینو ٹیک کے استعمال کو مستر د کرتے ہوئے کہا دعویٰ کیا کہ مالیکیول سازی کے عمل کو جس طرح ڈریکسلر نے بیان کیا ہے وہ کیمسٹری اور فزکس کے قوانین سے متصادم ہے جوایٹموں کے ملاپ اور ایک دوسرے کے ساتھ تال میل کو کنٹرول کرتے ہیں۔
مستقبل کے بارے میں زیادہ حقیقی سوچ کے حوالے شکاگو آفسز آف نیریٹووسائنس نے کیول (Quill) نامی ایک سافٹ ویئر تیار کیا ہے۔ جو کسی بھی کمپنی کی سالانہ رپورٹ کا نہ صرف خلاصہ تیار کرسکتا ہے بلکہ اس میں سے اعدادوشمار نکال کر اسے بیانیہ شکل (Narrative form ) میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کا بھی حامل ہے ۔

ایسوسی ایٹڈ پریس(AP) اور امریکی خبر رساں ادارہ فربز کھیلوں اور کارپوریٹ آمدن کے حوالے سے خبریں بنانے کے لیے اسے پہلے ہی اس سافٹ ویرکوا ستعمال کر رہا ہے اس سافٹ ویئرسے تیار کی جانے والی خبروں کی کوالٹی ریڈایبل (Readable) ہوجاتی ہے اور آنیوالے سالوں میں اس میں بہتری کا امکان ہے لیکن اس ٹیکنالوجی میں صلاحیت ہونے کے باوجود یہ پیشن گوئی کرنا ممکن نہیں ہے کہ یہ مستقبل میں ملازمتوں پر کس طرح اثرانداز ہو گی۔

اے ون( A-1) ٹیکنالوجی کے زیر استعمال ہونے کے باوجود درمیانے درجے کی ملازمتوں پر اس کے کوئی واضح اثرات سامنے نہیں آئے۔ نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنسدان کرسچین ہامونڈ جو کیول نامی سافٹ ویئر تیارکرنے والی کی ٹیم میں شامل تھے ان کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ وئیر کم اور درمیانی مدت کے تجزیاتی کام کا بوجھ کم کر دے گی لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ملازمتوں پر بھی اثرانداز ہو۔

Who-Will-Own-the-Robots-4

ٹیکنالوجی کے دیوتا
لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر انتھونی ایٹکن سن ( Anthony Atkinson) نے کہا کہ لوگ شائدیہ خیال کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کسی دوسرے سیارے سے آئی ہے اور ابھی زمین پر اتری ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ہرٹیکنالوجی میں ترقی کا انحصار حکومتوں، صارفین اور کاروباری افراد کے انتخاب پر ہوتا ہے اور ان کی ڈیمانڈ اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کس ٹیکنالوجی پر تحقیق کی جائے اور اسے تجارتی پیمانے پر تیار کیا جائے اور وہ اس کا کیا استعمال کریں گے۔

ایٹکن 1960ء کے عشرے کے آخری حصے سے اب تک آمدن کی (غیرمنصفانہ تقسیم) کی ناہمواری پر تحقیق کر رہے ہیں جس زمانے میں ایٹکن نے اس مضمون پر تحقیق کا اغاز کیا اس زمانے میں اقتصادیات کے مرکزی دھارے میں آمدن کی ناہمواری کے حوالے سے مطالعہ ایک غیر اہم مضمون تصور کیا جاتا تھالیکن آنے والے سالوں کے دوران دنیا کے متعدد ممالک میں آمدن کی ناہمواری میں بڑا ڈرامائی اضافہ ہوا۔1980ء کے عشرے میں برطانیہ میں یہ اقتصاد ی نا ہمواری اتنی بڑھ گئی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ 21ویں صدی میں سرمائے کی غیرمنصفانہ تقسیم پرتحقیق اقتصادیات کے ایک نہایت اہم مضمون کی شکل اختیار کر گئی ایٹکن کی نئی کتاب ’’ سرمائے کی غیرمنصفانہ تقسیم میں کیا کیا جا سکتا ہے ‘‘ (Inequality: What can be done)میں کئی حل پیش کیے ہیں۔ وہ اپنی اولین ترجیح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایسی ایجادات کی حوصلہ افزائی کی جائے جو کارکنوں کے لیے ملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا کر سکیں۔ایٹکن کا خیال ہے کہ کاروباری طبقے اور حکومتوں کو تحقیق کے لئے نئے فنڈ فراہم کرتے ہوئے یہ بات دماغ میں رکھنی چاہیے کہ وہ ایسی تحقیق کے لئے فنڈ فراہم کریں جو ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سرمائے کی منصفانہ تقسیم میں مدد گارثابت ہولیکن شائد یہ عملی طور پر ممکن نہیں ہے لیکن ٹیکنالوجی کے انتخاب کے لیے ایسے طریقہ کار کا انتخاب ممکن ہے جس کی مدد سے مستقبل میں ملازمت کے بہتر مواقع پیدا ہونے کاامکان ہو۔

