Global Editions

راکٹ کی خودکار لینڈنگ،لیکن دوبارہ استعمال کی لاگت کیا ہوگی؟

خلائی تحقیقی ادارے سپیس ایکس کی جانب سے خلائی سفر میں استعمال ہونے والے راکٹ کی محفوظ لینڈنگ کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ اس طرح اب راکٹ کو دوبارہ خلائی سفر کے لئے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے تاہم اس حوالے سے جاری ہونے والی خبر میں یہ حصہ شامل نہیں ہے کہ اس راکٹ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لئے کتنی لاگت برداشت کرنا پڑےگی؟ گزشتہ برس ایم ٹیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیس ایکس کے اس ٹیم کے رکن لارز بلیک مور (جس نے یہ راکٹ تیار کیا ہے) نے راکٹ کی محفوظ لینڈنگ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ یہ امر بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ ربڑ کی بنی ہوئی ایک پتلی سے لاٹھی کو تھامے ہوئے ایسے علاقے میں کھڑے ہیں جہاں بہت تیز ہوائیں چل رہی ہوں ایسے میں آسمان کے رخ پر کھڑی چھڑی کو متوازن رکھنا ہی اصل کام ہے۔ اس موقع پر جب سپیس ایکس نے راکٹ کی محفوظ لینڈنگ کا کامیاب تجربہ نہیں ہوا تھا بلیک مور کا کہنا تھا کہ ایسے راکٹ کی تیاری جو خلائی سفر کے بعد محفوظ انداز میں سپیس سٹیشن پر لینڈ کر سکے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ راکٹ کی لینڈنگ نہیں بلکہ اسے دوبارہ خلائی سفر کےلئے قابل استعمال بنانا ہے۔ سپیس ایکس نے اس سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ان کی کمپنی کی طرف سے تیار کئے جانیوالے راکٹ کو دوبارہ خلائی سفر کے لئے روانہ کرنے کے لئے دوبارہ چمکانے اور صاف ستھرا کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی تاہم چونکہ سفر کے دوران راکٹ کو ہوا کے دبائو، رگڑ اور تھرتھراہٹ برداشت کرنا پڑتی ہے تو دوبارہ سفر کے لئے اسے ضروری مرمت درکار ہو گی۔ سپیس ایکس کی جانب سے دوبارہ مرمت کے لئے اٹھنے والی لاگت کی نشاندہی تو نہیں کی گئی تاہم تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح کے منصوبوں کے لئے بہت بڑی لاگت درکار ہوتی ہے۔ ماضی میں ناسا کی جانب سے تیار کی گئی خلائی گاڑی کو بھی اسی طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ اسے دوبارہ خلائی سفر کے لئے قابل استعمال بنایا جا سکے تاہم حقیقت میں اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کے لئے بھی خاصی رقم درکار ہوتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہر نئے خلائی مشن پر 450 ملین سے 1.5 بلین ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top