Global Editions

راکٹ کو قابل استعمال بنانے کے تجربات کامیاب

پرائیویٹ سیکٹر نے خلائی سفر کو محفوظ اور آسان بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کر دیا ہے۔ سپیس ایکس اور حال ہی میں جیف بیزوز (Jeff Bezos) کی بلیو اوریجن نے باور کرا دیا ہے کہ مو ثر، محفوظ اور دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ بنائے جا سکتے ہیں اور انہوں نے یہ کر دکھایا۔ اسی طرح امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے NASA نے ایک اور نجی ادارے کی معاونت کی تاکہ وہ ایسا تجرباتی خلائی کیپسول بنا سکیں جو بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے ساتھ منسلک ہو سکے۔ اس کیپسول کا نام BEAM رکھا گیا ہے اور یہ نام Bigelow expandable activity module کا مخفف ہے۔ اس موڈول کو لاس ویگاس کی کمپنی Bigelow ایروسپیس نے تیار کیا ہے۔ یہ کیپسول بین السیاراتی مسافروں کی کمیت (کسی جسم کی خصوصیت جو کسی قوت کے زیر اثراس کے جسم میں پیدا ہونے والے اسراع کو متعین کرتی ہے) کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ خلاء بازوں کے لئے تابکاری کا سامنا کرنے کے امکانات کو کم کر سکے گا۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ مریخ تک کے خلائی سفر اور وہاں جا کر تجربات کرنے کے عمل میں انسانی خلا بازوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے کیونکہ مریخ پر انسانی خلابازوں کو ممکنہ طور پر ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ کیپسول تقریباً چار میٹر لمبا ہے اور تین میٹر چوڑا ہے۔ اس کی تیاری میں ایک لچکدار فائبر کا استعمال کیا گیا ہے جو اسے فضا میں موجود تابکاری اور خلائی ملبے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس حوالے سے مزید تجربات جاری رکھے جائیں گے اور اگر تجربات کامیاب رہے تو آئندہ دو برسوں میں یہ کیپسول اپنے پہلےخلائی سفرآغاز کریگا۔ اسی طرح سپیس ایکس کی جانب سے فالکن نائین کودوبارہ استعمال کئے جا سکنے والے راکٹ کی لینڈنگ کا کامیاب تجربہ کیا گیا یہ تجربہ بحر اوقیانوس میں ایک بحری جہاز پر کیا گیا جس میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔ سپیس ایکس کی جانب سے چھوڑے گئے راکٹ نے اس جہاز پر کامیاب لینڈنگ کی۔ اس تجربے کے کامیابی سے خلائی مشنز پر اٹھنے والے اخراجات میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

تحریر: ڈیوڈ ٹالبوٹ (David Talbot)

Read in English

Authors

*

Top