وہ لکھتے ہیں کہ ممکن ہے کہ حکومتیں اپنے فیصلے تبدیل نہ کریں لیکن انہیں اس بات کا علم تو ہو جائے گا کہ مستقبل میں کیا ہو سکتا ہے اس سے قبل کہ وہ اپنے شہریوں کویہ کہنے پر مجبو ر ہو جائیں کہ ہمارے پیارے لوگو تم ملازمتیں کھو چکے ہو۔ ماہر اقتصادیا ت روایتی طور پر پیداواری صلاحیت سے مراد مزدوروں کی مخصوص تعداد اور سرمایہ لیتے ہیں جبکہ ایک مشین اور سافٹ ویئر پر صرف کیے جانے والاکم سرمایہ اور زیادہ پیدواری صلاحیت کا حامل ہوتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ممتاز ماہر اقتصادیات جیفری ( Jeffrey Sachs) نے حال ہی میں یہ پیش گوئی کی ہے کہ مستقبل میں روبوٹس اور خودکارمشینیں تمام روایتی طریقوں پر غالب آ جائیں گی اور روبوٹس بہت جلد امریکی کمپنی سٹاربکس کے کافی ہاؤسزمیں چھا جائیں گے لیکن بہت سے دلائل ایسے ہیں جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جیفری کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ سٹاربکس کافی ہاؤسز کے مالکان اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ سروسز کو تیز اور موثربنا یا جائے یا پھر کافی کوسستا کیا جائے مالکان کا خیال ہے کہ اکثر صارف ربوٹس کی بجائے انسانی خدمات کو اس لئے ترجیح دیتے ہیں کہ ویٹر اپنے گاہک کے مزاج اور ذائقے کومدنظر رکھ کر کافی پیش کرتے ہیں۔

Who-Will-Own-the-Robots-5

خودکارمشینوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے حامی روایتی ملازمت کے مواقع پر اثرات کو کم اہم ثابت کرنے کے لیے ماضی میں ٹیکنالوجی میں تبدیلی کی مثال دیتے ہیں لیکن اپنی بات کو ثابت کرنے کیلیئے وہ اذیتوں اور مصائب کو بھول جاتے ہیں جن کا سامنا دستکاروں کو اپنے ذرائع روز گار کے چھن جانے بعد کرنا پڑا اور صنعتی انقلاب کے آغاز کے چالیس سال بعد تک ان کی اجرت بڑھنے کی بجائے کم ہوتی چلی گئی۔ اس دور کے د ستکاروں ، مزدوروں اور صنعتی کارکنوں کی تکلیف دہ زندگی کی کہانیاں ادب اور سیاسی تحریروں میں اب بھی محفوظ ہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات جوزف سٹگ لٹز(Stiglitz) اپنی نئی کتاب گریٹ ڈیوائڈ( Great Divide) میں لکھتے ہیں دنیا میں آنے والی عظیم کسادبازاری کی وجہ کو کسی حدتک موجودہ ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیوں میں تلاش کیا جا سکتا ہے ان کاخیال ہے کہ اس عظیم کسادبازاری کی وجہ حکومت کی تباہ کن مالیاتی پالیسیاں اور بینکنگ کے نظام کی ٹوٹ پھوٹ کی بجائے زرعی اقتصادیات کی صنعتی اقتصادیات کی جانب منتقلی تھی۔مشینوں نے امریکہ کے زرعی معمولات کو تبدیل کر دیا اور اسے ایک ایسے ملک میں تبدیل کرکے رکھ دیا جہاں بہت زیادہ زرعی مزدوروں کی جگہ نسبتاً کم مزدور وں کی ضرورت تھی۔ جنگ عظیم دوم نے صنعتی پیداوار کے عمل کو تیز کر دیا جس نے تغیر کے اس دور میں مزدوروں کو مدد فراہم کی۔ سٹگ لٹز لکھتے ہیں کہ ہم ایک اور اذیت ناک تغیر کے دور میں پھنس گئے ہیں جس میں ہم مصنوعات سازی پر مبنی اقتصادت سے سروسز پر بنیاد (Services Based)رکھنے والی اقتصادیات میں داخل ہو گئے ہیں، نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرنیوالے اگر چاہیں تو اس ٹیکنالوجی کے باعث مرتب ہونیوالے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اے ون(A-1)کے ایک محقق ہڈلپسن( Hod Lipson) کا کہنا ہے ، بطور انجینئر ہماری سوچ کا محور مشینوں کو خودکار بنانا ہے ہم چاہتے ہیں کہ مشین جس حد تک ممکن ہو کام کرے ہماری ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہم اپنی پیداوار میں اضافہ کریں۔ فیکٹری میں انجینئرنگ سے وابستہ مسائل ا ور کام کاج کودر پیش چیلنجوں کا حل تلاش کریں ہمیں کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوا یہ اچھی چیز نہیں ہے۔لپسن تجویز کرتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے انجینئروں کو اپنے مقاصد پر نظرثانی کرنی چاہئیے۔ اس مسئلے کا یہ حل نہیں ہے کہ ہم ایجادات کے عمل کو روک دیں بلکہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم ان نئی ایجادات کے عمل میں کس طرح لوگوں کو شامل کریں ،میں نہیں جانتا کہ اس مسئلے کاکیا حل ہے لیکن انجینئروں کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔

ملازمتوں کے بہت زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لئے تعلیم کے پرانے انفراسٹرکچر میں بہتری اور تحقیقی میدان جیسے بائیوٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ جیسا کہ مارٹن فورڈ نے خبردار کیا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والی بیروزگاری کی وجہ سے بڑھتا ہوا اقتصادی دباؤہمیں ایک بہت بڑے بحران کا شکار کر سکتا ہے جس کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ ہم کس طرح کی ٹیکنالوجی ایجاد اور اختیار کرتے ہیں۔

خودکار گاڑیوں کے بعض ورژن کی تیاری ناگزیر معلوم ہوتی ہے لیکن کیا ہم اس کو اپنے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کو مزید محفوظ ،سہل اور کم ایندھن بنا نے کے لئے استعمال کریں گے یا پھر ہم بڑی شاہراہوں کو ڈرائیور کے بغیر کاروں اور ٹرکوں سے بھر دیں گے۔ملازمت کے مواقع میں کمی سے بچنے کا کم مدتی حل یہ ہے کہ اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لئے کاروبار میں توسیع اور تعلیمی نظام کے انفراسٹرکچر کی تعمیرپرسرمایہ کاری کی جائے، جس کی مدد سے ملازمتوں کی جگہ روبوٹس کے لے لینے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تشویش پر کسی حد قابو پایاجا سکتا ہے۔

انڈریو میک ایفی(Andrew Mc-Afee) جو ایم آئی ٹی کے ایرک برائن جولفسن سن ) Bryn Jolfsson (Arik کے مضمون سیکنڈمشین ایج(Second Machine Age) میں شریک مصنف ہیں۔سائی فائی (Sci- Fi)اقتصادیات کے امکان کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سمارٹ مشینوں کا عمل دخل بہت سی ملازمتوں کو ختم کرکے رکھ دے گی۔ لیکن یہ تبدیلی بہت زیادہ اقتصادی اور سماجی فوائد کی حامل ہو گی یہ ایک طرح کی کم لیبر کی حامل اقتصادیات ہو گی جو ایک بہت بڑی بات ہو گی لیکن اس کے بارے بحث و مباحثے میں جلدی کرنی چاہیے۔ سیلیکون ویلی سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ جہاں یہ نئی پیش رفت اقتصادی ترقی کا تیز دوڑنے والاانجن ثابت ہو ئی ہے وہاں اس نے اقتصادی ناہمواری کے عمل کو بھی تیز کردیا ہے۔

موجودہ ٹیکنالوجی کے عہد کے بانی سائنس دان جے سی آر لک لائیڈر ( JCR Licklider)نے 1968 ء میں اپنے ایک مضمون میں خبردار کیا تھا کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کے معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات کے اچھے یا برے ہونے کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ مشینوں کی وجہ سے ہونے والے مالی فوائد کو مراعات تصور کیا جاتا ہے یا پھر اسے حق کے طور پر لیا جائیگادولت کی دوبارہ تقسیم کے لئے کیا پالیسیا ں ترتیب دی جاتی ہیں اور معاشی حوالے سے سب سے نچلے طبقے کو آمدنی کے محفوظ ذرائع کے لئے کیا ضمانت فراہم کی جاتی ہے۔لک لائیدر کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آمدن سے زیادہ سے زیادہ افراد کومستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جانا ضروری ہے لک لائیڈر کے موقف کی تائید کرتے ہوئے ہاورڈ یونیورسٹی کے ممتا زماہر لیبر اکنامسٹ رچرڈ فری مین ( Richard Freeman) نے کہا کہ حکومت اپنے وسائل کا بڑ احصہ معیاری تعلیم اور تربیتی پروگراموں پر صرف کرے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ معیاری تعلیم و تربیت کے باعث روبوٹس ،خود کار مشینوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مستفید ہو سکیں اور اب ایسا دور آنیوالا ہے کہ جس کے پاس دولت ہو گی وہ روبوٹس سے مستفید ہو پائے گا بظاہر ایسے لگتا ہے اے ون سافٹ ویئر بہت سی ملازمتوں کہ ختم کردیگاجیسا کہ حالیہ عشروں میں ہوا ہے ،جس سے مطلق العنانیت ایک حقیقت بن جائیگی مشینوں سے حاصل ہونیوالے فوائد صرف امیروں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے لیکن مشینیں بہر حال آلات ہیں اور اگر ان کی ملکیت شراکت داری کی بنیاد پرہو تو پھر معاشرے کی ایک بڑی اکثریت پیداوار سے ہونے والی آمدن سے بھی مستفید ہو سکے گی اوراگر ایسا ہو ا تو امیر ہوتے معاشرے میں مڈل کلاس زندہ رہ پائیگی۔

تحریر : ڈیوڈ روٹ مین (ایڈیٹر ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو )

Read in English

Authors
Top